Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلمانوں   کی غم خواری فرماتے۔اگر کسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کے جنازے میں   بھی ضرور شرکت فرماتے۔نیز میت کے قریبی رشتے داروں  سے تعزیت بھی فرماتے۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک نیک پرہیزگار نوجوان کی قبر پر تشریف لے جانے والا واقعہ بہت ہی مشہور ہے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس نوجوان کو جانتے تھے اور اس کی عبادات پر تعجب فرماتے تھے ،  بعد ازاں   اس کا رات کے وقت انتقال ہوگیا اور اس کے گھر والوں   نے راتوں   رات اس کا جنازہ وغیرہ پڑھ کے دفنا دیا ۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معلوم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے گھر والوں   سے شکوہ کیا کہ تم لوگوں   نے مجھے کیوں   نہ بتایا ،  انہوں   نے رات کا عذر کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور اس نوجوان سے گفتگو فرمائی۔ ([1])

فاروقِ اعظم اور مختلف علوم

فاروقِ اعظم کو بارگاہِ رسالت سے علم عطا ہوا:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ قرآن وحدیث کے بہت بڑے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی علوم میں   مہارت تامہ رکھتے تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو علم کی دولت بارگاہِ رسالت سے عطا ہوئی تھی۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادےحضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:   ’’ میں   سویا ہوا تھا  ، خواب میں   کیا دیکھتا ہوں   کہ دودھ سے لبالب ایک پیالہ مجھے پیش کیا گیا۔ میں   نے اس سے پیا اور اتنا سیر ہوگیا کہ مجھے یوں   لگا جیسے میرے ناخنوں   کے نیچے بھی اس دودھ کی تری پہنچ گئی ہے۔ بچا ہوا دودھ میں   نے عمر فاروق کو دے دیا۔ ‘‘  لوگوں   نے عرض کیا :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ نے اس سے کیا مفہوم لیا ہے؟ فرمایا:   ’’  علم۔ ‘‘  ([2])

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علم کے بارے میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تین ارشادات پیش خدمت ہیں  :

(1)فاروقِ اعظم کا علم تمام قبائل عرب کے علم سے زیادہ وزنی:

٭… ’’ لَوْ وُضِعَ عِلْمُ اَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِیْ كِفَّۃِ مِیْزَانٍ وَوُضِعَ عِلْمُ عُمَرَ فِیْ كِفَّۃٍ لَرَجَحَ عِلْمُ عَمَرَ یعنی اگر عرب کے تمام قبائل کا علم میزان کے ایک پلڑے میں   اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا علم دوسرے پلڑے میں   رکھا جائے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ والا پلڑا بھاری رہے گا۔ ‘‘  ([3])

(2)علم کے نو حصے فاروقِ اعظم کے پاس ہیں   :

٭… ’’ لَقَدْ كَانُوْا یَرَوْنَ اَنَّہُ ذَھَبَ بِتِسْعَۃِ اَعْشَارِ الْعِلْمِ یعنی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  تو سمجھتے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ علم کے دس میں   سے نو حصے اپنے ساتھ لے گئے۔ ‘‘   ([4])

(3)ایک سال عمل کرنے سے زیادہ افضل:

٭… ’’ لَمَجْلِسٌ كُنْتُ اَجْلِسُہُ مَعَ عُمَرَ اَوْثَقُ فِیْ نَفْسِیْ مِنْ عَمَلِ سَنَۃٍ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایک علمی حلقے میں   شرکت کرنا میرے نزدیک ایک سال عمل کرنے سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘   ([5])

تمام لوگوں   کا علم ایک سوراخ میں   سما جائے:

حضرت سیِّدُنا اعمش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت سیِّدُنا شمر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت کرتےہوئے فرماتے ہیں  :   ’’ لَكَاَنَّ عِلْمَ النَّاسِ كَانَ مَدْسُوسًا فِیْ جُحْرٍ مَعْ عِلْمِ عُمَرَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علم کے مقابلے میں   تمام لوگوں   کا علم اتنا ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے سوراخ میں   سما جائے۔ ‘‘  ([6])

فاروقِ اعظم دو تہائی علم لے گئے:

حضرت سیِّدُنا عمرو بن میمون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں  :   ’’ ذَهَبَ عُمَرُ بِثُلُثَیِ  الْعِلْمِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دو تہائی علم لے گئے۔ ‘‘        ([7])

فاروقِ اعظم اور حصول علم دین

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو علم کی یہ دولت بارگاہِ رسالت سے ہی عطا ہوئی تھی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآن وحدیث کا علم خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہی حاصل کیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حصول علم دین کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ گاہے بگاہے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے علمی سوالات وغیرہ کرتے ہی رہتے تھے ،  اور اس معاملے میں   بے شمار احادیث مبارکہ موجود ہیں   چنانچہ  ،

 



[1]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۵ ،  ص۴۵۰ ،  حجۃ اللہ علی العالمین ،  المطلب الثالث فی ذکر جملۃ ۔۔۔الخ ،  من کرامات عمر ،  ص۶۱۲ مختصرا۔

                اس واقعے کی تفصیل کے لیے اسی کتاب کا موضوع ’’ کراماتِ فاروقِ اعظم  ‘‘   ملاحظہ کیجئے۔

[2]     مسلم  ، فضائل الصحابہ  ، من فضائل عمر ،  ص۱۳۰۳ ،  حدیث: ۱۶۔

[3]     مصنف ابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفضائل ،  باب ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۳ ،  حدیث: ۳۶۔

[4]     الاستیعاب ،  عمربن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۹۔

[5]     الاستیعاب ،  عمربن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۹۔

[6]     مصنف ابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۶ ،  حدیث: ۵۵۔

[7]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۲۸۶۔



Total Pages: 349

Go To