Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

(17)رمضان میں   ذکر اللہ کرنے والے کی مغفرت:

حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ میں   نے دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتے سنا کہ :   ’’ ذَاكِرُ اللہِ فِيْ رَمْضَانَ يُغْفَرُ لَهُ وَ سَائِلُ اللہِ فِيْهِ لَا يُخَيَّبُ یعنی رمضان المبارک میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والے کی مغفرت کردی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں   سوال کرنے والے کو ناکام نہیں   لوٹایا جاتا۔ ‘‘  ([1])

(18)سلام ومصافحہ کرنے والوں   پر رحمتوں   کا نزول:

حضرت سیِّدُنا ابو عثمان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’  اِذَا الْتَقَى الْمَسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا نَزَلَتْ عَلَيْهِمَا مِائَةُ رَحْمَةٍ لِلْبَادِیْ مِنْهُمَا تِسْعُوْنَ وَ لِلْمُصَافِحِ عَشَرَةٌیعنی جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں   اور آپس میں   مصافحہ کرتے ہیں   تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پر سو ۱۰۰رحمتیں   نازل فرماتا ہے ،  نوے ۹۰رحمتیں   سلام میں   پہل کرنے والے پر اور دس ۱۰رحمتیں   مصافحہ کرنے والے پر۔ ‘‘  ([2])

(19)تین آدمی سفر کریں   تو ایک کو نگران بنالیں  :

حضرت سیِّدُنا زید بن وھب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فِيْ سَفَرٍ فَاَمِّرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدَكُمْ ذَاكَ اَمِيْرٌ اَمَرَهُ رَسُوْلُ اللہیعنی جب تم میں   کوئی تین افراد ایک ساتھ سفر کریں   تو وہ اپنے میں   سے ایک کو اپنا نگران مقرر کرلیں   کہ اس بات کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم ارشاد فرمایا۔ ‘‘  ([3])

 فاروقِ اعظم اور سود کی حرمت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ربایعنی سود حرام قطعی ہے اس کی حرمت کا منکر کافر ہے اور حرام سمجھ کر جواس کا مرتکب ہو وہ فاسق و مردودالشہادۃ ہے ، سود کی حرمت قرآن واحادیث دونوں   سے ثابت ہے۔سود لینے اوردینےوالوں   سب پر لعنت کی گئی ہے اور احادیث مبارکہ میں   سود کو اپنی ماں   کے ساتھ زنا کرنے سے بھی بدتر فرمایا گیاہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی سود کی حرمت اور اس کے احکام سے متعلق کئی احادیث مبارکہ مروی ہیں   ،  چند احادیث پیش خدمت ہیں  ۔

فاروقِ اعظم اور سود کے بارے میں   علم :

حضرت سیِّدُنا قاسم بن محمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّكُمْ تَزْعُمُوْنَ اَنَّا لَا نَعْلَمُ اَبْوَابَ الرِّبَا یعنی تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ ہم ربا کے مسائل کے بارے میں   کچھ نہیں   جانتے ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلِاَنْ اَكُوْنَ اَعْلَمَهَا اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ اَنْ يَكُوْنَ لِيْ مِثْلَ مِصْرَ وَكَوْرِهَا حالانکہ ربا کے مسائل جاننا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں   شہر مصر یا اس کے اطراف کا مالک بن جاؤں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’  وَمِنَ الْاُمُوْرِ اُمُوْرٌ لَا يَكِدْنَ يَخْفِيْنَ عَلٰى اَحَدٍ اور سود کے مسائل تو ایسے بدیہی ہیں   کہ وہ کسی پر مخفی نہیں   ہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ هُوَ اَنْ يَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْوَرَقِ نَسِيْئًا وَاَنْ يَبْتَاعَ الثَّمَرَةَ وَهِيَ مَعَصْفَرَةٌ لَمْ تُطَبْ مثلا سونے کو چاندی کے بدلے ادھار پر بیچنا اور پھلوں   کی بیع کرنا اس حال میں   کہ وہ پیلے ہوں    ،  خشک نہ ہوئے ہوں   ۔ ‘‘  ([4])

سود کے مختلف مسائل اور فاروقِ اعظم:

حضرت سیِّدُنا محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چاندی کی چاندی کے ساتھ بیع سے منع فرمایا مگر یہ کہ وہ برابر برابر ہو۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یا حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:  ’’ اِنَّهَا تُزَيَّفُ عَلَيْنَا الْاَوْرَاقُ فَنُعْطِي الْخَبِيْثَ وَنَأْخُذُ الطَّيِّبَ یعنی (اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ !)ا س طرح تو ہمیں   کھوٹی چاندی دی جائے گی  ،  ہم تو کھوٹے سکے دیتے ہیں   اور عمدہ لیتے ہیں  ۔ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَا تَفْعَلُوْا وَلٰكِنْ اِنْطَلِقْ اِلَى الْبَقِيْعِ فَبِعْ  ثَوْبَکَ بِوَرْقٍ اَوْ عَرْضٍ یعنی ایسا نہ کیا کرو بلکہ بقیع کے بازار میں   جاکر کپڑے کو چاندی یا کسی اور چیز کے بدلے بیچ دیا کرو۔ ‘‘   پھر فرمایا:  ’’ فَاِذَا قَبَضْتَهُ وَكَانَ لَكَ بَیْعُهُ فَاهْضُمْ مَا شِئْتَ ،  وَخُذْ وَرْقًا اِنْ  شِئْتَ یعنی جب تم کسی چیز پر مکمل قبضہ کرلو اور اس کی بیع تمہارے لیے ہوجائے تو اس میں   سے جو چاہے چھوڑ دو اور جتنی چاہے چاندی لے لو۔ ‘‘  ([5])

سود اور جس میں   سود کا شبہ ہو اس کو چھوڑ دو :

حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ سود کو چھوڑو اور جس میں   سود کا



[1]     شعب الایمان للبیھقی ،  باب فی الصیام ،  فضائل شھر رمضان ،  ج۳ ،  ص۳۱۱ ،  حدیث: ۳۶۲۷۔

[2]     شعب الایمان للبیھقی ،  باب فی مقاربۃ۔۔۔الخ ،  فصل فی المصافحۃ۔۔۔الخ ،  ج۶ ،  ص۴۷۶ ،  حدیث: ۸۹۶۱۔

[3]     مسند بزار ،  مما روی زید بن وھب ،  ج۱ ،  ص۴۶۲ ،  حدیث: ۳۲۹۔

[4]     مصنف عبد الرزاق ،  کتاب البیوع ،  باب السلف فی الحیوان  ،  ج۸ ، ص ۲۰ ،  حدیث: ۱۴۲۳۸۔

[5]     مصنف عبد الرزاق ،  کتاب البیوع ،  باب السلف فی الحیوان  ،  ج۸ ،  ۹۷ ،  حدیث: ۱۴۶۴۶۔



Total Pages: 349

Go To