Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ’’ صدیق وہ ہوتاہے جیسا وہ کہہ دے بات ویسی ہی ہوجائے۔ ‘‘  چنانچہ حکیم الامت مفتی احمدیار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ صدیق وہ کہ جیسا وہ کہہ دے بات ویسی ہی ہوجائے۔ اسی لیے تو (حضرت سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے ساتھ جودوقیدی تھے ان میں   سے )شاہی ساقی (یعنی بادشاہ کو شراب پلانے والے )نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو صدیق کہا کیونکہ اس نے دیکھا کہ جو آپ نے کہا تھا وہ ہی ہوا  ،  عرض کیا:  یُوْسُفُ اَیُّھَا الصِّدِّیْقُ ۔ ‘‘  ([1])

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ خصوصی فضل وکرم تھا کہ جو بات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے منہ سے نکلتی اکثر وہ پوری ہوجاتی۔چنانچہ ،

فاروقِ اعظم نے جو کہہ دیا وہ ہوگیا:

ایک بار ربیعہ بن امیہ بن خلف نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے اپنا خواب بیان کیاکہ  ’’ میں   ایک ہرے بھرے میدان میں   ہوں   ،  پھر اس سے نکل کر ایک ایسے چٹیل میدان میں   آگیا جس میں   دور دورتک گھاس یادرخت کا نام و نشان بھی نہیں   تھا ۔جب میں   نیند سے بیدار ہوا تو واقعی میں   ایک بنجر میدان میں   تھا۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے خواب کی تعبیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :   ’’ تو ایمان لائے گا  ،  پھرا س کے بعد کافر ہوجائے گا اورکفرہی کی حالت میں   مرے گا۔ ‘‘   اپنے خواب کی یہ تعبیر سن کر وہ کہنے لگا :   ’’ حضرت! میں   نے کوئی خواب نہیں   دیکھا ہے  ، میں   نے تو یوں   ہی جھوٹ موٹ آپ سے کہہ دیا ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ تو نے خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو مگر میں   نے جو تعبیر بیان کردی ہے وہ اب پوری ہوکر رہے گی۔ ‘‘   چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مسلمان ہونے کے بعد اس نے شراب پی ، سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کو کوڑوں   کی سزادی اور شہر بدر کر کے خیبر بھیج دیا۔ وہ وہاں   سے بھاگ کر روم کی سرزمین میں   چلا گیا اور وہاں   جاکر نصرانی ہوگیا ،  پھر مرتد ہوکر کفر ہی کی حالت میں   مرگیا۔([2])

آسمانی کتابوں   میں   فاروقِ اعظم کا ذکر

(1)امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مؤذن حضرت سیِّدُنا اقرع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک پادری سے استفسار فرمایا:   ’’ ھَلْ تَجِدُوْنَا فِیْ شَیْءٍ مِّنْ کُتُبِکُمْ یعنی کیا تم اپنی کتابوں   میں   ہمارے بارے میں   بھی کچھ لکھا ہوا پاتے ہو؟ ‘‘   اس نے عرض کی:   ’’ ہم اپنی کتابوں   میں   آپ کی صفات اور اعمال وغیرہ کا ذکر پاتے لیکن اسماء کا نہیں  ۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ کَیْفَ تَجِدُوْنِیْ یعنی میرے بارے میں   تم کیا لکھا ہوا پاتے ہو؟ ‘‘   اس نے عرض کی:   ’’ قَرْنٌ مِّنْ حَدِیْدٍ یعنی جی ہاں  ! ہماری کتابوں   میں   لکھا ہوا ہے کہ آپ لوہے کا سینگ ہیں۔ ‘‘   آپ نے فرمایا:   ’’ لوہے کا سینگ! یہ کیا ہے؟ ‘‘   اس نے عرض کی:   ’’ امیر شدید یعنی (دینی معاملے میں  )سختی کرنے والا حاکم۔ ‘‘  آپ نے شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا:   ’’   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے اور تمام تعریفیں   اسی کے لیے ہیں  ۔ ‘‘  ([3])

(2)حضرت سیِّدُنا عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہگھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ کی پنڈلی سے کپڑا ہٹ گیا تو اہل نجران نے دیکھا کہ وہاں   ایک سیاہ نشان ہے۔ تو وہ کہنے لگے:   ’’ ھٰذَا الَّذِیْ نَجِدُ فِیْ کِتَابِنَا یُخْرِجُنَا مِنْ اَرْضِنَا یعنی یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں   ہماری کتابوں   میں   لکھا ہے کہ وہ ہمیں   ہماری زمین سے نکال دے گا۔ ‘‘  ([4])

ہیبت فاروقِ اعظم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حق وصداقت کے شہنشاہ تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ عظیم نعمت بارگاہِ خداوندی سے بوسیلہ بارگاہِ رسالت عطا ہوئی تھی ،  حق وصداقت کے ساتھ ساتھ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات مبارکہ میں   ایسی ہیبت رکھی تھی جو باطل کو جھنجوڑ کے رکھ دیتی تھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ ہیبت حق وباطل کے درمیان ایک آڑ تھی ،  اس ہیبت کے سبب بڑے بڑے سُورماؤں   کا پِتا پانی ہوجاتا (جوش دب جاتا) ،  حالانکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ظاہری وضع قطع میں   نہایت ہی سادہ شخصیت کے مالک تھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اس ہیبت سے نہ صرف انسان کانپتے بلکہ شیطان پربھی لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔چنانچہ ،

ہیبت فاروقِ اعظم اور شیطان

فاروقِ اعظم کی ہیبت اور شیطان کا فرار :

حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں  اس وقت حاضر ہوئے جب کچھ قریشی عورتیں   آپ سے سوالات کررہی تھیں   اوران کی آواز بھی کافی اونچی تھی۔جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ داخل ہوئے تو وہ عورتیں   آپ کی آواز کو سنتے ہی دبک گئیں   اورفوراً ہی خاموشی سادھ لی۔ یہ منظر دیکھ کر خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرادیئے۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان عورتوں   کو مخاطب کرکے کہا:  ’’ یَا عَدْوَاتِ اَنْفُسِهھِنَّ تَھِبْنَنِیْ وَلَا تَھِبْنَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ  وَ سَلَّمَ یعنی اے اپنی جان کی دشمنو! مجھ سے تمہیں   خوف آتا ہے ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے نہیں   آتا۔ ‘‘   تو انہوں   نے عرض کیا:   ’’ اِنَّكَ اَفَظُّ مِنْ رَّسُوْلِ اللہِ وَاَغْلَظُ یعنی آپ مزاج اور گفتگو کے لحاظ سے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے زیادہ سخت ہیں  ۔ ‘‘  یہ سن کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا :   ’’ یَا عُمَرُ مَا لَقِیَكَ الشَّیْطَانُ سَالِكًا فَجًّا اِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّكَ یعنی اے



[1]     مرآۃ المناجیح ،  ج۸ ، ص۱۶۲۔

[2]     ازالۃ الخفاء  ، ج۴ ، ص۱۰۱۔

[3]     مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب الرابع ،  ص۱۵۔

[4]     مناقب امیر المؤمنین عمربن الخطاب ،  الباب الرابع ،  ص۱۶۔



Total Pages: 349

Go To