Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بذات خود اشعار بہت ہی کم کہا کرتے تھے۔ اپنے سفروں   میں   بہت ہی خوش الحانی کے ساتھ اشعار پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابراہیم مروزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا ابومسعود انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ تمام حضرات اپنے سفروں   کے دوران خوش الحانی سے اشعار پڑھا کرتے تھے۔ ‘‘   ([1])

فاروقِ اعظم کو اشعار کی تنقیح میں   مہارت تھی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اشعار کی تنقیح یعنی کانٹ چھانٹ کرکے ان کی نوک پلک سنوارنے میں   اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ چنانچہ ابن رشیق نے اپنی کتاب  ’’ اَلعُمدَۃُ فِی مَحَاسِنِ شُعرَائِہِ وَآدَابِہِ ‘‘   میں   لکھا ہے کہ:   ’’ کَانَ مِنْ اَنْقَدِ اَھْلِ زَمَانِہٖ لِلشِّعْرِ وَاَنْفَذِھِمْ فِیْہِ مَعْرِفَۃً یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے زمانے میں   اشعار کے سب سے بڑے نقاد ونفاذ یعنی کانٹ چھانٹ کرنے والے تھے۔ ‘‘   ([2])

فاروقِ اعظم اور علم المکاشفۃ

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بارگاہِ رب العزت سے کشف کا بھی علم عطا ہوا تھا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مختلف لوگوں   کے مختلف قلبی احوال پر مطلع ہوجاتے تھے ،  اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بسا اوقات لوگوں   کے مخفی احوال ظاہر بھی فرمادیتے تھے۔ چنانچہ ،  

فاروقِ اعظم پر مولاعلی کا خواب ظاہر ہوگیا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کشف سے متعلق حضرت سیِّدُنا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے ایک پورا باب قائم کیا ہے جس میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کشف سے متعلق کئی واقعات ذکر کیے ہیں   جن میں   مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکا بھی ایک نہایت ہی دلچسپ واقعہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رات خواب میں   حضورنبی رحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک سے کھجوریں   کھائیں   اور صبح سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر آپ کا وہ خواب ظاہر ہوگیا۔([3])

فاروقِ اعظم اور علم القیافۃ

دو مختلف چیزوں   (باپ بیٹا ،  اصل فرع وغیرہ ) میں   سے ایک چیز کے بعض معاملات پر مطلع ہونے کے بعد دوسری شے کے معاملات کو خود ہی جان لینے کو  ’’ علم القیافہ ‘‘   کہتے ہے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ علم بھی حاصل تھا۔ چنانچہ  ،

رشتہ داری کی پہچان:

آپ کی بارگاہ میں   ایک شخص حاضر ہوا اور سلام کیاتو آپ نے سلام کا جواب دینے کے بعد اس سے استفسار فرمایا:   ’’ کیا تمہارے اور اہل نجران کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے؟ ‘‘   اس نے عرض کیا:   ’’ نہیں  ۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ ضرور ہے۔ ‘‘  اس نے پھر انکار کیا تو فرمایا:   ’’   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ضرور ہے۔ ‘‘   راوی کہتے ہیں   کہ ہرمسلمان جانتا تھا کہ اس کے اور اہل نجران کے درمیان رشتہ داری ہے لہٰذا ایک شخص نے وضاحت کرتے ہوئے عرض کیا:   ’’ اے امیر المؤمنین! اس کے اور اہل نجران کے درمیان رشتہ داری ضرور ہے لیکن اس اس واقعے سے قبل تھی۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے فرمایا:   ’’ مَهْ فَاِنَّا نَقْفُو الْآثَارَ یعنی تم رہنے دو ہمیں   نہ بتاؤ ،  ہمیں   نشانیوں   سے خود ہی پتہ لگ جائے گا۔ ‘‘  ([4])

دو بھائیوں   کی پہچان:

حضرت سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے ایک لمبے بالوں   والا لحیم ،  شحیم(لمبا ،  چوڑا) شخص گزرا  ،  پھر اس کے پیچھے ایک اور شخص گزاراجو چھوٹے بالوں   والا اورکمزور و دبلا پتلا تھا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان دونوں   کے متعلق فرمایا:   ’’ یہ دونوں   بھائی ہیں  ۔ ‘‘  جب معلوم کیا گیا تو واقعی وہ دونوں   بھائی ہی نکلے۔([5])

فاروقِ اعظم اور علم التفسیر

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر جب قرآن پاک کی کوئی آیت وغیرہ نازل ہوتی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے سامنے اس کی تلاوت فرماتے اور کاتبان وحی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اس آیت مبارکہ کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کے مطابق ترتیب سے لکھ لیتے۔ نیز رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بذات خود یا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے استفسار پر اس آیت مبارکہ کی تفسیر بھی بیان فرمادیتے ۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چونکہ کاتب وحی تھے اور بارگاہِ رسالت میں   قرآن پاک کی کتابت کرتے تھے اس لیے یقینا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آیات مبارکہ کے بعد اس کی تفسیر سے بھی مطلع ہوتے تھے اور بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہِ اقدس سے قرآن پاک کی تفسیر پڑھی۔کئی روایات میں   تو اس کی صراحت موجود ہے۔ چنانچہ  ،

سورۃ البقرہ بارہ سال میں   رسول اللہ سے پڑھی:

 



[1]     کف الرعاع ،  ص۳۷ ،  فتاویٰ رضویہ ،  ج۲۳ ، ص۳۷۲۔

[2]     العمدۃ فی محاسن شعرائہ وآدابہ ،  باب فی آداب اشعار الخلفاء ،  ص۱۰۔

[3]     تفصیلی واقعہ کے لیے اسی کتاب کے صفحہ۱۳۵ کا مطالعہ کیجئے۔

[4]     طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۲۰۔

[5]     انساب الاشراف ،  بن مرۃ بن کعب ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۳۷۷۔



Total Pages: 349

Go To