Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سیدتناعائشہ (50)اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ۔(رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )

آپ سے روایت کرنے والے تابعین:

(1)…آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیِّدُنا عاصم بن عمر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ 

(2)…حضرت سیِّدُنا مالك بن اوس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ 

(3)…حضرت سیِّدُنا علقمہ بن وقاص رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ 

(4)…حضرت سیِّدُنا ابو عثمان نهدى رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ 

(5)…آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے آزاد کردہ غلام حضرت سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ 

(6)…حضرت سیِّدُنا قيس بن ابى حازم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ۔([1])

فاروقِ اعظم سے مروی  احادیث مبارکہ

 ’’ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ‘‘   کے 19 حروف کی نسبت سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی انیس احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں  :

(1) اعمال کا دارومدار نیتوں   پر ہے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سب سے مشہور ومعروف روایت صحیح البخاری کی سب سے پہلی حدیث مبارکہ ہے ، جس کا عنوان نیت ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علقمہ بن قیس لیثی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سےروایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ میں   نے دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتے سنا:   ’’ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيیَّاتِ وَاِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ ھِجْرَتُہُ اِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوْاِلٰی اِمْرَاَۃٍ یَنْكِحُھَا فَهِجْرَتُہُ اِلَی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں   پر ہے اور ہرایک کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی تو پس جس نے دنیا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی ،  یا عورت سے نکاح کرنے کےلیے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی طرف ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی نیت کی۔ ‘‘  ([2])           

(2) حدیث جبریل ،  ارکان اسلام :

حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن یعمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایاکہ ایک دن ہم بارگاہِ رسالت میں   حاضر تھے کہ اچانک ایک ایسا شخص آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے ،  اس کے بالوں   کا رنگ کالا سیاہ تھا ،  البتہ اس کے چہرے پر کسی قسم کے سفر وغیرہ کے کوئی آثار نہ تھے اور ہم میں   سے کوئی بھی اسے اس حلئے سے نہیں   جانتا تھا۔وہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بالکل سامنے آکر اس طرح بیٹھ گیا کہ اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مبارک گھٹنوں   کے ساتھ ملا دیے اور اپنے ہاتھوں   کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مبارک رانوں   پر رکھ لیا۔

٭… پھر عرض کرنے لگا:   ’’ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! مجھے اسلام کے بارے میں   بتائیے۔ ‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّكَاۃَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا یعنی اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اور بے شک محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں   اور نماز قائم کرو ،  زکوۃ ادا کرو ،  رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرواگر اس کی طرف جانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ‘‘   یہ سن کر اس نے کہا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   ! آپ نے سچ فرمایا۔ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں   کہ ہم بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیسا شخص ہے جو خود ہی سوال کرتا ہے اور خود ہی تصدیق بھی کرتا ہے۔

٭…اس نے دوسرا سوال کرتے ہوئے عرض کیا:   ’’ فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! مجھے ایمان کے بارے میں   بتائیے۔ ‘‘   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِكَتِہٖ وَكُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَیْرِہٖ  وَشَرِّہٖ یعنی ایمان یہ ہے کہ تم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں   اور اس کے رسولوں   اور قیامت کے دن اور اچھی بری ہر تقدیر پر ایمان لاؤ۔ ‘‘   

٭…اس نے پھر عرض کیا:   ’’ فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! مجھے احسان کے بارے میں   بتائیے۔ ‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَنْ تَعْبُدَ اللہَ كَاَنَّكَ تَرَاہُ فَاِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاكَ یعنی احسان یہ ہے کہ تم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس طرح عبادت کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں   دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں   دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ 

٭… اس نے پھر عرض کیا:   ’’ فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! مجھے قیامت کے بارے میں   بتائیے۔ ‘‘   ارشاد فرمایا:   ’’ مَا الْمَسْئُولُ عَنْھَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ یعنی مسئول سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں  ۔ ‘‘ 

٭…اس نے پھر عرض کیا:   ’’ فَاَخْبِرْنِیْ عَنْ اَمَارَتِهَا یعنی پھر قیامت کی کچھ نشانیوں   کے بارے میں   ہی بتا دیجئے۔ ‘‘  ارشاد فرمایا:   ’’ اَنْ تَلِدَ الْاَمَۃُ رَبَّتَھَا وَاَنْ تَرَى الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ



[1]     تھذیب الاسماء   ،  عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۳۲۵۔

[2]     بخاری ،  کتاب بدء الوحی ،  باب کیف۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۵ ،  حدیث: ۱۔



Total Pages: 349

Go To