Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

(9)چالیس رات باجماعت تکبیر اولی کے ساتھ نماز کا اجر:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدٍ جَمَاعَةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لَا تَفُوتُهُ الرَّكْعَةُ الْأُوْلٰى مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ كَتَبَ اللّٰهُ لَهُ بِهَا عِتْقًا مِنْ النَّارِیعنی جو شخص چالیس راتیں  نماز عشاء پہلی رکعت فوت کیے بغیرادا کرے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دیتا ہے۔ ‘‘  ([1])

(10)مریض کی دعا ملائکہ کی دعا کی طرح ہے:

حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِذَا دَخَلْتَ عَلَى مَرِيضٍ فَمُرْهُ اَنْ يَّدْعُوَ لَكَ فَاِنَّ دُعَاءَهُ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِیعنی اے عمر! جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو اسے کہو کہ وہ تمہارے لیے دعا کرے کیونکہ مریض کی دعا ملائکہ کی دعا کی طرح ہے۔ ‘‘  ([2])

(11)ذخیرہ اندوزی کی آفت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام حضرت سیِّدُنافَرُّوخْ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہسرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامًا ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ وَالْاِفْلَاسِ یعنی جو شخص مسلمانوں   کو نقصان پہنچانے کے لیے خوراک کی ذخیرہ اندوزی کرے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جذام کے مرض اور مفلسی میں   مبتلا فرمادے گا۔ ‘‘  ([3])

(12)تمہیں   پرندوں   کی طرح رزق دیا جائے گا:

حضرت سیِّدُنا ابو تمیم جیشانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرُزِقْتُمْ كَمَا يُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًایعنی اگر تم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر جیسا توکل کرنے کا حق ہے ویسا توکل کرو تو وہ تمہیں   ایسے رزق عطا فرمائے گا جیسے پرندوں   کو رزق عطا فرماتا ہے کہ وہ صبح بھوکے پیاسے جاتے ہیں   لیکن جب شام کو گھر لوٹتے ہیں   تو ان کا پیٹ بھرا ہوتاہے۔ ‘‘  ([4])

(13)جو جمعہ کے لیے آئے غسل کرکے آئے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ یعنی تم میں   سے جوبھی جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے اسے چاہیے کہ وہ غسل کرلے۔ ‘‘  ([5])

(14)انبیاء کرام کی وراثت نہیں   ہوتی:

حضرت سیِّدُنا مالک بن اوس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا صَدْقَةًیعنی ہم انبیاء کی وراثت نہیں   ہوتی بلکہ جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں   وہ تمام صدقہ ہے۔ ‘‘  ([6])

(15)بازار میں   چوتھا کلمہ پڑھنے والے کااجر:

حضرت سیِّدُنا سالم بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَنْ قَالَ فِیْ سُوْقٍ جَامِعٍ یُبَاعُ فِیْہِ یعنی جو شخص خریدوفروخت والے بازار میں   یہ کہے: لَا اِلَهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   ،  اس کا کوئی شریک نہیں   ،  اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں   ہیں   ،  وہ زندہ کرتا اور مارتاہے اور وہ زندہ ہے اسے کبھی موت نہ آئے گی ،  اس کے ہاتھ میں   بھلائی ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔ کَتَبَ اللہُ لَہُ اَلْفَ اَلْفِ حَسَنَۃٍ وَمَحَا عَنْہُ اَلْفَ اَلْفِ سَیِّئَۃٍ وَبَنَی لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسے شخص کے لیے دس لاکھ نیکیاں   لکھ دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے لیے جنت میں   ایک گھر بنا دیتا ہے۔ ‘‘  ([7])

(16)مجھے اپنی امت پر منافق کا خوف ہے:

حضرت سیِّدُنا ابو عثمان نھدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّمَا اَخَافُ عَلٰى هٰذِهِ الْاُمَّةِ كُلَّ مُنَافِقٍ يَتَكَلَّمُ بِالْحِكْمَةِ وَ يَعْمَلُ بِالْجَوْرِیعنی مجھے اپنی امت پر ایسے منافقین کا خوف ہے جو باتیں   تو بڑی حکمت ودانائی والی کریں   گے لیکن ان کے اعمال فاسقوں   وفاجر وں   والے ہوں   گے۔ ‘‘  ([8])

 



[1]     ابن ماجہ ،  کتاب المساجد والجماعات ،  باب صلاۃ العشاء والفجر فی جماعۃ ،  ج۱ ،  ص۴۳۷ ،  حدیث: ۷۹۸۔

[2]     ابن ماجہ ،  کتاب ما جاء فی الجنائز ،  باب ما جاء فی عیادۃ المریض ،  ج۲ ،  ص۱۹ ،  حدیث: ۱۴۴۱۔

[3]     ابن ماجہ ،  کتاب التجارات ،  باب الحکرۃ والجلب ،  ج۳ ،  ص۱۵ ،  حدیث: ۲۱۵۵۔

[4]     ترمذی ،  کتاب الزھد عن رسول اللہ ،  باب فی التوکل علی اللہ ،  ج۴ ،  ص۱۵۴ ،  حدیث: ۲۳۵۱۔

[5]     سنن کبری ،  کتاب الجمعۃ ،  ایجاب الغسل۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۵۲۱ ،  حدیث: ۱۶۷۵۔

[6]     سنن کبری للنسائی ،  کتاب الفرائض ،  ذکر مواریث۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۶۴ ،  حدیث: ۶۳۰۷۔

[7]     شرح السنۃ للبغوی ،  کتاب الدعوات ،  باب ما یقول۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۱۲۸ ،  حدیث: ۱۳۳۲۔

[8]     شعب الایمان للبیھقی ،  باب فی نشر العلم ،  فصل فی انہ ینبغی۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۲۸۴ ،  حدیث: ۱۷۷۷۔



Total Pages: 349

Go To