Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اس کی معرفت حاصل کرو اور اس پر ایسا عمل کرو کہ تم عامل قرآن کہلانے لگو۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم اور علم التحریر

لکھنا پڑھنا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے زمانہ جاہلیت میں   ہی سیکھ لیا تھا  ،  یہی وجہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عہدِ رسالت کے کاتب وحی بھی تھے ،  البتہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تحریرآپ کے دورِ خلافت میں   بہت زیادہ نکھر کر لوگوں   کے سامنے ظاہر ہوئی کیونکہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مفتوحہ علاقوں   میں   وسعت ہوئی اور ان علاقوں   میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مقرر کردہ عمال اور گورنروں   کی تعداد میں   اضافہ ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ان سے رابطے کا ایک ذریعہ تحریر بھی تھا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے گورنروں   کو ہر طرح کی اصلاحی وسیاسی تحریریں  لکھا کرتے تھے جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علم التحریر کا منہ بولتا ثبوت ہیں  ۔

فاروقِ اعظم اور علم التقریر

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم التقریر کے بھی بڑے ماہر تھے ،  آپ ایک بہترین مقرر تھے ،  اور آپ کی ذات مبارکہ میں   یہ ملکہ زمانہ جاہلیت سے ہی موجود تھا ،  سیرت نگاروں   نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ آپ عکاظ کے میلوں   میں   تقریری مقابلوں   میں   بھی حصہ لیا کرتے تھے۔ ایک بہترین مقرر کے اندر جو صفات ہونی چاہیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اندر وہ تمام صفات بدرجہ اتم موجود تھیں  ۔

فاروقِ اعظم اور علم الخطبات

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر علوم کے ساتھ ساتھ علم الخطبات یعنی خطبے دینے کے علم میں   بھی مہارت رکھتے تھے اور آپ کی پوری خلافت پر اگر نظر ڈالی جائے تو آپ کے خطبات کی کئی اَقسام اُبھر کر سامنے آجاتی تھی ،  آپ کے خطبات میں   اِصلاحی خطبات ،  علمی خطبات ،  سیاسی خطبات ،  فکری خطبات ،  نظری خطبات قابل ذکر ہیں  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مختلف خطبات پڑھنے کے لیے اسی کتاب کا موضوع  ’’ ملفوظات فاروقِ اعظم ‘‘  صفحہ۲۶۴ملاحظہ کیجئے۔

فاروقِ اعظم اور علم الفرائض

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم الفرائض (یعنی علم المیراث) میں   بھی کامل دسترس رکھتے تھے ،  بیسیوں   مسائل ایسے ہیں   جن میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اجتہاد فرماکر ان مسائل کو اخذ فرمایا جن کی تفصیل کتب فقہ میں   موجود ہے ،  نہ صرف آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم الفرائض میں   ماہر تھے بلکہ لوگوں   کو بھی اس کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔ چنانچہ ،

علم الفرائض قرآن کی طرح سیکھو:

 حضرت سیِّدُنا مورق عجلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ تَعَلَّمُوا السُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ وَاللَّحْنَ كَمَا تَعَلَّمُوْنَ الْقُرْآنَ یعنی تم سنن وعلم الفرائض اور زبان ایسے سیکھو جیسے قرآن پاک سیکھتے ہو۔ ‘‘   ([2])

علم الفرائض سیکھنا دین سے ہے:

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:  ’’ تَعَلَّمُوا اللَّحْنَ وَالْفَرَائِضَ فَاِنَّہُ مِنْ دِیْنِكُمْ یعنی زبان اور علم الفرائض سیکھو کہ یہ بھی تمہارے دین میں   سے ہے۔ ‘‘   ([3])

فاروقِ اعظم  کی  عربی زبان میں   مہارت

فاروقِ اعظم کی عربی زبان میں   مہارت:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہوسکتا ہے کسی کو یہ بات بہت ہی عجیب وغریب لگے کہ  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عربی زبان کے ماہرتھے۔ ‘‘  کیونکہ وہ تو تھے ہی عربی النسل تو کیسے عربی کے ماہر نہ ہوتے؟ لیکن ایسا نہیں   ہے کیونکہ نسلی عربی ہونا اور بات ہے اور عربی میں   مہارت رکھنا اور بات۔ جیسے کسی شخص کا اردو زبان بولنا اور بات ہے اور اس میں   مہارت ہونا اور بات ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بذات خود لوگوں   کو عربی زبان سیکھنے اور اس میں   مہارت حاصل کرنے کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔ چنانچہ ،

عربی زبان کی سمجھ بوجھ حاصل کرو:

 حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’  عَلَیْكُمْ بِالتَّفَقُّہِ فِی الدِّیْنِ وَالتَّفَھُّمِ فِی الْعَرَبِیَّۃِ وَحُسنِ الْعباَرۃِ یعنی تم پر لازم ہے کہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرو اور عربی تحریر اور گفتگو کو اچھا کرو۔ ‘‘  ([4])

زبان کی اصلاح کرنے والے کے لیے رحم کی دعا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چند لوگوں   کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کررہے تھے البتہ ان کے نشانے درست جگہ پر نہیں   لگ رہے تھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں   دیکھ کر ارشاد فرمایا:   ’’ مَا اَسْوَأُرَمْیِكُمْ یعنی تم لوگ کتنی بری تیر اندازی کررہے ہو۔ ‘‘   انہوں   نے عرض کیا:   ’’ نَحْنُ مُتَعَلِّمِیْنَ یعنی اے امیر المؤمنین ابھی ہم تیر اندازی سیکھ رہے ہیں  ۔ ‘‘    ’’ نَحْنُ مُتَعَلِّمِیْنَ  ‘‘   عربی گرائمر کے لحاظ سے غلط جملہ تھا ،  



[1]     مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتا ب فضائل القرآن  ، فی التمسک بالقرآن ، ج۷ ، ص۱۶۵ ،  حدیث:  ۸۔

[2]     دارمی ،  کتاب الفرائض ،  باب فی تعلیم الفرائض ،  ج۲ ،  ص۴۴۱ ،  حدیث:  ۲۸۵۰۔

[3]     مصنف ابن ابی شیبۃ ،  کتاب فضائل القرآن ،  ما جاء فی اعراب القرآن ،  ج۷ ،  ص۱۵۰ ،  حدیث:  ۱۵۔

[4]     فضائل القرآن لابی عبید ، باب اعراب القرآن ۔۔۔الخ ، ص۳۵۰۔



Total Pages: 349

Go To