Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

واقع ہوگی تو لوگ بھی خائن ہوجائیں   گے۔ ‘‘  بہرحال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سار ا مال تقسیم کردیا اور اپنی ذات کے لیے کچھ نہ رکھا۔([1])

کیا میں   دنیاوی نعمتیں   کھاؤں  ۔۔۔؟

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دنیاوی عیش وعشرت سے بے رغبتی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا عتبہ بن فرقد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے آپ کے کھانے کے متعلق گفتگو کی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دنیا کی بے رغبتی سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ وَیْحَكَ آكِلُ طَيِّبَاتِیْ فِیْ حَیَاتِی الدُّنْيَا وَاَسْتَمْتِعُ بِھَا یعنی اے عتبہ! کیا میں   اپنی دنیاوی زندگی ہی میں   ساری نعمتیں   کھالوں   اور ان سے فائدہ اٹھالوں  ۔ ‘‘  ([2])

دنیاداروں   کے پاس کثرت سے جانے کی ممانعت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عبید رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَا تُکْثِرُوْا الدُّخُوْلَ عَلَی اَھْلِ الدُّنْیَا فَاِنَّھَا مَسْخَطَۃٌ لِلرِّزْقِ یعنی دنیاداروں   کے پاس کثرت سے نہ جایا کرو کیونکہ یہ رزق کی ناراضگی(یعنی تنگدستی) کا سبب ہے۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم اور فکر آخرت

اپنی قمیص اتار کر عطا فرمادی:

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۴۱۰صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ عیون الحکایات ‘‘  حصہ اول ،  ص۳۴۰ پر ہے:  حضرت سیِّدُناعبد الوھاب بن عبداللہ بن ابی بکرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے ،  آپ فرماتے ہیں   کہ ایک اعرابی امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی بارگاہ میں   حاضر ہوا اور عرض کی:   ’’ اے عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ! نیکی کریں  جنت پائیں   ۔ ‘‘  پھراس نے چند عربی اشعار پڑھے جن کاترجمہ یہ ہے:

 ’’  میر ی بچیوں   اور ان کی ماں   کو کپڑے پہنائیے توہم ساری زندگی آپ کے لئے جنت کی دعا کریں   گے ۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! آپ (یہ نیکی ) ضرور کریں   گے ۔ ‘‘ 

  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:  ’’  اگر میں   ایسا نہ کر سکوں   تو؟ ‘‘  اعرابی بولا:  ’’ اے ابوحفص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! اگر ایسانہ ہوا تو میں   چلاجلاؤں   گا ۔ ‘‘ 

  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاورق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے پوچھا :  ’’  اگرتُو چلا گیاتو پھر کیا ہوگا ؟  ‘‘ 

  وہ کہنے لگا:   ’’ تو پھر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! آپ سے میرے حال کے بارے میں   ضرور سوال کیا جائے گا۔اور اس دن عطیات احسان اور نیکیاں   ہوں   گی تو ( محشر کے دن) کھڑے شخص سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا۔پھر اسے (حساب وکتاب کے بعد) یا تو جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا یا جنت کی خوشخبری سنائی جائے گی ۔ ‘‘ 

  (اشعار کی صورت میں   اس اعرابی کی یہ باتیں   سن کر ) امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی آنکھوں   سے سیلِ اشک رواں   ہو گیا ، یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ پھرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنے غلام کو حکم فرمایا:  اے غلام ! اس شخص کو میری یہ قمیص عطا کردو ۔ اور یہ اس وجہ سے نہیں   کہ اس نے اچھا شعر کہا ہے ،  بلکہ اس دن (یعنی روز قیامت) کیلئے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! (اس وقت) اس قمیص کے علاوہ میں   کسی اور چیز کا مالک نہیں  ۔ ‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہواور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 

فاروقِ اعظم کی دنیا سے بے رغبتی کی ترغیب

ایک مچھلی بھی نہیں   کھاؤں   گا:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ صرف خود متقی وپرہیزگار و دنیاسے بے رغبتی فرمانے والے تھے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر لوگوں   کو بھی تقویٰ وپرہیزگاری اور دنیا سے بے رغبتی کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَقَدْ خَطَرَ عَلٰی قَلْبِیْ شَھْوَۃُ السَّمَكِ الطَّرِیِّ یعنی میرے دل میں   تازہ مچھلی کھانے کی طلب ہورہی ہے۔ ‘‘  یہ سننا تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا غلام یرفا آٹھ میل کا سفر طے کرکے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے تازہ مچھلیوں   کا ایک ٹوکرا خرید کر لے آیا۔ بعدازاں   اپنی سواری اور اس کے کجاوے وغیرہ کو دھویا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:   ’’  اِنْطَلِقْ حَتّٰی اَنْظُرَ اِلَی الرَّاحِلَۃِ یعنی چلو میں   بھی تمہاری سواری کو دیکھ لوں  ۔ ‘‘  جب آپ نے گھوڑے کو ملاحظہ کیا تو ارشاد فرمایا:   ’’ نَسِیْتَ اَنْ تَغْسِلَ ھٰذَا الْعِرْقَ الَّذِیْ تَحْتَ اُذُنِهَا عَذَّبْتَ بَھِیْمَۃً فِیْ شَھْوَۃِ عُمَرَ لَا وَاللہِ لَا یَذُوْقُ عُمَرُ مَكْتَلَكَ یعنی شاید تم اس پسینے کو دھونا بھول گئے ہو جو اس گھوڑے کے کانوں   کے نیچے ہے ،  اور افسوس! تم نے عمر کی خواہش کو پورا کرنے  کےلیے اس جانور کو تکلیف میں   ڈالا ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اب عمر تمہاری مچھلیوں   میں   سے ایک مچھلی بھی نہیں   کھائے گا۔ ‘‘   ([4])

دنیا سے بے رغبتی کی علامت:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دنیا سے بے رغبتی کی ایک علامت یہ بھی ہے جس چیز کی خواہش ہو اس کو ترک کردیا جائے ،  بلکہ اپنے نفس پر کنٹرول کیے بغیر ہر وقت کھاتے پیتے رہنا فضو



[1]     ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۶۹۔

[2]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۲۹۶ ،  تاریخ الاسلام ،  ج۳ ،  ص۲۶۸۔

[3]     مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب السابع والخمسون ،  ص۱۷۲۔

[4]     کنزالعمال ،  فضائل الفاروق ،  شمائلہ ،  الجزء: ۱۲ ،  ج۶ ،  ص۲۸۷ ،  حدیث: ۳۵۹۶۶ ،  تاریخ الاسلا  م  ،  ج۳ ،  ص۲۶۸۔



Total Pages: 349

Go To