Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِتَّقُوْا غَضَبَ عُمَرَ فَاِنَّ اللہَ یَغْضِبُ اِذَا غَضَبَ یعنی عمر کے غصے سے بچو کیونکہ جب اسےغصہ آتا ہے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی جلال فرماتا ہے۔ ‘‘   ([1])

غصے کے متعلق چند مدنی پھول :

غصے کے متعلق چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں   تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ غصہ کرنا کہاں   جائز ہے ؟اور کہاں   ناجائز؟ واضح رہے کہ غصہ فی نفسہ برا نہیں   بلکہ غصے کا اظہار اگر شریعت کے دائرے میں   رہ کر کیا جائے تو جائز ورنہ ناجائز۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات نیک لوگوں   کو بھی غصہ آ جاتا ہے۔ چنانچہ ،

نیک لوگوں   کو بھی غصہ آتا ہے:

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ سینوں   میں   موجود قرآن حکیم کی عزت وعظمت کی خاطر حاملین قرآن کو بھی غصہ لاحق ہو جاتاہے ۔ ‘‘  ایک اور روایت میں   ہے:  ’’ دین کے لئے غصہ میری اُمت کے بہترین اور نیک لوگوں   ہی کو آتاہے۔ ‘‘   ایک روایت کا مضمون کچھ اس طرح ہے:   ’’ حاملینِ قرآن سے زیادہ دینی معاملے میں   کوئی غضبناک ہونے کا مستحق نہیں   کیونکہ ان کے سینے میں   قرآن پاک کی عزت و عظمت ہوتی ہے۔ ‘‘  ([2])

ناحق غصہ کرنامنع ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ناحق غصے کا اظہار کرنا ،  دل میں   کینہ رکھنا اور حسد کرنا یہ تینوں   چیزیں   ایک دوسرے کولازم وملزوم ہيں   یعنی ان کا ایک دوسرے سے تعلق ہے کیونکہ حسد کینے کا نتیجہ ہے اور کینہ غصے کا نتیجہ ہے۔چنانچہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:  (اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ-) (پ۲۶ ،  الفتح: ۲۶) ترجمۂ کنز الایمان:   ’’ جب کہ کافروں   نے اپنے دلوں   میں   اَڑرکھی وہی زمانہ جاہلیت کی اڑ(ضد) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں   پر اُتا ر ا اور پر ہیز گا ر ی کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے۔ ‘‘  حضرت علامہ مولانا حافظ ابن حجر مکی ہیتمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اس آیت مبارکہ کو ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ اس آیت مبارکہ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ناحق غصہ کے سبب صادر ہونے والی نخوت و مروّت ظاہر کرنے پر کفار کی مذمت فرمائی اور مسلمانوں   کو نخوت ومروّت سے بچانے والے اطمینان اورسکینہ نازل کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کی مدح فرمائی ہے کہ انہوں   نے پرہیز گاری کولازم پکڑلیا ہے ، اس لئے وہ اس کے اہل اورمستحق ٹھہرے ہیں  ۔ ‘‘   ([3])

غصہ پینے کا انعام:

  نور کے پیکر ، تمام نبیوں   کے سرور ، دوجہاں   کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کاارشادِ پاک ہے :  ’’  مومن کے غصہ پی لینے سے بڑھ کر کوئی گھونٹ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   زیادہ پسندیدہ نہیں   ،  او رجو غصہ نافذ کرنے پر قدرت کے باوجود غصہ پی لے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے دل کو امن اور ایمان سے بھردے گا ۔  ‘‘  ([4])

غصے کو زائل کرنے کا طریقہ:

غصے کو زائل کرنے کے طریقوں   پر مشتمل تین احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں  :

(1)  ’’ جب تم میں   سے کسی کو کھڑے ہوئے غصہ آئے تو وہ بیٹھ جائے اور اگر بیٹھے ہوئے آئے تو لیٹ جائے۔ ‘‘  ([5])

(2) ’’ جب تم میں   سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ پڑھ لے اس کا غصہ ختم ہوجائے گا۔ ‘‘  ([6])

(3) ’’ بے شک غصہ شیطان کی طرف سے ہے  ،  شیطان آگ کی پیدا ئش ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے لہٰذا جب تم میں   سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرلے۔ ‘‘   ([7])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ احادیث مبارکہ سے غصہ کی دوا اور اس کے کے بعد اسے زائل کرنے والے اعمال کا پتا چلتا ہے ،  لہٰذا ہرمسلمان کو چاہیے کہ غصہ زائل کرنے کی فضیلت والی روایات اور عفوودرگزر ،  بردباری اور صبر کے فضائل میں   غور کرے کیونکہ اس طرح انسان   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تیار کردہ ثواب میں   رغبت کرتاہے جس سے اس کے غصے و اہانت وسزا کی طرف مائل کرنے کا سبب زائل ہو جاتا ہے ،  خود امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مبارک عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔چنانچہ ،

فاروقِ اعظم نے آیت سنتے ہی معاف فرمادیا:

ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ایک شخص کو سزا کاحکم دیا تو اس نے یہ آیت مبارکہ پڑھی:  (خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ



[1]     تاریخ بغداد ،  محمد بن عبد اللہ ،  ج۳ ،  ص۴۹ ،  الرقم:  ۱۰۱۸۔

[2]     معجم کبیر ، عطاء عن ابن عباس ، ج۱۱ ، ص۱۲۲ ، حدیث: ۱۱۳۳۲۔

                                                کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ، الحدۃ ،  الجزء: ۳ ،  ج۲ ،  ص۵۵ ،  حدیث:  ۵۷۹۹ ،  ۵۸۰۳۔

[3]     الزواجر عن اقتراف الکبائر ،  ج۱ ،  ص۱۰۳۔

[4]     ابن ماجہ  ، ابواب الزھد  ، باب الحلم ،  ج۴ ،  ص۴۶۳ ،  حدیث:  ۴۱۸۹۔

                                                کنزالعمال ،  کتاب الاخلاق ،  باب العلم والاناء ،  الجزء: ۳ ،  ج۲ ،  ص۵۶ ،  حدیث: ۵۸۱۸۔

[5]     ابو داود ، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب ، ج۴ ، ص۳۲۷ ، حدیث: ۴۷۸۲۔

[6]     ابو داود ، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب ، ج۴ ، ص۳۲۷ ، حدیث: ۴۷۸۱ملخصا۔

[7]     ابو داود ،  کتاب الادب  ،  باب مایقال عند الغضب  ،  ج۴ ،  ص۳۲۸ ،  حدیث: ۴۷۸۴۔



Total Pages: 349

Go To