Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭… ’’ فَدَخَلَ اَبُو بَكْرٍ وَهِیَ  تَضْرِبُ پھر ابوبکر آئے تب بھی یہ دف بجاتی رہی۔ ‘‘ 

٭… ’’ ثُمَّ دَخَلَ عَلِیٌّ وَهِیَ  تَضْرِبُ پھر علی آئے تب بھی یہ دف بجاتی رہی۔ ‘‘ 

٭… ’’ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِیَ  تَضْرِبُ پھر عثمان آئے تب بھی یہ دف بجاتی رہی۔ ‘‘ 

٭… ’’ فَلَمَّا دَخَلْتَ اَنْتَ یَا عُمَرُ اَلْقَتِ الدُّفَّ لیکن اے عمر! جیسے ہی تم داخل ہوئے اس نےدف بجانا بند کردیا۔ ‘‘  ([1])

مذکورہ حدیث پاک کی شرح:

مُفَسِّرِ شَھِیر ،  حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں   فرماتے ہیں   :

٭…یہ نذر شرعی نہیں   تھی کہ نذر شرعی میں   ضروری ہے کہ جنس واجب سے ہو ،  دف بجانا اور گانا کہیں   واجب نہیں  ۔ نذر بمعنی نذرانہ عقیدت ہے ،  ہرشخص اپنی حیثیت کے لائق ہی نذرانہ اس بارگاہِ عالی میں   پیش کرتا ہے ،  اس لونڈی کے پاس یہ ہی نذرانہ تھا:

کچھ پاس نہیں   میرے کیا نذر کروں   تیرے

اک ٹوٹا ہوا دل ہے اور گوشۂ تنہائی

٭…ذکر بجانے کا ہے ،  گانے کی اجازت بھی اس میں   داخل ہے۔(مرقات)یعنی گاتے بجاتے اپنے دل کے ارمان پورے کرے۔ خیال رہے کہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی سلامتی تشریف آوری پر خوشی منانا بہترین عبادت ہے۔ اس لیے یہ نذر درست ہوئی۔ نذر عبادت کی ہوتی ہے۔(مرقات واشعہ) گناہ کی نذر درست نہیں  ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں  :  لَانَذْرَ فِیْ مَعْصِیَۃٍ (نسائی شریف)۔

٭…خیال رہے کہ جھانجھ کے ساتھ دف وغیرہ ممنوع ہے ،  بغیر جھانجھ بلا ضرورت کھیل کود کے لیے بھی ممنوع غرض صحیح کے لیے دف ،  تاشہ بجانا جائز ہے۔ لہٰذا اعلان نکاح ،  روزے کے افطار یا سحری کے لیے ،  یوں   ہی غازیوں   کے لیے دف بجانا جائز ہے۔ یہ دف جھانجھ سے اور لہو ولعب سے خالی تھی لہٰذا جائز تھی۔ لونڈی پر نہ تو پردہ واجب ہے نہ اس کی آواز عورت ہے ،  اسے اجنبی شخص دیکھ بھی سکتا ہے ،  اس کی آواز بھی سن سکتا ہے۔ لہٰذا یہاں   یہ اعتراض نہیں   کہ حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اجنبی عورت کو کیوں   دیکھا اور اس کی آواز کیوں   سنی ،  نہ اس سے مروجہ ناچ گانے پر دلیل پکڑی جاسکتی ہے کہ اب آزاد عورتیں   بن سنور کر گاتی ہیں   یہ حرام قطعی ہے۔ اس حدیث سے بہت لوگ دھوکہ کھا گئے ہیں  ۔

٭…یہ ہیبتِ فاروقی تھی کہ اس بی بی نے وہ کام بند کردیا جو جائز بلکہ عبادت تھا مگر لہو و لعب کی صورت میں   تھا۔ حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کو دیکھ کر گھبرا گئی جیسے بعض ہیبت والے آدمیوں   کو دیکھ کر بیٹھے ہوئے باتیں   کرنے والے لوگ ادھرادھر ہوجاتے ہیں   جگہ خالی کرجاتے ہیں   حالانکہ وہاں   ان کا بیٹھنا باتیں   کرنا حرام نہیں   ہوتا۔ لہٰذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں   کہ اگر یہ کام جائز تھا تو حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کو دیکھ کر اس بی بی نے بند کیوں   کردیا اور اگر حرام تھا تو پہلے حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سامنے کیوں   ہوا۔ مگر حضرات صوفیاء فرماتے ہیں   کہ یہ کام ان حضرات کے لیے درست تھا ،  حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کے لیے درست نہ تھا اس لیے ان حضرات کے سامنے ہوتا رہا ،  حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کے آنے پر بند ہوگیا کہ اب لہو و لعب بن گیا۔

٭…( ’’ اے عمر! شیطان تم سے ڈرتا ہے ‘‘  اس فرمان کے تحت فرماتے ہیں  : )اے عمر یہ تو ایک عورت ہے جو ایسا کام کررہی تھی جو حقیقۃً درست تھا صورۃً کھیل تھا یہ کیوں  نہ ڈر جاتی تمہاری ہیبت کا تو یہ عالم ہے کہ تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے جو مردود دُوسروں   سے نہیں   ڈرتا۔ اس فرمان عالی میں   نہ تو اس عورت کوشیطان فرمایا گیا اور نہ اس کے اس عمل کو شیطانی کہا گیا کہ یہ عمل حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اجازت سے ہوا تھا لہٰذا حدیث بالکل ظاہر ہے یا یہ مطلب ہے کہ اب تمہارے آنے سے یہ کام غیر درست ہوگیا اور بند ہوگیا۔

٭…اس حدیث سے بہت سے وہ مسائل حاصل ہوئے جو ابھی شرح کے ضمن میں   عرض کیے گئے:  (۱)حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی سلامتی اور تشریف آوری کی خوشی منانا عبادت مستحبہ ہے ۔ لہٰذا میلاد شریف ،  معراج شریف وغیرہ کی تاریخوں   میں   عید منانا ،  خوشیاں   کرنا عبادت ہے۔(۲) لونڈی پر پردہ نہیں  ۔ (۳)لونڈی کی آواز اجنبی سن سکتا ہے۔ (۴)دف بجانا مطلقاً منع نہیں   بلکہ لہو و لعب کے لیے ہوتو منع ہے۔(۵) اچھے اور جائز اشعار گانا اور ان کا سننا منع نہیں  ۔ (۶)حضرت صدیق و عثمان وعلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ پر غلبۂ محبت ہے اور حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )پر غلبۂ اطاعت۔ لہٰذا ان حضرات کے مراتب جدا گانہ ہیں  ۔([2])

فاروقِ اعظم کی آہٹ سے بھی شیطان بھاگ جاتاہے:

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   سے روایت ہے کہ ایک انصاری عورت میرے پاس آکر کہنے لگی:  ’’  میں   نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عہد کیا ہےکہ اگر میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو امن میں   دیکھا تو میں   دف بجائوں   گی۔ ‘‘   سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں   کہ اس کی یہ بات میں   نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تک پہنچائی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:  ’’  اسے کہو اپنی بات پوری کرلے۔ ‘‘   یہ سن کر وہ آپ کے قریب دف بجانے لگی۔ ابھی اس نے دو یا تین ضربیں   ہی لگائی ہوں   گی کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ تو دف اس کے ہاتھ سے نیچے جا پڑی ،  اور وہ بھاگ کر پردے کے پیچھے چھپ گئی۔ سیدتنا



[1]     ترمذی  ، کتاب المناقب ،  مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب ،  ج۵ ،  ص۳۸۶ ،  حدیث: ۳۷۱۰۔

[2]     مرآۃ المناجیح ،  ج۸ ،  ص۳۶۹۔



Total Pages: 349

Go To