Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

طریقے سے اداکرتے تھے۔ ایسے میں   اگر قرآن کریم کسی خاص لغت پر اتار دیا جاتا اور یہ حکم ہوتا کہ صرف اسی لغت اور لہجے میں   قرآن پڑھا جائے دوسرے میں   نہیں   تویہ امر امت کے لیے مشقت کا باعث ہوتا۔ اس لیے قرآن کریم اِنہی سات معروف لغات پر پڑھنے کی اجازت دے دی گئی جنہیں   اب قراء ت سبعہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔برصغیر پاک وہند میں   جو قراءت رائج ہے وہ  ’’ قراءت عاصم بروایت حفص  ‘‘   ہے اور اسی پر قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے۔

فاروقِ اعظم اور علم الفقہ

فاروقِ اعظم دین کے سب سے بڑے فقیہ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سبب جس قدر مسائل شرعیہ دین اسلام میں   ظاہر اور رائج ہوئے اتنے کسے صحابی کے سبب ظاہر نہ ہوئے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بذات خود علمی سوالات کیا کرتے تھے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے جوابات ارشاد فرماتے  ،  اسی طرح خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دور میں   بھی آپ کا یہ ہی انداز رہا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی شرعی معاملات ومسائل میں   بھرپور معاونت فرمائی۔ آپ نے بذات خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تمام علوم حاصل کیے تھے اس لیے جب آپ کا دورِ خلافت آیا تو آپ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ فیض خلقِ خدا تک کما حقہ پہنچایا۔جلیل القدر صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دین کا سب سے بڑا فقیہ تسلیم کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ اِنَّ عُمَرَ کَانَ اَفْقَھَنَا فِیْ دِیْنِ اللہِ یعنی بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم میں   دین کے سب سے بڑے فقیہ تھے۔ ‘‘  ([1])

عہدِ رسالت میں   صرف چار مفتی تھے:

حضرت سیِّدُنا صفوان بن سلیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں  :   ’’ لَمْ یَكُنْ  یُفْتِی فِیْ زَمَنِ النَّبِیِّ صَلَّی  اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمَ غَیْرَ عُمَرَ وَعَلِیٍّ وَمَعَاذٍ وَاَبِیْ مُوْسٰی یعنی عہدِ رسالت میں   صرف چار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ہی فتوی دیا کرتے تھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   ،  حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۔ ‘‘  ([2])

صحابہ کرام میں   چھ صحابہ فقہ کے امام تھے:

صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ایسے تھے جو فقہ کے امام مانے جاتے تھےا ور تمام لوگ مسائل فقہیہ میں   ان ہی کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ نیز ان تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے مسائل ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے تھے۔ چنانچہ جلیل القدر محدث حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  ارشاد فرماتے ہیں  :

٭… ’’ كَانَ العلمُ یُؤْخَذُ عَنْ ستَّۃٍ مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللہِ یعنی چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ایسے تھے جن سے لوگ مسائل وغیرہ پوچھتے اور علم حاصل کیا کرتے تھے۔

٭… ’’ كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللہ وَزَیْدٌیُشْبِہُ عِلْمُهُمْ بَعْضاً  وَكَانَ يَقْتَبِسُ بَعْضُھُمْ مِّنْ بَعْضٍ یعنی ان میں   سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان تمام کے مسائل آپس میں   ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے تھےاوریہ ایک دوسرے سے مسائل پر تبادلہ خیال بھی کرتے تھے۔

٭… ’’ كَانَ عَلِیٌّ وَالْاَشْعَرِیُّ واُبَیٌّ یُشْبِہُ عِلْمُهُمْ بَعْضُھُمْ بِبَعْضٍ وَكَانَ یَقْتَبِسُ بَعْضُهُمْ مِّنْ بَعْضٍ اور ان میں   سے امیر المؤمنین مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  اور حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں   اور ان تمام کے مسائل آپس میں   ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے تھے اور یہ ایک دوسرے سے مسائل پر تبادلہ خیال بھی کرتے تھے۔ ([3])

ایک اہم وضاحت:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا دونوں   روایتوں   کو پڑھ کر ذہن میں   یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی تعداد ہزاروں   میں   ہے ،  یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صرف چار یا چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ہی لوگوں   کو مسائل بتاتے ہوں   یا فقہی سوالات کے جوابات دیتے ہوں  ؟ تو واضح رہے کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ہی سرچشمۂ ہدایت ہیں  ۔البتہ مذکورہ بالا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  مجتہد اور فقیہ تھے یعنی وہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  تھے جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے فیض سے قرآن وسنت میں   اجتہاد کرکے خود مسائل اخذ کرلیتے تھے جبکہ بقیہ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ان کے شاگر د تھے اور یقیناً وہ تمام بھی امت مسلمہ کی رہنمائی فرماتے تھے۔ورنہ آج پوری دنیا میں   علم کا یہ نور کبھی نظر نہ آتا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ائمہ فقہ فاروقِ اعظم کے تربیت یافتہ تھے:

مکہ مکرمہ ،  مدینہ منورہ ،  بصرہ ،  کوفہ اور شام فقہ کے مراکز کہلاتے تھے۔ مکہ مکرمہ میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  مدینہ منورہ میں   حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ و حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  کوفہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   ،  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ



[1]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۲۱۔

[2]     تذکرۃ الحفاظ  ،  ج۱ ،  ص۲۳۔

[3]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۳۲ ،  ص۶۴ ،  تذکرۃ الحفاظ  ،   ج۱ ،  ص۲۲۔



Total Pages: 349

Go To