Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

درست  ’’ نَحْنُ مُتَعَلِّمُوْنَ ‘‘  تھا ،  لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَحْنُكُمْ اَشَدُّ مِنْ سُوْءِ رَمْیِكُمْ یعنی تمہاری زبان کی غلطی تمہاری تیر اندازی کی غلطی سے زیادہ بری ہے۔ ‘‘   پھر ارشاد فرمایا کہ میں   نے دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتے سنا:   ’’ رَحِمَ اللہُ اِمْرَاًاَصْلَحَ مِنْ لِّسَانِہٖ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنی زبان کی اصلاح کرے۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم اور علم المعرفت

فاروقِ اعظم سب سے زیادہ معرفت الہی رکھنے والے:

حضرت سیِّدُنازید بن وہب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ اِنَّ عُمَرَ كَانَ اَعْلَمَنَا بِاللّٰہِ وَاَقْرَاَنَا لِكِتَابِ اللہِ وَاَفْقَهَنَا فِیْ دِ یْنِ اللہِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہم میں  سب سے زیادہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والے  ،  قرآن کی تلاوت کرنے والے اوردین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے تھے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم اور علم الانساب

علم الانساب کی مہارت ورثے میں   ملی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم الانساب میں   بھی ماہر تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ علم وراثت میں   ملا تھا ،  کیونکہ آپ کے قبیلے کے ذمے سفارت تھی جس کے لیے علم الانساب کا جاننا ناگزیر تھا اور یہی وجہ تھی کہ آپ کا قبیلہ علم الانساب میں   مہارت رکھتا تھااور یہی مہارت آپ کو اپنے والد سے ورثے میں   ملی ۔

فاروقِ اعظم اور علم القراءت

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چونکہ کاتب وحی تھےا ور آپ نے قرآن پاک خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے پڑھا تھا اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم الکتاب اور خصوصاً علم القراءت کے بہت بڑے عالم تھے۔

آپ کی بارگاہ میں   قراء حضرات کا مجمع لگا رہتا تھا:

حضرت سیِّدُنا امام زہری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ كَانَ مَجْلِسُ عُمَرَ مُغْتَصًّا عَنِ الْقُرَّاءِ شَبَاباً وَکَھُوْلًا فَرُبَّمَا اِسْتَشَارَھُمْ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا دربار نوجوان اور پختہ عمر کے قراء حضرات سے بھرا ہوتاتھا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان سے مشاورت فرماتے رہتے تھے۔ ‘‘   اور ارشاد فرمایا کرتے تھے:  ’’ لَا یَمْنَعُ اَحَدُكُمْ حُدَاثَۃُ سَنَۃٍ اَنْ یُشِیْرَ بِرَاْیِہٖ فَاِنَّ الْعِلْمَ لَیْسَ عَلَى حُدَاثَۃِ  السِّنِّ وَقِدَمِہٖ وَلٰكِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَضَعَہُ حَيْثُ یَشَاءُ یعنی تمہاری کم عمری تمہیں   مشورہ دینے سے نہ روکے کیونکہ علم عمر کی کمی یا زیادتی پر موقوف نہیں   ہے بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے چاہتا ہے علم عطا فرماتا ہے۔ ‘‘  ([3])

 بیسیوں   واقعات ایسے ملتے ہیں   کہ اگر کوئی شخص قرآن پاک کی کوئی غیر معروف قراءت کرتاتو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کی تفتیش فرماتے۔چنانچہ ،

اللہ ورسول کے معاملے میں   آپ کی شدت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُناہشام بن حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دورِ نبوی میں   سورئہ فرقان کی تلاوت کرتے سنا توہ وہ ایسی قراءت کررہے تھے جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ہمیں   نہیں   سکھائی تھی ،  قریب تھا کہ میں   نماز میں   ہی ان سے الجھ پڑتا لیکن میں   نے خود کو روکے  رکھا۔جب انہوں   نے سلام پھیرا تو میں   نے ان کی چادر ان کے گلے میں   ڈال لی اور کہا :  ’’ مَنْ اَقْرَاَكَ ھٰذِہِ السُّورَةَ الَّتِیْ سَمِعْتُكَ تَقْرَءُ یعنی یہ سورت تمہیں   کس نے ایسے پڑھائی ہے جیسے آج میں   نے تم سے سنی ہے؟ ‘‘  وہ کہنے لگے:   ’’ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے۔  ‘‘   میں   نے کہا:   ’’  كَذَبْتَ فَاِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ اَقْرَاَنِیْھَا عَلٰی غیْرِ مَا قَرَاْتَ یعنی تم نے جھوٹ کہا ،  مجھے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے کسی اور طرح پڑھائی ہے۔ ‘‘   بہر حال میں   انہیں   کھینچتا ہوا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   لے آیا اور عرض کیا:  ’’ اِنِّیْ سَمِعْتُ ھٰذَا یَقْرَءُ بِسُورَۃِ الْفُرْقَانِ عَلٰی حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِیْھَا یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں   نے اِسے اُس طریقے پر سورۂ فرقان پڑھتے سنا ہے جس پر آپ نے مجھے نہیں   پڑھائی۔ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:   ’’  اسے چھوڑ دو۔ ‘‘   پھرارشاد فرمایا:  ’’  اے ہشام! تم پڑھو۔ ‘‘   انہوں   نے آپ کو ویسے ہی پڑھ کر سنا دیاجیسا نماز میں   پڑھا تھا۔ شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:  ’’  كَذَلِكَ اُنْزِلَتْ  یعنی یہ سورت ایسے ہی اُتری ہے۔ ‘‘   پھر فرمایا:   ’’ اے عمر! تم پڑھو ۔ ‘‘  تو میں   نے ویسا ہی سنایا جیسے میں   نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پڑھا تھا۔ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’  كَذَلِكَ اُنْزِلَتْ یعنی یہ سورت ایسے ہی اُتری ہے۔ ‘‘   پھر فرمایا:   ’’ اِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ اُنْزِلَ عَلَى سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ یعنی یہ قرآن پاک سات طریقوں   (قراء توں  )پر اترا ہے جو تمہیں   آسان لگے ویسے ہی پڑھ لو۔ ‘‘  ([4])

قرآن پاک کی سات قراءتیں  :

یاد رہے نزولِ قرآن کے وقت اکنافِ عرب میں   عربی زبان کے سات مختلف لب ولہجے جاری تھے اہلِ نجد کا اپنا لہجہ تھا ،  بنو اسد کا اپنا طرز تلفظ تھا ،  اہلِ حجاز عربی الفاظ کو اپنے



[1]     کنزالعمال ،  کتاب العلم ،  فی فضلہ والتحریض علیہ ،  الجزء: ۱۰ ،  ج۵ ،  ص۱۱۱ ،  حدیث: ۲۹۳۴۳۔

[2]     مصنف ابن ابی شیبہ  ، کتاب الفضائل ، ماذکرفی فضل عمر بن خطاب  ، ج۷ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۲۱۔

[3]     مصنف عبد الرزاق ،  کتاب الجامع ،  باب المستشار ،  ج۱۰ ،  ص۳۶۳ ،  حدیث: ۲۱۱۱۱ ملتقطا۔

[4]     بخاری  ، کتاب فضائل القرآن  ، باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف ، ج۳ ،  ص۴۰۰ ،  حدیث: ۴۹۹۲۔



Total Pages: 349

Go To