Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  شام میں   حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علمی فیضان سے لوگ فیضیاب ہوتے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کے علاوہ بقیہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تربیت یافتہ تھے۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کے تلامذہ:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خصوصی شاگرد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صحبت میں   ایک گھڑی بیٹھنا میرے نزدیک ایک سال عمل کرنے سے بھی زیادہ مفید ہے۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کے مسائل فقہیہ کی تعداد:

چونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خلافت میں   فتوحات کی بہت کثرت ہوئی اور لوگوں   کو شرعی معاملات بہت زیادہ پیش آئے اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآن وسنت میں   اجتہاد کے ذریعے کثیر مسائل اخذ فرمائے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وہ مسائل فقہیہ جو صحیح روایات سے ثابت ہیں   ہزاروں   کی تعداد میں   ہیں  ۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ وھم چنیں   مجتھدین در رؤس مسائل فقہ ،  تابع مذھب فاروق اعظم اند وایں   قریب ھزار مسئلہ باشد تخمینا یعنی مجتہدین کے وہ مسائل فقہیہ جو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مسلک کے مطابق ہیں   ان کی تعداد تقریباًایک ہزار ہے۔ ‘‘   ([2])

فاروقِ اعظم اور علم اصول الفقہ

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نہ صرف ہزاروں   مسائل کے جزئیات کی تدوین کی بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآن وحدیث سے ان مسائل کو اخذ کرنے کے اصول وضوابط بھی مقرر فرمائے جو آج بھی اصول فقہ کے نام سے تدریسی کتب میں   موجود ہیں  ۔چاروں   مسالک حقہ فقہ حنفی ،  فقہ شافعی ،  فقہ حنبلی اور فقہ مالکی کے تمام فقہی مسائل کا دارومدار انہیں   اصولوں   پر ہے۔ اصول فقہ چار ہیں  :  قرآن ،  حدیث ،  اجماع اور قیاس۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فقہی مسائل کے استنباط میں   خود بھی ان پر عمل کیا اور اپنے تمام ماتحت حاکموں   کو بھی اس کی تلقین فرمائی۔کوئی بھی مسئلہ تلاش کرنا ہوتا تو اوَّلاً آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ قرآن پاک میں   دیکھتے ،  ثانیاً رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرامین میں   ،  ثالثا تمام کبار اور فقہاء صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو جمع کرتے اور ان کی رائے معلوم کرتے اور پھر اکثریت پر فیصلہ فرمادیتے اور اگر ان تینوں   میں   سے کوئی صورت نہ ہوتی تو قیاس کے ذریعے خود ہی مسئلہ اخذ کرکے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے سامنے پیش فرمادیتے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قضا کے متعلق جو تحریر بھیجی اس میں   یوں   تھا:   ’’ اَلْفَهْمَ اَلْفَهْمَ فِيمَا یَخْتَلِجُ فِیْ صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ یَبْلُغْكَ فِی الْكِتَابِ وَالسُّنَّۃِ اِعْرِفِ الْاَمْثَالَ وَالاَشْبَاہَ ثُمَّ قِسِ الاُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ فَاعْمَدْ عِنْدَ اَحَبِّهَا اِلَى اللہِ وَ اَشْبَھِھَا بِالْحَقِّ یعنی اسے اچھی طرح سمجھ لو کہ جس مسئلہ میں   تمہیں   قرآن وحدیث کا کوئی حکم واضح نہ ملے تو اس کی امثال اور اشباہ پر غور کرو پھر مختلف امور میں   قیاس کرو اور پھر اس پر اعتماد کرو جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے زیادہ قریب اور حق کے زیادہ مشابہ ہو۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم اور علم القضاء

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس علم القضاء تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم صلاحیت تھی جو یقیناً ہر ایک کا منصب نہیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منصب قضاء کی تمام شرائط کے جامع تھے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے تربیت یافتہ عمال اور گورنربھی اس عہدے کو بحسن خوبی سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔بلکہ اگر یوں   کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قیامت تک آنے والے شرعی قاضی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ہی کے فیضان کرم سے منصب قضا کی ذمہ داریوں   کو بطریق احسن ادا کرتے رہیں   گے۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار اس امت کے قاضیوں   میں   ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علی بن مدینی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ قُضَاةۃُ الْاُمَّۃِ اَرْبَعَۃٌ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِیٌّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ وَزَیْدٌ بْنُ ثَابِتٍ وَاَبُوْ مُوْسٰی اَلْاَشْعَرِیُّ یعنی امت کے قاضی صرف چار ہیں  :  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم اورعلم الشعر

فاروقِ اعظم علم الشعر کے سب سے بڑے عالم:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم الاشعار میں   بھی مہارت تامہ رکھتے تھے ،  چنانچہ جاحظ نے اپنی کتاب  ’’ البیان والتبیین ‘‘   میں   لکھا ہے:   ’’ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَعْلَمُ النَّاسِ بِالشِّعْرِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں   میں   علم الشعر کے سب سے بڑے عالم تھے۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم دوران سفر اشعار پڑھتے تھے:

 



[1]     الاستیعاب  ، عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۹۔

[2]     ازالۃ الخفاء ،  ج ۳ ،  ص۳۰۴۔

[3]     دار قطنی ،  کتاب فی الاقضیۃ والاحکام ،  کتاب عمر۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۲۴۳ ،  حدیث: ۴۴۲۵ مختصرا۔

[4]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۳۲ ،  ص۶۵۔

[5]     البیان والتبیین ،  ج۱ ،  ص۲۳۹۔



Total Pages: 349

Go To