Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عمر ! شیطان تمہیں   کسی راستے پر چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ ‘‘  ([1])

شیطان کے راستہ چھوڑنے کی وجہ:

عارف باللّٰہ ،  ناصح الامۃ ،  علامہ عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اس حدیث پاک کو بیان کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ شیطان حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا راستہ کیوں   چھوڑتا تھا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ دل شیطان کی چراگاہ اور خوراک نہیں   بلکہ اس کی چراگاہ اور خوراک تو شہوات ہیں  ۔ تو اے لوگو! تم جب محض   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کے ذریعے شیطان کا بھگانا چاہو گے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے شیطان دور بھاگ جاتا تھا تو ایسا ناممکن ہے کیونکہ تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو پرہیز سے پہلے دوائی پینا چاہتاہے حالانکہ معدہ مرغن غذاؤں   سے بھرا ہوا ہے۔ نیز وہ ایسا کرکے اس شخص کی طرح نفع حاصل کرنا چاہتاہے جو پرہیز اور معدہ خالی کرنے کے بعد دوائی پیتاہے۔جان لو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر دوا ہے اور تقویٰ پرہیز ہے جو دل کو شہوات سے خالی رکھتاہے لہٰذا جب   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر شہوات سے خالی دل میں   اترتا ہے تو وہاں  سے شیطان ایسے بھاگتاہے جیسے غذا سے خالی معدہ میں   دوا اترنے سے بیماری بھاگتی ہے۔ چنانچہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:  (اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ) (پ۲۶ ،  ق: ۳۷)  ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ بے شک اس میں   نصیحت ہے اس کے لیے جو دل رکھتا ہو۔ ‘‘ 

مزید ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ جب آپ حالت نماز میں   ہوں   تو اپنے دل کی کڑی نگرانی کریں   اور دیکھیں   کہ کیسے شیطان اسے بازاروں   ،  دنیا بھر کے حساب وکتاب اور دشمنوں   کے جوابات دینے کی جانب کھینچ کر لے جاتاہے؟ اور کیسے آپ کو دنیا بھر کی مختلف وادیوں   اور ہلاکت خیزیوں   کی سیر کراتاہے؟ یہاں   تک کہ فضولیات دنیا میں   سے جو چیز آپ کو یاد نہیں   آتی وہ بھی حالت نماز میں   یاد آجاتی ہے۔ تو شیطان آپ کے دل پر یلغار اسی وقت کرتاہے جبکہ آپ نماز اس حالت میں   ادا کررہے ہوں   کہ دل بحث ومباحثہ میں   مشغول ہو۔ اس لمحے دل کی خوبیاں   وخامیاں   سب ظاہر ہوجائیں   گی۔ آپ اگر واقعی شیطان سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں   تو تقوی کے ساتھ پہلے پرہیز اپنائیں   پھر اس کے بعد   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذکر کی دوا استعمال کریں   تو شیطان آپ سے ایسے ہی بھاگے گا جیسے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھاگتاتھا۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم اور بوڑھے عابد کی شکل میں   شیطان:

 دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۴۹صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ حکایتیں   اور نصیحتیں   ‘‘   ص ۳۸پر ہے:   امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں   کہ ایک دفعہ میں   نماز ِجمعہ کے لئے نکلا تومجھے ایک بوڑھے عابد کی شکل میں   ابلیس ملا۔ اس نے مجھ سے پوچھا:   ’’ اے عمر! کہا ں   کا ارادہ ہے؟ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ نماز کے لئے جارہا ہوں  ۔ ‘‘   کہنے لگا:   ’’ نماز تو ہو چکی ،  اب آپ کی نمازِجمعہ فوت ہوگئی ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ میں   نے اس کو پہچان لیا اور اسے گردن اور گُدّی سے پکڑ کر کہا:   ’’ تیرا ستیاناس ہو! کیا تو عابدوں   اور زاہدوں   کا سردار نہ تھا؟ تجھے ایک سجدے کا حکم دیا گیا مگر تُو نے انکار کیا ،  تکبر کیا ،  اور کافروں   میں   سے ہوا ،  اب قیا مت تک تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دور رہے گا۔ ‘‘  تو وہ کہنے لگا:   ’’ اے عمر! ذرا خیال سے بول ،  کیا فرمانبرداری میرے بس میں   ہے یا بدبختی میری مشیّت کے تحت ہے؟ میں   نے عرش کے نیچے بہت سجدے کیے ،  یہاں   تک کہ آسمان کا کوئی حصہ ایسا نہیں   جس پرمیں   نے رکوع وسجود نہ کیے ہوں  ۔ اتنے قرب کے باوجود مجھے کہا گیا:  (فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ۝۳۴ وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ۝۳۵) (پ۱۴ ، الحجر: ۳۴ ،  ۳۵)ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ تو جنت سے نکل جا کہ تو مردو د ہے۔ اور بے شک قیامت تک تجھ پر لعنت ہے ۔ ‘‘  پھر کہنے لگا:  ’’ اے عمر! کیا تمہیں   یقین ہے کہ تم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے امن میں   ہو؟ ‘‘   (فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠۝۹۹) (پ۹ ،  الاعراف:  ۹۹) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ تو اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر نہیں   ہوتے مگر تباہی والے۔ ‘‘  تو میں   نے اس سے کہا:   ’’ میری نظروں   سے اوجھل ہوجا! مجھے طاقت نہیں   کہ (اس مسئلہ میں  ) تجھ سے بحث کروں  ۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کو شیطان غلط کام کا حکم نہیں   دیتا:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر شخص کے ساتھ نیکی کا ایک فرشتہ ہے جو اسے نیکی کی طرف بلاتاہے اورایک بدی کا شیطان ہوتاہےجو اسے برائیوں   کی طرف بلاتاہے ،  لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ جو بدی والا شیطان تھا وہ بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو برے کاموں   کی طرف بلانے سے ڈرتا تھا۔ چنانچہ ،

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’ اِنَّا كُنَّا لَنَرٰى شَیْطَانَ عُمَرَ یَھَابُہُ اَنْ یَاْمُرَہُ بِالْخَطِیْئَۃِ یَعْمَلُھَا یعنی ہم تمام صحابہ یہی سمجھتے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ جو شیطان ہے وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ آپ کو کسی غلط کام کا حکم دے۔ ‘‘  ([4])

انسانی و جناتی شیطان عمر سے بھاگتے ہیں   :

اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   سے روایت ہے کہ ایک بار دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  گھر میں   تشریف فرما تھے ،  اچانک ہم نے بازار سے شور و غل اور بچوں   کی آوازیں   سنیں  ۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اٹھ کر دیکھا تو ایک حبشی لڑکی اچھل کود کررہی تھی اور بچے اس کے گرد شور مچارہے تھے۔ سرکارِ والا تبار ،  ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا:  ’’  اے عائشہ ! آئو دیکھو۔ ‘‘   تو مَیں   آئی اور اپنی ٹھوڑی حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کندھے پر رکھ کر آپ کے کندھے اور سر کے درمیان سے دیکھنے لگی۔ آپ نے کئی بار فرمایا:  ’’  تم ابھی سیر نہیں   ہوئیں  ؟ ‘‘   اور میں   ہر بار  ’’  نہیں    ‘‘   میں   جواب دے دیتی تاکہ



[1]     بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب  مناقب عمر بن الخطاب ،  ج۲ ،  ص۵۲۶ ،  حدیث: ۳۶۸۳ ملتقطا۔

[2]     اصلاحِ اعمال ،  جلداوّل ،  ص۲۱۲۔

[3]     الروض الفائق ،  ص۱۳۔

[4]     کنز العمال  ،  کتاب الفضائل ،  فضل الشیخین ،  الجزء: ۱۳ ،  ج۷ ،  ص۱۲ ،  حدیث: ۳۶۱۴۱ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To