Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں   سے منہ پھیر لو۔اے امیر المومنین یہ تو جاہل ہے۔ ‘‘   حرکا یہ کہنا تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہیں   رک گئے اور یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عادت مبارکہ تھی کہ کتاب اللہ کی بات سن کر ٹھہر جاتے تھے۔([1])

فاروقِ اعظم اور اتباع سنت

پھر کبھی غیراللہ کی قسم نہ کھائی:

 حضرت سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک بار دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ وہ اپنے والد کی قسم اٹھارہے تھے ( یعنی یوں   کہہ رہے تھے کہ مجھے میرے باپ کی قسم!) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے یہ سن لیا اورارشاد فرمایا:  ’’    اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں   اپنے آباء کی قسم اٹھانے سے روکتا ہے۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ اس کے بعد میں   نے قصداً یا بھول کر کبھی ایسی قسم نہ اٹھائی۔([2])

فاروقِ اعظم کی اتباعِ رسول کا انوکھا انداز:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا گیا:  ’’  آپ اپنی جگہ کسی کو جانشین کیوں   نہیں   بنادیتے؟  ‘‘   فرمایا:   ’’  اگر میں   جانشین مقرر کرتا ہوں   تو بھی صحیح ہے کیونکہ مجھ سے بہتر (یعنی خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )نے بھی ایسا کیا تھااورکسی کو جانشین بنائے بغیر تمہیں   یوں   ہی چھوڑ دو تو بھی صحیح ہے کیونکہ دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مجھ سے بہتر تھے  ، آپ نے بھی کسی کو بالتصریح خلافت کے لیے نامزد نہیں   کیا۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ جب آ پ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاذکر کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ آپ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اتباع میں   ہر گز جانشین نہیں   بنائیں   گے۔  ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم اور اِطاعت گزار رعایا

رعایا میں   فاروقِ اعظم کی اطاعت کا جذبہ:

حضرت سیِّدُنا ابوملیکہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مرض جذام میں   مبتلا ایک خاتون کے قریب سے گزرے جو طوافِ کعبہ میں   مشغول تھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے فرمایا:   ’’ اے اللہ کی بندی! اگر تم گھر میں   ٹھہرتیں   تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں   کو تکلیف نہ ہوتی۔ ‘‘  اس کے بعد وہ خاتون گھر میں   بیٹھ گئی۔پھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد ایک شخص اس خاتون کے پاس آیا اور کہنے لگا:  ’’  جس شخصیت (یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے تمہیں   روکا تھا ان کا تو انتقال ہوگیا ہے اب تم جا کر طواف کرسکتی ہو۔ ‘‘   وہ خاتون کہنے لگی:   ’’ خدا کی قسم! میں   ہرگز ایسا نہیں   کرسکتی کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زندگی میں   ان کی اطاعت اور موت کے بعد مخالفت کروں  ۔ ‘‘  ([4])

کبھی چھت کو اونچا نہ کیا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ رومی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ میں   ایک دن حضرت سیدتنا اُمّ طَلْق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا  کے گھر گیا تو دیکھا کہ ان کے گھر کی چھٹ بہت ہی چھوٹی ہے۔ میں   نے ان سے استفسار کیا:   ’’ یَا اُمَّ طَلْقٍ مَالِیْ اَرٰی سَقْفَ بَیْتِکَ قَصِیْراً؟ یعنی کیا بات ہے کہ آپ کے گھر کی چھت بہت نیچی ہے۔ ‘‘  تو وہ کہنے لگیں  :   ’’ اِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ اِلَیْنَا لَا تُطِیْلُوْا بِنَاءَکُمْ فَاِنَّہُ مِنْ شَرِّ اَیَّامِکُمْ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہمیں   تحریری حکم نامہ دیا تھا کہ اپنے گھروں   کو اونچا نہ بناؤ کیونکہ جس دن تم نے ان کو اونچا کیا وہ تمہاری زندگی کا بُرا دن ہوگا۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم کی جرأت وبہادری

فاروقِ اعظم نے ایک جن کومقابلے میں   پچھاڑ دیا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بیان کرتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ایک صحابی کی ایک جن سے ملاقات ہوئی ، دونوں   میں   کشتی ہوئی تو رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی نے اس جن کو پچھاڑ دیا۔جن نے دوبارہ لڑنے کی دعوت دی تو اس بار بھی رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی نے جن کو پچھاڑ دیا۔ صحابی نے بڑے حیرانگی سے جن سے پوچھا:   ’’  تم بڑے لاغر اور کمزور ہو ،  تمہاری کلائیاں   کتے جیسی ہیں   ،  کیا سارے جنات ایسے ہی ہوتے ہیں   یا صرف تم ہی ایسے ہو؟ ‘‘  جن کہنے لگا:  ’’ خدا کی قسم! میں   تو جنات میں   کافی موٹا تازہ ہوں  ۔ چلو ایسا کرتے ہیں   ایک بار پھر کشتی کر کےدیکھتے ہیں   ، اب کی بار بھی اگر تم نے مجھے پچھاڑ دیا تو میں   تمہیں   ایک بہت ہی کام کی بات بتاؤں   گاجو تمہیں   بہت فائدہ دے گی۔ ‘‘  چنانچہ دونوں   میں   ایک بار پھر کشتی ہوئی اور اس بار بھی رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی نے جن کو پچھاڑ دیا تو صحابی



[1]     بخاری  ، کتاب التفسیر ،  خذ العفووامربالعرف ،  ج۳ ،  ص۲۲۷ ، حدیث: ۴۶۴۲ملتقطا۔

[2]     ترمذی  ، کتاب النذور والایمان  ، ماجاء فی کراھیۃ الحلف بغیر اللہ  ، ج۳ ،  ص۱۸۴ ،  حدیث: ۱۵۳۸۔

[3]     بخاری  ، کتاب الاحکام  ، باب الاستخلاف ،  ج۴ ،  ص۴۷۹ ،  حدیث:  ۷۲۱۷۔

                                                 مسلم  ، کتاب الامارۃ ، باب الاستخلاف وترکہ ،  ص۱۰۱۳ ،  حدیث: ۱۲۔

[4]     موطاامام مالک ، کتاب الحج ، جامع الحج ، ج۱ ، ص۳۸۸ ، حدیث: ۹۸۸۔

[5]     موسوعۃ ابن ابی الدنیا ،  کتاب قصر الامل ،  ج۳ ،  ص۳۶۴ ،  الرقم:  ۲۸۳۔



Total Pages: 349

Go To