Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا    فرماتی ہیں   کہ میں   نے اسے کہا:  ’’  تمہیں   کیا ہوا ؟ ‘‘   اس نے کہا:   ’’  میں   نے سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آواز سنی ہےاس لیےمیں   خوفزدہ ہوگئی ہوں  ؟ ‘‘   یہ دیکھ کر تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ الشَّیْطَانَ لَیَفِرُّمِنْ حِسِّ عُمَر یعنی شیطان عمر کی آہٹ سے بھی بھاگ جاتا ہے۔ ‘‘  ([1])

بارگاہِ رسالت میں   فاروقِ اعظم کاپاس

رسول اللہ بھی فاروقِ اعظم کا لحاظ کرتے ہیں  :

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے روایت ہے کہ ایک بار میں   سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حریرہ ( ایک قسم کا شوربے والا کھانا) پکا کر لائی ۔(اُمّ المومنین حضرت سیدتنا) سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  میرے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درمیان بیٹھی ہوئی تھیں  ۔ میں   نے ان سے کہا:  ’’  تم بھی کھاؤ۔ ‘‘   انہوں   نے اِنکار کیا تومیں   نے خوش طبعی کرتے ہوئے کہا:   ’’ کھالو ورنہ میں   اسے تمہارے چہرے پر مل دوں   گی۔ ‘‘   انہوں   نے پھر انکار کیا تو میں   نے حریرہ سے ہاتھ بھرا اور ان کے چہرے پرمل دیا۔ انہوں   نے بھی اپنا ہاتھ حریرہ سے بھرا اور میرے چہرے پر مل دیا۔یہ دیکھ کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرا دیے۔ (اُمّ المومنین حضرت سیدتنا) سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے فرمایا:  ’’ اَلْطِخِی وَجْھَھَا یعنی اس کے (سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے) چہرے پر اور ملو۔ ‘‘   انہوں   نے میرے چہرے پراور مل دیا۔نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  یہ منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔اتنے میں   گھر کے باہر امیر المؤمنین حضرت عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے (اپنے بیٹے کو)آواز دی:  ’’ عَبْدُاللہ ،  عَبْدُاللہ ۔ ‘‘   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے محسوس کیا کہ غالباً حضرت عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اندر آنے والے ہیں   ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں   ارشاد فرمایا:   ’’ قُوْمَا فَاغْسِلَا وُجُوْھَكُمَا یعنی جلدی جلدی اٹھو اوراپنا منہ دھولو۔ ‘‘   اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں  :  ’’ فَمَا زِلْتُ اَھَابُ عُمَرَ لِھَیْبَۃِ  رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیَّاہُ یعنی جب سے میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا لحاظ کرتے ہوئے دیکھاتب سے میرے دل میں   بھی حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہیبت بیٹھ گئی ۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کا غصہ اور جلال

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ طیبہ کا جہاں   بھی ذکر کیا جاتا ہے وہیں   ان کے غصے اور جلال کو بھی بیان کیا جاتاہے۔ یقیناً آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا غصہ اور جلال عین شریعت کے مطابق ہوتا تھا ۔جہاں   دین اسلام  ،  عزت وعظمتِ اسلام کا معاملہ ہوتا ،  یا کہیں   احکامات شرعیہ کی خلاف ورزی ہوتی یقینا وہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جلال ظاہر ہوتا اور یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی تھی کہ جب آپ کی اپنی ذات کا معاملہ ہوتا تو قطعاً سختی نہ فرماتے اور جہاں   دین کا معاملہ ہوتا تو کسی کو معاف نہ فرماتے اگرچہ ان کا سگا بیٹا یا کوئی رشتہ دار ہی کیوں   نہ ہو۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دینی معاملے میں   سختی کو خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بیان فرمایا۔ چنانچہ  ،

فاروقِ اعظم کی دینی معاملات میں   سختی:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَرْحَمُ اُمَّتِیْ بِاُمَّتِیْ اَبُو بَكْرٍ وَاَشَدُّھُمْ فِیْ دِیْنِ اللہِ عُمَرُ وَاَصْدَقُهُمْ حَیَاءً عُثْمَانُ وَاَقْضَاھُمْ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ یعنی میری امت میں   سب سے زیادہ رحم دل ابوبکر ہیں   اور دینی معاملے میں   سب سے زیادہ سخت عمر ہیں    ، حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے عثمان ہیں   اور سب سے بڑے قاضی علی بن ابی طالب ہیں  ۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کی ملائکہ وانبیاء میں   مثل:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے فرمایا:   ’’ کیا میں   ملائکہ اور انبیاء میں   تمہاری مثل بیان نہ کروں  ؟ ‘‘   پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مثل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اے ابوبکر! ملائکہ میں   تمہاری مثال میکائیل کی طرح ہے جو رحمت (بارش)لے کر نازل ہوتے ہیں   اور انبیاء میں   تمہاری مثال حضرت ابراھیم عَلَیْہِ السَّلَام کی طرح ہے کہ جب ان کی قوم نے انہیں   جھٹلایا اور ان کے ساتھ نازیبا سلوک کیا تو انہوں   نے فرمایا:  (فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۶)) (پ۱۳ ،  ابراھیم: ۳۶) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔ ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی مثل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ اے عمر! ملائکہ میں   تمہاری مثال جبریل کی طرح ہے جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دشمنوں   پر اس کا عذاب ،  شدت اور سختی لے کر اترتے ہیں   اور انبیاء میں   تمہاری مثال حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی طرح ہے کہ انہوں   نے (اپنی قوم کے لیے بارگاہِ الٰہی میں   )یوں   دعا کی:  (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا(۲۶)) (پ۲۹ ،  نوح:  ۲۶) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے میرے رب زمین پر کافروں   میں   سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ ۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم کے غصے سے بچو:

 



[1]     ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۳۰۰۔

[2]     سنن کبریٰ للنسائی ،   کتاب عشرۃ النساء  ، باب الانتصار ،  ج۵ ،  ص۲۹۱ ،  حدیث:  ۸۹۱۷۔

                                                 کنزالعمال ،  کتاب الفضائل ،  فضائل الفاروق ،  الجزء: ۱۲ ،  ج۶ ،  ص۲۶۵ ،  حدیث: ۳۵۸۳۸۔

[3]     ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ ،  فضائل خباب ،  ج۱ ،  ص۱۰۲ ،  حدیث: ۱۵۴ملتقطا۔

[4]     السنۃ لابن ابی عاصم ،  باب فی جماع فضائل ابی بکر وعمر ،  ص۳۲۴ ،  الرقم:  ۱۴۶۱۔



Total Pages: 349

Go To