Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

والے شیطان ہیں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ مُرَّہ ڈھول ڈھمکے وگانے بجانے والے شیطان ہیں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ لَقُوْس مجوسیوں   کے شیطان ہیں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ مُسَوِّط خبروں   والے شیطان ہیں   جو لوگوں   کے درمیان ایسی الٹی سیدھی خبریں   پھیلاتے ہیں   جن کی کوئی حقیقت نہیں   ہوتی۔ ‘‘  ٭ ’’ دَاسِم وہ شیطان ہیں   جو گھروں   کے شیطان ہیں   ،  جب کوئی شخص اپنے گھر میں   داخل ہوتاہے اور سلام نہیں   کرتا اور نہ ہی اللہ کا نام لیتاہے تو یہ شیطان اس کے گھر میں   داخل ہو کر فتنہ وفساد پھیلاتے ہیں   یہاں   تک کہ اس گھر میں   طلاق ،  خلع اور مار پٹائی کی نوبت تک آجاتی ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ وَلَھَان وہ شیطان ہیں   جو وضوء کرنے والوں   اور نماز پڑھنے والوں   اور دیگر عبادات کرنے والوں   کے دلوں   میں   وسوسے پیدا کرتےہیں  ۔ ‘‘  ([1])

ہمارے لیے لمحہ فکریہ ۔۔۔!

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر کسی فوج کا سپہ سالار دو سپاہیوں   کو جنگ پر بھیجے اس طرح کہ ایک کو اس کے دشمن کا نام ،  پتہ  ،  پہچان اور دیگر تمام معالات سے مطلع کردے جبکہ دوسرے کو فقط یہ کہے کہ تم نے اپنے دشمن سے فقط جنگ لڑنی ہے البتہ وہ دشمن ہے کون؟ یہ نہیں   بتاؤں   گا تو یقیناً دوسرے کے مقابلے میں   پہلے سپاہی کے لیے جنگ لڑنا نہایت ہی آسان ہوگا کہ اسے اپنے دشمن کی مکمل معلومات حاصل ہیں  ۔قرآن پاک میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پارہ۱۲ ،  سورہ یوسف ،  آیت نمبر ۵ میں   واضح طور پر ارشاد فرمادیا کہ ’’  شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے۔ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مذکورہ بالا فرمان میں   بھی شیطان کی اولاد اور اس کے فتنوں   کے بارے میں   کافی تفصیل موجود ہے ،  اگر ہم اپنے اس حقیقی دشمن کو جاننے کے باوجود اس کے خلاف جنگ نہ کرسکیں   تو واقعی یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔۔۔!

اگر آپ چاہتے ہیں   کہ اپنے حقیقی دشمن یعنی نفس وشیطان کے خلاف بہتر اَنداز میں   جنگ کرسکیں   تو اِس کا ایک ذریعہ دعوتِ اِسلامی کا مدنی ماحول بھی ہے ،  آپ دعوتِ اِسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ،  اپنے اپنے شہروں   میں   ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں   بھرے اجتماع میں   پابندیٔ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں   کی بہاریں   لُوٹیے۔ سنتوں   کی تربیت کے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر ، گاؤں   بہ گاؤں   سفر کرتے رہتے ہیں   ، آپ بھی سنتوں   بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے نیکیوں   کا ذخیرہ اکٹھا کریں  ۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں   حیرت انگیز طور پر مدنی انقلاب برپا ہوتا دیکھیں   گے۔

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں   میں 

اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

خشوع گردنوں   میں   نہیں   دل میں   ہوتاہے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک شخص کو اپنی گردن جھکائے پایا تو اس سے ارشاد فرمایا:   ’’ يَا صَاحِبَ الرَّقَبَةِ اِرْفَعْ رَقَبَتَكَ لَيْسَ الْخُشُوعُ فِي الرِّقَابِ وَاِنَّمَا الْخُشُوعُ فِي الْقَلْبِ یعنی اے گردن نیچی رکھنے والے! اپنی گردن بلند کر کیونکہ خشوع گردنوں   میں   نہیں   دل میں   ہوتا ہے۔ ‘‘  ([2])

 کہیں   پھول کر آسمان تک نہ پہنچ جاؤ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے ایک شخص نے نمازِ فجر سے فراغت کے بعد لوگوں   کو نصیحت کرنے کی اجازت چاہی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اس کو منع فرما دیا ،  تو اس نے عرض کی:   ’’ تَمْنَعُنِي مِنْ نُصْحِ النَّاسِ؟یعنی کیا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  مجھے لوگوں   کو وعظ کرنے سے روک رہے ہیں  ؟ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ اَخْشَى اَنْ نَنْتَفِخَ حَتَّى تَبْلُغَ الثُّرَيَّایعنی مجھے خوف ہے کہ کہیں   تم پھول کر ستاروں  تک نہ پہنچ جاؤ۔ ‘‘   ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی خشوع وخضوع ظاہری رکھ رکھاؤ کا نام نہیں   کہ ظاہر میں   تو بڑا متقی پرہیزگار بنا رہے اور باطن ہمیشہ میلا رہے ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مذکورہ بالا فرامین ریاکاری پر ایک کاری ضرب ہیں  ۔افسوس !آج کل ہم اوّل تو عبادت کرتے ہی نہیں   اور اگر ٹوٹی پھوٹی عبادت کر بھی لیں   تو ناز وفخر کرتے پھولے نہیں   سماتے اور اپنے نیک اَعمال مثلا نماز ،  روزہ ،  حج ،  زکوٰۃ مساجد کی خدمت خلقِ خدا کی مدد اور سماجی فلاح وبہبود کے کاموں   کو اپنے خیال میں    ’’ کارنامہ  ‘‘  تصور کرتے ہوئے ہر جگہ چہکتے اعلان کرتے پھرتے ڈھنڈورا پیٹتے نہیں   تھکتے ۔آہ! اُن کا ذہن کس طرح بنایا جائے اُن کو تعمیری اور اَخلاقی سوچ کس طرح فراہم کی جائے اُنہیں   کس طرح باور کرایا جائے کہ اے میرے نادان اسلامی بھائیو! اس طرح بلاضرورتِ شرعی اپنی نیکیوں   کا اِعلان ریا کاری ہے اور رِیا کاری سراسر تباہ کاری ہے ایسا کرنے سے نہ صرف اَعمال برباد ہوتے ہیں   بلکہ ریاکاری کا گناہ نامۂ اَعمال میں   درج کر دیا جاتا ہے۔جبکہ اس کے برعکس تواضع ،  عاجزی واِنکساری میں   عزت وعظمت ہے ،  بلکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّعاجزی اِختیار کرنے والے کو بلندی عطا فرماتاہے۔چنانچہ  ،

تواضع کرنے والے کے لیے بلندی:

            امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   :  ’’ اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا تَوَاضَعَ لِلّٰهِ رَفَعَ اللّٰهُ حَكَمَتَهُیعنی بندہ جب  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے تواضع اختیار کرتا ہے تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی قدرومنزلت کو بلند فرمادیتاہے۔ ‘‘  ([4])

دس 10مدنی پھولوں   کا فاروقی گلدستہ

 



[1]     المنبھات  ،  ص۹۴۔

[2]     الزواجر  ، الکبیرۃ الثانیۃ ،   الشرک الاصغر ،  ج۱ ،  ص۸۶۔

[3]     الزواجر  ،  الکبیرۃ الثانیۃ ،   الشرک الاصغر ،  ج۱ ،  ص۹۶۔

[4]     الزواجر  ، الکبیرۃ الرابعۃ ،   ج۱ ،  ص۱۶۳۔



Total Pages: 349

Go To