Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

دس چیزیں   ، دس کے بغیر درست نہیں   ہوسکتیں  :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ عَشَرَۃٌ لَا تَصْلُحُ بِغَیْرِ عَشَرَۃٍ یعنی دس چیزیں   دس چیزوں   کے بغیر درست نہیں   ہوسکتیں  ۔ ‘‘  پھر ارشاد فرمایا:

٭… ’’ لَا یَصْلَحُ الْعَقْلُ بِغَیْرِ وَرْعٍ یعنی تقوے کے بغیر عقل درست نہیں   ہوسکتی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا الْفَضْلُ بِغَیْرِ عِلْمٍ یعنی علم کے بغیر فضیلت درست نہیں   ہوسکتی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا الْفَوْزُ بِغَیْرِ خَشِیَّۃٍ یعنی خوفِ خدا کے بغیر کامیابی درست نہیں   ہوسکتی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا السُّلْطَانُ بِغَیْرِ عَدْلٍ یعنی اِنصاف کے بغیر بادشاہت درست نہیں   ہوسکتی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا الْحَسَبُ بِغَیْرِ اَدَبٍ یعنی اَدب کے بغیر حسب درست نہیں   ہوسکتا۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا السُّرُوْرُ بِغَیْرِ اَمْنٍ یعنی اَمن کے بغیر خوشی درست نہیں   ہوسکتی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا الْغِنٰی بِغَیْرِ جُوْدٍ یعنی مالداری بغیر سخاوت کے درست نہیں   ہوسکتی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا الْفَقْرُ بِغَیْرِ قَنَاعَۃٍ یعنی قناعت کے بغیر فقیر درست نہیں   ہوسکتا۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا الرِّفْعَۃُ بِغَیْرِ تَوَاضُعٍ یعنی عاجزی کے بغیر بلندی درست نہیں   ہوسکتی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا الْجِھَادُ بِغَیْرِ تَوْفِیْقٍ یعنی توفیق کے بغیر جہاد درست نہیں   ہوسکتا۔ ‘‘  ([1])

 

قرآن پاک حفظ کرنے کا طریقہ :

حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایاکرتے تھے:   ’’  قرآن کریم کی پانچ پانچ آیات یاد کیا کرو کیونکہ جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام پانچ پانچ آیات لے کرہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے پاس حاضر ہوتے تھے۔ ‘‘  ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ ایک مدنی سوچ تھی کہ قرآن پاک جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام جیسا لے کر نازل ہوئے اسی طرح یاد کیا جائے ،  ورنہ قرآن پاک یاد کرنے میں   آیات کو مخصوص کرنا کوئی فرض واجب نہیں   ، پانچ آیتوں   سے کم یا زیادہ بھی حفظ کی جاسکتی ہیں   ۔کیونکہ یہ طالب العلم پر بھی ہوتاہے کہ بعض طلباء کم سبق یاد کرتے ہیں   تو کئی طلبہ زیادہ سبق یاد کرنے کی بھی اضافی صلاحیت رکھتے ہیں  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کی مجلس مدرسۃ المدینہ کے تحت چلنے والے سینکڑوں   مدارس میں   ہزاروں   طلباء وطالبات حفظ وناظرہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کررہے ہیں   اور ان میں   کئی ایسے طلباء بھی ہوتے ہیں   جو روزانہ ایک صفحے سے بھی زائد سبق یاد کرکے سنانے کی ترکیب بناتے ہیں  ۔

حکومت حاصل کرنے کی حرص:

حضرت سیِّدُنا عاصم بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ مَنْ يَحْرِصُ عَلَى الْاَمَارَةِ لَمْ يَعْدِلْ فِيْهَایعنی جو شخص حکومت حاصل کرنے کی حرص رکھتا ہے وہ کبھی بھی اس میں   عدل نہیں   کرسکتا۔ ‘‘   ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اِس مبارک فرمان میں   اقتدار کی خواہش رکھنے والے لوگوں   کے لیے عبرت ہی عبرت ہے کہ اِقتدار حاصل کرنے والا بہت برے طریقے سے پھنس جاتاہے کہ کل بروز قیامت اس سے رعایا کے بارے میں   سختی سے پوچھ گچھ کی جائے گی ،  جس کی حکومت جتنی وسیع ہو گی اس کا حساب بھی اتنا زیادہ ہو گا  ،  حاکم کل بروزِ قیامت حسرت سےکہے گا :  ’’  اےکاش!ایامِ حکومت اطاعت الہٰی میں   گزارے ہوتے۔ ‘‘   حدیث مبارکہ میں   ہے:   ’’ حکومت اَمانت ہے اور یہ قیامت کے دن رُسوائی وندامت ہے سوائے اُس شخص کے جو اُسے حق کے ساتھ لے اور وہ ذمہ داریاں   پوری کرے جو اُس میں   ہیں  ۔ ‘‘   ([4])

            مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :  ’’ سلطنت وحکومت نفسانی خواہش  ، دنیاوی مال عزت کی لالچ سے طلب کرنا حرام ہے کہ ایسے طالبِ جاہ لوگ حاکم بن کر ظلم کرتے ہیں  ۔ ‘‘   ([5])

یہ بھی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک نعمت ہے:

 



[1]     المنبھات ،  ص۹۹۔

[2]     شعب الایمان   ، باب  فی تعظیم القرآن  ، فصل فی تعلیم القرآن ،  ج۲ ،  ص۳۳۱ ،  حدیث: ۱۹۵۸۔

[3]     سیر اعلام النبلاء ، الطبقۃ الثالثۃعشر ، محمد بن  ابی الحواری ، ج۱۰ ،  ص۸۹ ،  الرقم:  ۱۹۹۱۔

[4]     مسلم ،  کتاب الامارۃ ،  کراھۃ الامارۃ بغیر ضرورۃ ،  ص۱۰۱۵ ،  حدیث: ۱۶ ملتقطا۔

[5]     مرآۃ المناجیح ،  ج۵ ،  ص۳۴۸۔



Total Pages: 349

Go To