Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم کا اعتکاف کی نذر کے متعلق سوال:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   اعتکاف کی نذر کے بارے میں   سوال کیا جو آپ نے زمانہ جاہلیت میں   مانی تھی تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے پورا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ ([1])

فاروقِ اعظم کا زانیہ کی نماز جنازہ کے متعلق سوال:

حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے زنا کیا ،  حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے رجم کا حکم دیا بعد ازاں   اس کی نماز جنازہ کا بھی آپ نے حکم ارشاد فرمایا۔ تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں   گے حالانکہ اس نے زنا کیا ہے ؟ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:   ’’ اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی توبہ مدینہ منورہ کے ستر گناہ گار وں   میں   بانٹی جائے تو سب کی بخشش ہوجائے۔ اس سے بڑھ کر افضل شخص کون ہوسکتا ہے جس نے اپنی جان کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں   پیش کردیا۔ ‘‘   ([2])

فاروقِ اعظم اور رسول اللہ کے علمی خزانے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم علوم اولین وآخرین کے جامع ہیں  ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوتے تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے علمی خزانے سے فیضاب ہوتے ہی رہتے۔بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کوئی بات مختصر بیان فرماتے لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مزاج شناس رسول تھے ،  فوراً سمجھ جاتے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  آج عطا فرمانا چاہتے ہیں   ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوراً سوال کرتے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مزید وضاحت فرماتے۔ چنانچہ یوم عاشوراء دس محرم الحرام سے متعلق ایک علمی اور نفیس روایت ملاحظہ کیجئے:

یوم عاشوراء سے متعلق ایک علمی  ، نفیس روایت:

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غیوب ،  منزہ عن العیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:

٭ ’’ جس نے اپنی طرف سے کسی مومن کو عاشوراء کے دن روزہ افطار کرایا گویا اس نے محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی ساری امت کو روزہ افطار کرایا اور اس کو سیر کرایا۔ ‘‘  ٭ ’’  جس نے عاشوراء کے دن یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے اس یتیم کے سرکے ہر بال کے بدلے جنت میں   ایک درجہ بلند فرمائے گا۔ ‘‘  ٭ ’’ جس نے عاشوراء کے دن کسی مسکین کو کپڑا پہنایا گویا اس نے محمد( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ) کی ساری امت کے مساکین کو کپڑا پہنایا اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جنتی حلوں   میں   سے ستر ۷۰حلے پہنائے گا۔ ‘‘ 

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   بصد عجزواحترام عرض کیا:  ’’ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْكَ لَقَدْ فَضَّلَنَا اللہُ عَزَّوَجَلَّ بِیَوْمِ عَاشُوْرَاءَ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! کیا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں   عاشوراء کے دن کے سبب اتنی فضیلت عطا فرمائی ہے؟ ‘‘  تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب ،  حبیب لبیب ،  ہم گناہگاروں   کے طبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:

٭ ’’  اے عمر! زمین وآسمان کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےعاشوراء کے دن پیدا فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’ سورج ،  چاند اور ستاروں   کوبھی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن پیدا فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’ عرش وکرسی کوبھی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن پیدا فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’ قلم اور لوح کوبھی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن پیدا فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’ جبریل امین اور دیگر ملائکہ کوبھی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن پیدا فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’  حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اور حواء عَلَیْہَا السَّلَام کو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن پیدا فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’ جنت کوبھی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن پیدا فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے عاشوراء کے دن جنت میں   سکونت اختیار فرمائی۔ ‘‘  ٭ ’’ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام عاشوراء کے دن پیدا ہوئے۔ ‘‘  ٭ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں   عاشوراء کے دن آگ سے نجات عطا فرمائی۔ ‘‘  ٭ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن ان کی رہنمائی فرمائی۔ ‘‘  ٭ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرعون کو عاشوراء کے دن غرق فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’ حضرت عیسی عَلَیْہِ السَّلَام کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن آسمان پر اٹھایا۔ ‘‘  ٭ ’’ حضرت ادریس عَلَیْہِ السَّلَام کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن آسمانوں   پر اٹھایا۔ ‘‘  ٭ ’’ حضرت عیسی بن مریم عَلَیْہِمَا السَّلَام عاشوراء کے دن پیدا ہوئے۔ ‘‘  ٭ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی توبہ قبول فرمائی۔ ٭ ’’ حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی کشتی عاشوراء کے دن جودی پہاڑ پر ٹھہری۔ ‘‘  ٭ ’’ حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کوعاشوراء کے دن قید سے نکالا گیا۔ ‘‘  ٭ ’’ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کی  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عاشوراء کے دن توبہ قبول فرمائی۔ ‘‘  ٭ ’’ حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کو عاشوراء کے دن بادشاہی عطا کی گئی۔ ‘‘  ٭ ’’ قیامت بھی عاشوراء کے دن ہی قائم ہوگی۔ ‘‘  ٭ ’’ آسمان سے پہلی بارش بھی عاشوراء کے دن ہی ہوئی۔ ‘‘  ([3])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ صرف خود علم دین حاصل کیا کرتے تھے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں   کو بھی اس کی ترغیب دلایا کرتے تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے



[1]     بخاری ،  کتاب الایمان والنذور ، باب اذا نذر ۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۳۰۲ ،  حدیث: ۶۶۹۷۔

[2]     مسلم ، کتاب الحدود  ، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی ، ص۹۳۳ ،  حدیث: ۲۴ ملتقطا۔

[3]     بستان الواعظین  ،  مجلس فی فضل یوم عاشوراء ،  ص۲۲۸۔



Total Pages: 349

Go To