Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم اور علم کتاب اللہ

فاروقِ اعظم کتاب اللہ کے عالم اور فقیہ:

حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’  دو آدمیوں   کے مابین ایک آیت مبارکہ کی قراءت میں   اختلاف ہوگیا ،  اتنے میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے آئے ،  دونوں   نے اپنا معاملہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   پیش کیاتو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلے شخص سے فرمایا کہ تمہیں   یوں   کس نے پڑھایا؟ اس نے عرض کیا کہ حضرت سیِّدُنا ابو عمرہ معقل بن مقرن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے۔ پھر دوسرے سے استفسار فرمایا تو اس نے عرض کیاکہ مجھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پڑھایاہے۔ ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’ یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اتنا روئے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آستین آنسوؤں   سے بھیگ گئیں   اور میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے رونے کے سبب آنسوؤں   کے نشانات دیکھے۔ ‘‘   پھر سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:   ’’ مَا اَظُنُّ اَھْلَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِینَ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیْھِمْ حُزْنُ عُمَرَ یَوْمَ اُصِیْبَ عُمَرُ اِلَّا اَھْلَ بَیْتِ سُوءٍ  اِنَّ عُمَرَ كَانَ اَعْلَمَنَا بِاللّٰہِ وَاَقْرَاَنَا لِكِتَابِ اللہِ وَاَفْقَهَنَا فِیْ دِیْنِ اللہِاِقْرَاْ ھَا كَمَا اَقْرَاَ کَھَا عُمَرُ یعنی میں   اس گھر والوں   کو بہت برا سمجھتا ہوں   جنہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کے دن ان کی وفات کا صدمہ نہ پہنچا۔ بے شک آپ ہم میں   سب سے زیادہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والے ،  کتاب اللہ کے سب سےبڑے قاری اور  دین الٰہی کے سب سے بڑے فقیہ تھے ،  تم اس آیت کو ویسا ہی پڑھا کرو جیسا سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمہیں   پڑھایا۔ ‘‘  ([1])

سب سے بڑے عالم کی صحبت:

حضرت سیِّدُنا خالد اسدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صحبت اختیار کی تو میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بڑھ کرکسی کو قرآن پاک کا عالم  ، دین کا فقیہ اور مدرس نہیں   دیکھا۔ ‘‘   مزید فرماتے ہیں  :  ’’ سیِّدُنا  فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رحلت سے علم کے دس ۱۰حصوں   میں   سے نو۹ حصے جاتے رہے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی لاجواب قرآن فہمی :

حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ یہود میں   سے ایک شخص (یعنی حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہنے لگے:   ’’  قرآن میں   ایک ایسی آیت ہے کہ اگر وہ ہمارے دین میں   اترتی تو اس آیت کے  نازل ہونے کے دن کو ہم بطور عید منایا کرتے۔ ‘‘   آپ نے فرمایا:   ’’ وہ کون سی آیت ہے؟ ‘‘  کہنے لگے:  (اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-) (پ۶ ، المائدۃ: ۳)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ آج میں   نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ مجھے معلوم ہے کہ یہ کب اور کہاں   نازل ہوئی تھی۔ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عرفات میں   موجود تھے اور جمعہ کا دن تھا جب یہ آیت کریمہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازل ہوئی۔  ‘‘  ([3])

حدیث مبارکہ کی شرح:

حضرت علامہ یحییٰ بن شرف الدین نووی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اس حدیث پاک کی شرح میں   ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مراد یہ تھی کہ ہم نے دو وجہوں   سے اس دن کو عید بنا لیا کیونکہ یہ دن یوم عرفہ تھا اور یوم جمعہ بھی تھا اور ان میں   سے ہر دن مسلمانوں   کے لیے عید ہی ہے۔ ‘‘  ([4])

صدر الافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی اس حدیث مبارکہ کی شرح بیان کرتے ہوئے مذکورہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۳ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں   ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’  آپ (یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لئے وہ دن عید ہے ۔ ترمذی شریف میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہبن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن ۲ دو عیدیں   تھیں   جمعہ و عرفہ ۔ مسئلہ :  اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابہ سے ثابت ہے ورنہ(امیر المؤمنین) حضرت(سیِّدُنا) عمر(فاروقِ اعظم) و (حضرت سیِّدُنا عبداللہ) بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں   ۔ اس سے ثابت ہوا کہ عید میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اعظمِ نِعَمِ الٰھیہ (یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں   میں   سے سب سے بڑی نعمت سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔ ‘‘ 

تم اہل قرآن کہلانے لگو:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ تَعَلَّمُوْا كِتَابَ اللہِ تَعَرَّفُوْا بِہٖ وَاعْمَلُوْا بِہٖ تَكُوْنُوْا مِنْ اَھْلِہٖ یعنی قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرو ،  



[1]     مصنف ابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۲۱۔

                                                معجم کبیر ، عبداللہ بن مسعود الھذلی ،  ج۹ ،  ص۱۶۱ ،  حدیث: ۸۸۰۳ ملتقطا۔

[2]     ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۳۲۲۔

[3]     بخاری  ، کتاب الایمان  ، زیادۃ الایمان ونقصانہ ، ج۱ ،  ص۲۸ ،  حدیث: ۴۵ ،  مسلم ،  کتاب التفسیر ،  ص۱۶۰۹ ،  حدیث: ۵۔

[4]     شرح نووی ، کتاب التفسیر ،  الجزء: ۱۸ ،  ج۹ ،  ص۱۵۳۔



Total Pages: 349

Go To