Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ڈرتے رہتے تھے اور مختلف صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے اپنے متعلق رائے لیتے تھے۔چنانچہ ،

کیا منافقین میں   میرا نام بھی ہے؟

 دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۵۷ صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ جہنم میں   لے جانے والے اعمال ‘‘  جلد اول ،  صفحہ ۷۸ پر ہے:  حسنِ اخلاق کے پیکر ، نبیوں   کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   (یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو)جنت کی بشارت عطا فرمائی مگر اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے فتنوں   اورمنافقین سے متعلق احوال میں   حضور نبئ پاک ،  صاحبِ لَولاک ،  سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے راز دار صحابی حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے استفسارفرمایا:   ’’ اے حذیفہ! کیامنافقین میں   میرا نام بھی ہے؟ ‘‘   تو حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی:   ’’ اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! آپ ان میں   سے نہیں   ۔ ‘‘   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں   میرے نفس نے میرے احوال کومشتبہ تو نہیں   کر دیا اور میرے عیوب کو مجھ سے چھپا تو نہیں   لیا اوریہ خوف اتنا زیادہ ہوا کہ انہوں   نے رسولِ کائنات  ، فخرِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے ملنے والی جنت کی بشارت کو چند ایسی شرائط سے مشروط جانا جوآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  میں   نہ پائی جاتی تھیں   ،  لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اس بشارت سے اپنے آپ کو مطمئن نہ کيا ۔  ‘‘ 

فاروقِ اعظم بچوں   سے دعا کرواتے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن بریدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بسا اوقات چھوٹے چھوٹے بچوں   کا ہاتھ پکڑ کر لے آتے اور ان سے ارشاد فرماتے:   ’’ اُدْعُ لِیْ فَاِنَّکَ لَمْ تَذْنَبْ بَعْدُ یعنی میرے لیے دعا کرو کیونکہ تم نے ابھی تک گناہ نہیں   کیا۔ ‘‘  ([1])

دعا کرو۔۔۔ عمربخشاجائے:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   یہ بھی منقول ہے کہ آپ مدینہ منورہ کے کمسن یعنی نابالغ بچوں   سے اپنے لیے یوں   دعا کرواتے کہ  ’’ دعا کرو! عمر بخشا جائے۔ ‘‘  ([2])

  اللہعَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرتے:

امیر المؤمنین حضر ت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ہمیشہ ڈرتے تھےیہاں   تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنے فرزندحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو یہ وصیت کردی تھی :  ’’ مجھے لحد میں  رکھنے کے بعد میرا چہرہ زمین سے اس طرح ملا دینا کہ درمیان میں   کوئی چیز حائل نہ ہو۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم حق وصداقت کے شہنشاہ

فاروقِ اعظم کی زبان اور دل پر حق نازل فرما دیا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ اِنَّ اللہَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖ یعنی بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے عمر فاروق کی زبان اور دل پر حق جاری فرما دیا ہے۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم حق ہی کہتے ہیں   اگرچہ کڑوا ہو:

حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ رَحِمَ اللہُ عُمَرَ یَقُولُ الْحَقَّ وَاِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَہُ الْحَقُّ وَمَا لَہُ  صَدِیْقٌ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّعمر پر رحم فرمائے کہ وہ حق ہی کہتے ہیں   اگرچہ کڑوا ہواور حق بات کہنے سے ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ان کا کوئی دوست نہیں  ۔ ‘‘  ([5])

حق فاروقِ اعظم کی زبان پر رکھ دیا گیا :

حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ اللہَ تَعَالٰی وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ یَقُولُ بِہ ٖیعنی بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حق عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے وہ حق ہی بولتے ہیں  ۔ ‘‘   ([6])

فاروقِ اعظم جہاں   بھی ہوں   حق ان کے ساتھ ہوگا:

حضرت سیِّدُنا فضل بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تبار ،  ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:  ’’ عُمَرُ مَعِیَ وَاَنَا مَعَ عُمَرَ وَالْحَقُّ بَعْدَہُ مَعَ عُمَرَ حَیْثُ كَا نَ یعنی عمر میرے ساتھ ہے اور میں   عمر کے ساتھ ہوں   ،  میرے بعد عمر جہاں   بھی ہو حق اس کے ساتھ ہوگا۔ ‘‘  ([7])

حق میرے بعد فاروق کے ساتھ ہوگا:

ایک روایت میں   ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اُدْنُ مِنِّیْ وَاَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْكَ وَالْحَقُّ بَعْدِیْ مَعَكَ یعنی اے عمر



[1]     مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب الستون ،  ص۱۸۱۔

[2]     فضائل دعا  ،  ص۱۱۲۔

[3]     موسوعۃ آثار الصحابۃ ، مسند آثار الفاروق ۔۔۔الخ  ، ج۱ ، ص۱۴۱  ،  الرقم: ۷۱۳۔

[4]     ترمذی ، کتاب المناقب ،  مناقب ابی حفص عمربن الخطاب ،  ج۵ ،  ص۳۸۳ ،  حدیث:  ۳۷۰۲۔

[5]     ترمذی  ، کتاب المناقب ، مناقب علی بن ابی طالب ،  ج۵ ،  ص۳۹۸ ،  حدیث: ۳۷۳۴ ملتقطا۔

[6]     ابو داود  ، کتاب الخراج والفی والامارۃ ،  باب فی تدوین العطاء ،  ج۳ ،  ص۱۹۳ ،  حدیث: ۲۹۶۲۔

[7]     فضائل خلفاء الراشدین لابی نعیم ،  ص۱۸ ،  حدیث: ۱۱  ،  معجم اوسط  ، من اسمہ ابراھیم  ، ج۲ ،  ص۹۲ ،  حدیث: ۲۶۲۹۔



Total Pages: 349

Go To