Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ تَعَلَّمَ عُمَرُ الْبَقَرَۃَفِیْ اِثْنَتَیْ عَشَرَةَ سَنَۃً فَلَمَّا خَتَمَھَا نَحَرَ جَزُوْرًا یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ سے بارہ سال میں   سورۂ بقرہ پڑھی اور جب سورۂ بقرہ مکمل ہوگئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے شکرانے میں   ایک اونٹنی ذبح فرمائی۔ ‘‘  ([1])

محافل ختم قرآن جائز ہیں  :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا آج کل مدنی منے و مدنی منیوں   کے ناظرہ یا حفظ قرآن پاک ختم کرنے پر  ’’ ختم قرآن کی محافل ‘‘  منعقد کی جاتی ہیں   ،  اس میں   حمدونعت وبیان اور لنگر وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے ،  یا نیاز دلائی جاتی ہے یہ تمام اُمور بالکل جائز ہیں۔

فاروقِ اعظم کا سورۃ النصر کی تفسیرکے متعلق استفسار:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قرآن پاک کی تفسیر کے گہرے علم کا اس بات سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر اوقات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلیل القدر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے قرآن پاک کی مختلف آیات کی تفسیر کے متعلق تفسیری مباحثہ فرماتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے اصحاب سے سورۃ النصر یعنی اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ کی تفسیر پوچھی تو انہوں   نے عرض کیا:  ’’ فَتْحُ الْمَدَائِنِ وَالْقُصُورِ یعنی اس سے مختلف شہروں   اور محلات کی فتح مراد ہے۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے استفسار فرمایا تو میں   نے عرض کیا:   ’’ اَجَلٌ یعنی اس سے مراد زندگی کی مدت ہے ،  یا یہ مثال رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے لیے بیان کرکے آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کی خبر دی گئی ہے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی قرآن فہمی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام نجدہ سے روایت ہے کہ ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ کے بازار میں   تھے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک کھجور کا ٹکڑا زمین پر پڑا ہوا نظر آیا ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے اٹھاکر صاف کیا۔ پھر ایک حبشی کو وہ کھجور کا ٹکڑا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اُطْرُحْ هٰذِهٖ فِيْ فِيْكَ یعنی یہ لو منہ میں   ڈال لو۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جو قریب ہی موجود تھے عرض کرنے لگے:   ’’ اے امیر المؤمنین! یہ کیا ہے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ یہ کھجور کا ایک ذرہ سا ٹکڑا ہے یا اس سے بڑا ہے؟ ‘‘   عرض کیا:   ’’ حضور! یہ ذرے سے بڑا ہے۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ کیا تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان کا مفہوم سمجھتے ہو جس میں   ذرے کا ذکر ہے:  (اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۚ-وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا(۴۰))  (پ۵ ،  النساء: ۴۰) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اللہ ایک ذرّہ بھر ظلم نہیں   فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اُسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔ ‘‘  (مراد یہ ہے کہ )کسی کام کی ابتداء ذرہ بھر سے ہوتی ہے مگر اس کا انجام اجر عظیم ہوتا ہے۔([3])

فاروقِ اعظم سے منقول تفسیر قران

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے قرآن پاک کی کثیر آیتوں   کی تفسیر منقول ہے ،  لیکن طوالت سے بچتے ہوئے  ’’ فاروقِ اعظم ‘‘  کے ۹حروف کی نسبت سے فقط ۹ آیات کی تفسیر پیش خدمت ہے:  

(1)شہوات سے بچنے والے کے لیے بشارت:  

حضرت سیِّدُنا مجاہد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا:  ’’ کیا وہ شخص بہتر ہے جس میں   گناہ کرنے کی خواہش ہی نہ ہو اور نہ ہی وہ گناہ کرے یا وہ بہتر ہے جس میں   گناہ کی خواہش تو ہو مگر وہ گناہ کرنے سے بچے؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ جن میں   گناہ کی خواہش ہے مگر اس سے بچتے ہیں   ان کے بارے میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے :  (اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳)) (۲۶ ،  الحجرات: ۳)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ وہ ہیں   جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لئے پرکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ ‘‘  ([4])

(2)تمام  امتوں   میں   بہتر لوگ:

(كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ-وَ  لَوْ  اٰمَنَ  اَهْلُ  الْكِتٰبِ  لَكَانَ  خَیْرًا  لَّهُمْؕ-مِنْهُمُ  الْمُؤْمِنُوْنَ  وَ  اَكْثَرُهُمُ  الْفٰسِقُوْنَ(۱۱۰))  (پ۴ ،   آل عمران: ۱۱۰)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ تم بہتر ہو اُن سب امتوں   میں   جو لوگوں   میں   ظاہر ہوئیں   بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر کتابی ایمان لاتے تو اُن کا بھلا تھا اُن میں   کچھ مسلمان ہیں   اور زیادہ کافر۔ ‘‘ 

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےارشاد فرمایا:   ’’ لَوْ شَاءَ اللہُ لَقَالَ اَنْتُمْ فَكُنَّا كُلُّنَا وَ لٰكِنْ قَالَ كُنْتُمْ خَاصَّۃً فِیْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ صَنَعَ مِثْلَ صَنِیْعِھِمْ كَانُوْا خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ یعنی اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہتا تو  ’’ کُنْتُم ‘‘   کے بجائے  ’’ اَنْتُمْ ‘‘   فرماتا ،  پھر ہم تمام لوگ مراد ہوتے ،  لیکن   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے  ’’ کُنْتُمْ



[1]     سیر اعلام النبلاء ، عمر بن الخطاب ، ج۱ ، ص۵۲۰ ،  الرقم:  ۳۔

                                                 شرح زرقانی علی الموطا ،  کتاب القرآن ،  باب ما جاء۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۲۹ ،  تحت الحدیث: ۴۸۰۔

[2]     بخاری ،  کتاب التفسیر ،  باب ورایت۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۳۹۱ ،  حدیث: ۴۹۶۹۔

[3]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۳۱۴۔

[4]     تفسیر ابن کثیر ،  پ۲۶ ، الحجرات ،  تحت الآیۃ:  ۳ ،  ج۷ ،  ص۳۴۴۔



Total Pages: 349

Go To