Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

معلوم کر سکوں   کہ آپ کے ہاں   میرا مقام کیا ہے۔ ‘‘  میں   نے دیکھا کہ اچانک بازار میں   حضرت عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آگئے۔ان کی آمد ہی تھی کہ سب لوگ بھاگ گئے اور وہ بچی اکیلی ر ہ گئی۔ ‘‘   سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں   کہ یہ دیکھ کر حضور نبی ٔکریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’  اِنِّیْ لَاَنْظُرُ اِلٰی شَیَاطِیْنِ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ یعنی میں   دیکھ رہا ہوں   کہ انسانی اور جناتی شیطان عمر کو دیکھ کر بھاگ رہے ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

مذکورہ حدیث پاک کی شرح:

مُفَسِّرِ شَھِیر ،  حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں   فرماتے ہیں   :

٭…ناچنے والی لونڈی تھی وہ بھی بچی اور اس کا تماشہ دیکھنے والے بھی مدینہ منورہ کے بچے تھے۔ (حدیث پاک میں   موجود لفظ) ’’ تَزْفَنُ ‘‘   بنا ہے  ’’ زَفْنٌ ‘‘   سے بمعنی پاؤں   زمین پر مارنا ۔اس سے مراد ہے  ’’ ناچنا۔ ‘‘   عموماً بچے ایسی حرکتیں   کرتے ہیں   یہ اُن کا کھیل کود اورشُغل ہوتاہے۔

٭…اُس وقت اُمّ المؤمنین (حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  ) بھی نو عمر بچی ہی تھیں   ،  آپ کا کھیل دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ یہ ہے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اَخلاق کریمانہ ،  ہم کو تعلیم دی کہ گھر والوں   سے ایسا  برتاؤ کرو ،  اپنی بیوی کے جائز شوق حتی المقدور پورے کرو۔ معلوم ہوا کہ بچوں   کا کھیلنا اور انہیں   کھیل دکھانا بالکل جائز ہے۔

٭…(حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں   کہ)حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے سامنے کھڑے ہوگئے ،  آڑ بن گئے ،  میں   نے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ دی۔ کندھے اور سر مبارک کے درمیان سے ان کا کھیل دیکھنے لگی:

ناز برداری تمہاری کیوں   نہ فرمائے خدا

نازنین حق نبی ہیں   تم نبی کی نازنین

آپ کا لقب ہے  ’’ محبوبۂ محبوبِ رب العالمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  ۔ ‘‘   ہم سب کو فخر ہے کہ ہم اس عظمت والی ماں   کی اولاد ہیں۔

٭…(حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں   کہ)میں   بہت دیر تک یہ تماشہ دیکھتی رہی اور حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری خاطر کھڑے رہے ،  میں   اگرچہ تماشہ سے سیر ہوچکی تھی ،  مگر میں   یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مجھ سے کتنی محبت ہے اور میری خاطر حضور کب تک یہاں   قیام فرمارہیں   گے۔

٭…(تمام لوگوں   کے)بھاگنے کی وجہ ابھی پچھلی حدیث میں   عرض کی گئی کہ یہ کام جائز تھا مگر صورۃً کھیل تماشا تھا۔ حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کی ہیبت چھوٹوں   بڑوں   سب کے دلوں   میں   تھی ،  یہ رعب وہیبت رب تعالی کا عطیہ تھی۔

٭…یہ شیاطین جو اس وقت بھاگے یہ وہ شیاطین تھے جو انسانوں   کے ساتھ رہتے یا جو بازار میں   مجمعوں   میں   رہتے ہیں   ،  حدیث شریف میں   ہے کہ بازاروں   میں   مساجد میں    ،  مجمعوں   میں   شیاطین رہتے ،  مسجدوں   کے شیاطین وضو اور نماز میں   بہکانے کے لیے رہتے ہیں  ۔ بازاروں   میں   گناہ کرانے کے لیے اس سے لازم نہیں   آتا کہ بازاروں   اور مسجدوں   میں   جانا حرام ہو یا وہاں   کی حاضری شیطانی کام ہو۔ دوسری روایات میں   ہے کہ عید کے دن بچے حدود مسجد میں   کھیل رہے تھے ،  حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )نے انہیں   بھگانا چاہا تو حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:  عمر آج عید ہے انہیں   عید منانے دو۔ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا)کے پاس کچھ بچیاں   گابجارہی تھیں   ،  حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چادر اوڑھے لیٹے تھے ،  جناب صدیق اکبر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے انہیں   منع کیا تو چہرہ انور کھول کر فرمایا کہ  ’’ اے ابوبکر ہر قوم کی عید ہوتی ہے آج ہماری عید ہے ،  انہیں   خوشی منانے دو۔ ‘‘   بہرحال یہ حدیث بالکل واضح ہے کہ حضرت اُمّ المؤمنین (سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  )بھی اس وقت بچی تھیں   اور وہ ناچنے والی بھی بچی  ،  ناچ دیکھنے والے بھی بچے تھے ،  لہٰذا یہاں   بے پردگی کا سوال پیدا نہیں   ہوتا۔([2])

آپ کی آمد اور شیطان رفو چکر:

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ ایک بار تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک جنگ سے واپس تشریف لائے تو ایک حبشیہ لڑکی آکر کہنے لگی:  ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   نے نذر مانی تھی کہ اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو سلامتی سے واپس لائے گا تومیں   آپ کے سامنے دف بجائوں   گی اور گائوں   گی۔ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:   ’’ اگر تم نے نذر مانی ہے تو بجا لو نہیں   تو رہنے دو۔ ‘‘   یہ سن کر وہ دف بجانے لگی۔اسی اثنا میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آگئے ،  وہ دف بجاتی رہی ، اسی طرح حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  اور پھر حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے مگر وہ برابر دف بجاتی رہی۔  پھر اچانک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے آئے۔جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آمد ہوئی  ، لڑکی نے فوراً دف نیچے رکھی اور خود اس کے اوپر بیٹھ گئی۔ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:

٭…  ’’ اِنَّ الشَّيیْطَانَ لَیَخَافُ مِنْكَ یَا عُمَرُ یعنی اے عمر! شیطان تم سے خوف کھاتا ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ اِنِّیْ كُنْتُ جَالِسًا وَهِیَ  تَضْرِبُ یعنی میں   بیٹھا ہوا تھا تب بھی یہ دف بجاتی رہی۔ ‘‘ 

 



[1]     ترمذی  ، کتاب المناقب ،  باب فی مناقب عمر بن الخطاب ،  ج۵ ،  ص۳۸۷ ،  حدیث: ۳۷۱۱۔

[2]     مرآۃ المناجیح ،  ج۸ ،  ص۳۷۲۔



Total Pages: 349

Go To