Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کرنایا کوئی بھی ایسا کام جو مسجد کے ادب واحترام  کے منافی ہو شرعا ممنوع ہے۔ آج کل اس بات کا بہت کم خیال رکھا جاتاہے اور بعض نادان لوگ تومساجد میں   اتنی بلند آواز سے گفتگو کرتے نظر آتے ہیں   گویا اپنے گھر یا بازار میں   گفتگو کررہے ہوں   ،  ایسے لوگوں   کے لیے لمحہ فکریہ ہے ، نیزبعض حضرات نابالغ اور ناسمجھ بچوں   کوبھی اپنے ساتھ مساجد میں   لاتے ہیں   جومسجد میں   گھومتے پھرتے اور شوروغل مچاتے ہیں   یادرکھیے کہ مساجد میں   بچوں    ،  پاگلوں   وغیرہ کا داخلہ ممنوع ہے۔چنانچہ سلطان مدینہ  ،  قرار قلب وسینہ ،  فیض گنجینہ ،  صاحب معطر پسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمان باقرینہ ہے:   ’’ مسجدوں   کو بچوں    ، پاگلوں    ،  خریدوفروخت  ،  جھگڑے  ،  آواز بلند کرنے  ،  حدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ۔ ‘‘  ([1])

علامہ ابن عابدین شامی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ ایسا بچہ جس سے نجاست(یعنی پیشاب وغیرہ کردینے) کا خطرہ ہو اور پاگل کو مسجد کے اندر لے جانا حرام ہے اگر نجاست کا خطرہ نہ ہوتو مکروہ۔ ‘‘   جو لوگ جوتیاں   مسجد کے اندر لے جاتے ہیں   ان کو بھی اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ اگر نجاست لگی ہوتو صاف کرلیں   اور جوتا پہنے مسجد میں   چلے جانا بے ادبی ہے۔([2])

بچے یا پاگل یا بے ہوش یا جس پر جن آیاہوا ہو اس کو دم کروانے کے لیے بھی مسجد میں   لے جانے کی شریعت میں   اجازت نہیں  ۔ واضح رہے کہ مساجد کو جس طرح شوروغل سے بچانا ضروری ہے ویسے ہی اسے بدبوسے بچانا بھی بے حد ضروری ہے۔احادیث مبارکہ میں   مساجد کو خوشبودار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔چنانچہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   سے روایت ہے فرماتی ہیں  :   ’’ حضور پرنور شافع یوم النشور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے محلوں   میں   مسجدیں   بنانے کا حکم دیا اور یہ کہ وہ صاف اور خوشبودار رکھی جائیں  ۔ ‘‘   ([3])

فاروقِ اعظم اور مریضوں   کی عیادت

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی غم خوار تھے اور قلبی طور پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس قدر رحم دل اور شفیق تھے کہ کسی مسلمان کا چھوٹی سےچھوٹی تکلیف میں   مبتلا ہونا بھی گوارا نہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ ہر وقت مسلمانوں   کی غم خواری اور امت کی خیر خواہی میں   مشغول رہتے تھے۔ مصروف ترین شخصیت ہونے کے باوجود اپنے بیمار اصحاب کی عیادت کرنا بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عادات مبارکہ میں   شامل تھا۔

بارگاہِ رسالت میں   مریض کی عیادت کا اقرار:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے مختلف اعمال کے بارے میں   استفسار فرمایاجن میں   مریض کی عیادت کا بھی ذکر تھا تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   اقرار کیا کہ:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں   نے مریض کی عیادت کی ہے۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم مولاعلی کی عیادت کے لیے گئے:

ایک بار مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  بیمار ہوگئے ،  جب حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معلوم ہوا تو انہوں   نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   سے ارشاد فرمایا کہ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیمار ہوگئے ہیں    ،  ہمیں   ان کی عیادت کے لیے ضرور جانا چاہیے۔ چنانچہ تینوں   مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کے گھر پہنچے اور پھر وہاں   نہایت ہی دلچسپ مدنی مکالمہ ہوا۔([5])

مریضوں   کی عیادت سے متعلق مرویات:

 اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مریضوں   کی عیادت سے متعلق کئی مرویات بھی ہیں  ۔ چنانچہ ،

(1)تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نُبوت ،  مَخْزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے :  ’’  قیامت کے دن پکارنے والاپکارے گا:  کہاں   ہیں   وہ لوگ جو دنیا میں  فقراء ومساکین مریضوں   کی عیادت کرتے تھے۔ ‘‘  پس (جب وہ حاضرہوں   گے تو)انہیں   نور کے منبروں   پر بٹھایا جائے گا جہاں   یہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے شرفِ کلام حاصل کریں   گے جبکہ لوگ حساب دے رہے ہوں   گے۔ ‘‘  ([6])

(2)حسنِ اخلاق کے پیکر ، نبیوں   کے تاجور ،  مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ:  ’’ جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو اس سے اپنے لئے دعا کی درخواست کرو کیونکہ اس کی دعا فرشتوں   کی دعا کی طرح ہوتی ہے۔ ‘‘  ([7])

فاروقِ اعظم اور لواحقین سے تعزیت

 



[1]     سنن ابن ماجۃ ،  کتاب المساجد ،  ما یکرہ۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۴۱۵ ،  حدیث:  ۷۵۰۔

[2]     درمختار وردالمحتار ،  ج۲ ،  ص۵۱۸۔

[3]     ابو داود ،  کتاب الصلاۃ ،  اتخاذ المساجد فی الدور ،  ج۱ ،  ص۱۹۷ ،  حدیث: ۴۵۵۔

مسجدوں   کو خوشبودار رکھنے کے متعلق دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ ۳۲صفحات پر مشتمل شیخ طریقت ،  امیر اہلسنت  ، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے  ’’ مسجدیں   خوشبودار رکھیے ‘‘   کا مطالعہ کیجئے۔

[4]     مسند امام احمد  ، مسند انس بن مالک  ، ج۴ ،  ص۲۳۷ ،  حدیث: ۱۲۱۸۲۔تفصیلی روایت کے لیے اسی کتاب کا صفحہ ۱۵۰ملاحظہ کیجئے۔

[5]     روح البیان ، پ۱۳ ،  الرعد ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ج۴ ،  ص۳۷۷۔

یہ دلچسپ مدنی مکالمہ پڑھنے کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۷۲۲صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ فیضان صدیق اکبر ‘‘   ص ۱۶۸کا مطالعہ کیجئے۔

[6]     جمع الجوامع ، الیاء مع الصاد ، ج۹ ، ص۲۵۶ ، حدیث: ۲۸۵۷۳ملتقطا۔

[7]     ابن ماجہ ،  کتاب الجنائز  ،  باب ماجاء فی عیادۃ المریض  ، ج۲ ،  ص۱۹۱ ،  حدیث: ۱۴۴۱۔



Total Pages: 349

Go To