Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ل خرچ ہونے کی علامت ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سےروایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ وہ گوشت کھارہے ہیں   تو فرمایا:   ’’  مَاھٰذَا یعنی یہ کیا ہے؟ ‘‘   انہوں   نے عرض کیا:   ’’ قَرِمْنَا اِلَیْہِ یعنی حضور! ہمیں   اس گوشت کو کھانے کی شدید خواہش تھی۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دنیا کی بے رغبتی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ كُلَّمَا قَرِمْتَ اِلٰی شَیْءٍ اَكَلْتَہُ كَفٰی بِالْمَرْءِ سَرَفًا اَنْ یَاْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَھٰی یعنی جب بھی تمہیں   کسی شے کی شدید خواہش ہوگی تو تم اسے کھانا شروع کردو گے  ،  یاد رکھو! کسی شخص کے فضول خرچ ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر اس چیز کو کھائے جس کی اسے خواہش ہو۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم اور جذبۂ ایثار

ایثار کا عظیم جذبہ:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نےامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کچھ عطا فرمایا تو انہوں   نے یوں   عرض کی:   ’’ اَعْطِہِ يَا رَسُولَ اللہِ اَفْقَرَ اِلَیْہِ مِنِّیْیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   !آپ یہ چیز کسی ایسے شخص کو عطا فردیں   جو مجھ سے زیادہ اس چیز کی حاجت رکھتا ہو۔ ‘‘  تواللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ خُذْهُ فَتَمَوَّلْہُ اَوْ تَصَدَّقْ بِہٖ وَمَا جَاءَكَ مِنْ ھَذَا الْمَالِ وَاَنْتَ غَیْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْہُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْہُ نَفْسَكَ یعنی اے عمر! اسے لے لو ،  آگے تمہاری مرضی ، اپنے پاس رکھو یا اسے صدقہ کر دو۔

 اے عمر! اگر تمہارے پاس ایسا مال آئے جو تم نے طلب نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کی چاہت ہوتو اسے رکھ لیا کرو اور جو نہ ملے اس کی طلب مت کرو۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’ فَمِنْ اَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا یَسْاَلُ اَحَدًا شَیْئًا وَلَا یَرُدُّ شَیْئًا اُعْطِیَہُ یعنی یہی وجہ تھی کہ میرے والد حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کسی سے کچھ نہیں   مانگتے تھے اور بغیر مانگے اگر کوئی دے دیتا تو اسے رد نہیں   کرتے تھے۔([2])

فاروقِ اعظم اور فکر آخرت

روز آخرت حساب وکتاب کا خوف:

حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا ابو بُردہ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتےہیں   کہ ایک بار مجھ سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہاکہ آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد گرامی نے تمہارے والد سے کیا کہاتھا ؟ ‘‘  میں   نے کہا:   ’’ نہیں  ۔ ‘‘   تو انہوں   نے کہا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کہا تھا :  ’’ کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں   کہ دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی موجودگی ہمارا اسلام لانا ،  آپ کے ساتھ ہجرت کرنا ،  جہاد کرنا اور تمام وہ اعمال جو ہم نے آپ کے ساتھ کیے وہ ویسے ہی برقرار رہیں   البتہ جو کام ہم نے آپ کے بعد کیے (  اللہعَزَّ وَجَلَّکے خوف کے سبب ہم یہ چاہیں   کہ) ان میں   ہمیں   برابر برابر نجات مل جائے؟ ‘‘   (یعنی نہ ثواب نہ عذاب)  تو آپ کے والد نے جواب دیا:   ’’ نہیں  ۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! ہم نے حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کے بعد بھی جہاد کیا ،  نمازیں   پڑھیں   ،  روزے رکھے  ، دیگر کثیر اعمال کیے اور ہمارے ہاتھ پر بہت سے لوگ ایمان بھی لائے ہیں   (ہمیں     اللہعَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے امید ہے کہ) ان سب کا ہمیں   ضرور ثواب ملے گا۔ ‘‘  مگر میرے والد حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پھر کہا:  ’’ اس رب عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم جس کے قبضے میں   میری جان ہے!میری تو یہی خواہش ہے کہ جو اعمال ہم نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کیے وہ تو برقرار رہیں   اور جو بعد میں   کیے ان میں   ہمیں   برابر برابر نجات مل جائے۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا ابو بردہ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا کہ :  ’’ اِنَّ اَبَاكَ وَاللہِ خَيْرٌ مِنْ اَبِیْ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! یقینا تمہارے والد میرے والد سے افضل ہیں  ۔ ‘‘   ([3])

وقت وفات بھی ادائیگی قرض کی فکر:

 امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  پر اَسّی ہزار قرض تھے وقتِ وفات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو بلا کر فرمایا:  ’’ بِعْ فِیْھَا اَمْوَالَ عُمَر فَاِنْ وَفَتْ وَاِلَّافَسَلْ بَنِیْ عَدِیْ فَاِنْ وَفَتْ وَاِلَّافَسَلْ قُرَیْشاً وَلَا تَعُدْھُمْ یعنی میرے دَین (قرض) کو ادا کرنے کے لیے اوّلاً تو میرا مال بیچنا اگر کافی ہو جائے فبہا ،  ورنہ میری قوم بنی عدی سے مانگ کر پورا کرنا اگر یُوں   بھی پورا نہ ہو تو قریش سے مانگنا اور ان کے سوا اوروں   سے سوال نہ کرنا۔ ‘‘  پھر حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:   ’’ اِضْمَنْھَا یعنی اے میرے بیٹے!تم میرے قرض کو ادا کرنے کی ضمانت لے لو۔ ‘‘   وہ ضامن ہو گئے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تدفین سے پہلے اکابر مہاجرین وانصار کو گواہ کرلیا کہ میرے والد محترم کے اَسّی ہزار کی ادائیگی اب مجھ پر ہے۔ پھرایک ہفتہ نہ گزرا تھا کہ سارا قرض ادا کردیا۔([4])

فاروقِ اعظم اور اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبارگاہِ رسالت سے جنت کی بشارت پانے کے باوجود   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ہمیشہ



[1]     الزھد لابن المبارک ،  باب ما جاء فی ذم التنعم ، ص۲۶۶ ، الرقم:  ۷۶۹ ،  تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۳۰۰۔

[2]     مسلم  ، کتاب الزکاۃ ، اباحۃ الاخذلمن اعطی۔۔۔الخ  ، ص۵۲۰ ،  حدیث: ۱۱۱۔

[3]     بخاری  ، کتاب مناقب الانصار  ، باب ھجرۃ النبی ۔۔۔الخ  ، ج۲ ،  ص۵۹۸ ،  حدیث: ۳۹۱۵۔

[4]     طبقات کبری  ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۳ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To