Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

دیکھ رہے ہوں   گے ،  ان کے قدموں   کی چاپ سن رہے ہوں   گے ۔

 آہ !آہ! آہ! بے نَمازیوں   ، ماہِ رَمَضان کے روزے بِلا عذرِ شرعی نہ رکھنے والوں   ،  زکوٰۃ دینے سے کترانے والو ں   ،  فلمیں   ڈِرامے دیکھنے والوں   ،  گانے باجے سننے والوں   ،  ماں  باپ کوستانے والوں   ،  مسلمانوں   کی بلااجازتِ شَرعی دل آزاریاں   کرنے والوں   ،  چوریاں   ڈکیتیاں   کرنے و الوں   ،  لوگوں  کو دھمکی آمیزچِٹھّیاں  بھیج کر رقموں   کا مطالبہ کرنے والوں   ،  جیب کترو ں   ،  لوگوں   کی زمینیں   دبا لینے والوں   ،  بے بس ہاریوں   کا خون چوسنے والوں   ، اِقتِدار کے نشے میں   بد مست ہو کر ظلم و ستم کی آندھیاں   چلانے والوں   ،  اپنی صحّت و دولت کے نشے میں   بد مست ہو کر گناھوں   کا بازار گرم کرنے والوں   کو ہو سکتا ہے اِس ظاہِری زندگی میں   کوئی قبر میں  بند نہ کر سکے تاہم عنقریب یعنی چند سال ، چند ماہ  ،  چند دن بلکہ عین ممکن ہے چند گھنٹوں   کے بعد موت آ سنبھا لے اور ان کو قبر میں  اکیلا بند کر دیا جائے !

موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ

جان جا کر ہی رہے گی یاد رکھ

قبر میں   میِّت اُترنی  ہے ضَرور

جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے ضَرور

کاش! ہم سب دنیا میں   رہتے ہوئے قبر کی تیاری کرلیں   ،  گناہوں   میں   ملوث ہو کر اپنی قبر کو اندھیری کوٹھری بنانے کے بجائے نیکیاں   کرکے اسے روشن کرنے والے بن جائیں  ۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فاروقِ اعظم اور نکیرین کے سوال

عمر فاروق اور نکیرین سے سوال:

(1) مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایاکہ جب مردہ قبر میں   رکھ دیا جاتا ہے تو وہاں   دو فرشتے منکر  ، نکیر آجاتے ہیں   جو تند خو اور سخت دل ہیں   ،  جن کے چہرے ایسے نیلے اور سیاہ ہیں   جیسے تاریکی ہوتی ہے۔ ان کی آوازیں   گرجتی بجلی کی مانند ،  آنکھیں   گرنے والے ستاروں   کی طرح اور دانت نیزوں   کی طرح ہیں  ۔ وہ اپنے بالوں   میں   زمین پر تیرتے آتے ہیں  ۔(یعنی سارا وجود بالوں   سے چھپا ہوتا ہے گویا بالوں   کا مجموعہ زمین پر تیرتا آرہا ہے) ہر ایک کے ہاتھ میں   اتنا وزنی ہتھوڑا ہوتا ہے کہ تمام جن و انس مل کر اسے اٹھا نہیں   سکتے۔ وہ دونوں   قبر والے سے سوال کرتے ہیں   کہ ’’  مَنْ رَّبُکَ یعنی تیرا رب کون ہے؟ مَنْ نَبِیُّکَ یعنی تیرا نبی کون ہے اور مَا دِیْنُکَ یعنی تیرا دین کیا ہے ؟ ‘‘   یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! جب وہ میرے پاس آئیں   گے تو کیا میں   اسی طرح صحیح سالم رہوں   گا جیسے اب ہوں  ؟ ‘‘  فرمایا:  ہاں  ۔ ‘‘  عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! پھر تو میں   انہیں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی طرف سے خوب جواب دوں   گا۔ ‘‘  سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اے عمر! اس رب

عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس نے مجھے حق دے کر بھیجا! مجھے جبریل امین نے بتایا ہے کہ وہ دونوں   فرشتے جب تمہاری قبر میں   آئیں   گے اور سوالات کریں   گے تو تم یوں   جواب دو گے کہ میرا رب   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے مگر تمہارا رب کون ہے؟ میرا دین اسلام ہے مگر تمہارا دین کیا ہے؟ میرے نبی تو محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہیں   مگر تمہارا نبی کون ہے؟ وہ کہیں   گے:  بڑی تعجب کی بات ہے ،  ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں   یا تم ہماری طرف بھیجے گئے ہو؟ ‘‘  ([1])

(2) حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے یوں   مروی ہےکہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! اس وقت ہمارا حال کیا ہوگا؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ جیسا اب ہے۔ ‘‘   عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! پھر تو میں   انہیں   کافی ہوں   گا۔ ‘‘  ([2])

منکر نکیر اور فاروقِ اعظم :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مجھ سے ارشاد فرمایا:   ’’ اے عمر! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تمہارے پاس منکر ونکیر اس حالت میں   آئیں   گے کہ وہ دانتوں   سے زمین کریدتے ہوں   گے ،  ان کے لمبے بال گھسٹتے ہوں   گے ،  ان کی آواز کڑکتی بجلی جیسی ہوگی اور آنکھیں   ایسے ہوں   گی جیسے اچک لینے والی بجلی۔ ‘‘  عرض کیا :   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! جس حالت پر دنیا سے ہمارا انتقال ہوگا کیا قبر میں   اسی حالت پراٹھائے جائیں   گے؟ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا:   ’’ ہاں  ! اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ۔ ‘‘   عرض کیا:   ’’ پھرتومیں   انہیں   کافی ہوں   گا۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم اورغیر مسلموں   سے کنارہ کشی

جسے اللہ نے ذلیل کیا اُسے عزت کیوں   دیتے ہو:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو حکم دیا کہ وہ لین دین کے تمام معاملات لکھ کر پیش کریں  ۔ ان کا



[1]     ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۴۶۔

[2]     اتحاف الخیرۃ المھرہ  ، کتاب الجنائز ،  السوال فی القبر وماجاء ،  ج۳ ،  ص۲۶۹ ،  حدیث: ۲۶۷۱ ملتقطا۔

 

[3]     البعث لابی داود ، ص۸ ، حدیث: ۷۔



Total Pages: 349

Go To