Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

بڑھ کردنیا سے بے رغبت اورآخرت کے شائق تھے۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم سب سےز یادہ دنیا سے بے رغبت:

حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  ’’ وَاللہِ مَا كَانَ عُمَرُ بِاَقْدَمِنَا ھِجْرَۃً وَقَدْ عَرَفْتُ بِاَیِّ شَیْءٍ فَضَّلَنَا كَانَ اَزْھَدَنَا فِی الدُّنْیَا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہجرت کرنے میں   ہم سے مقدم نہیں   لیکن میں   نے اس بات کو جان لیا ہے کہ وہ کیوں   ہم پر فضیلت وسبقت لے گئےہیں  ؟ اور وہ یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم میں   سب سے زیادہ دنیا سے بے رغبت ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم حقیقی عبادت گزار:

حضرت سیِّدُنا شفاء بنت عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  چند نوجوانوں   کے پاس سے گزریں   تو دیکھا کہ وہ آپس میں   کھسر پھسر کررہے ہیں   ،  آپ نے فرمایا:   ’’ یہ کیا ہے؟ ‘‘   انہوں   نے کہا:   ’’ عبادت گزار لوگ۔ ‘‘   (یعنی یہ عبادت گزار لوگ ہیں   اس لیے آہستہ آہستہ بات کررہے ہیں  ۔) فرمایا:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی بات کیا کرتے تو اتنی بلند آواز سے کہ باآسانی سنی جاتی ،  جب چلتے تو تیز تیز چلتے ،  جب ضرب لگاتے تو اس طرح کہ درد ہوتاحالانکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حقیقی عبادت گزار تھے۔ ‘‘   ([3])

دنیا کی لذتوں   کی ہمیں   کوئی پرواہ نہیں   :

حضرت سیِّدُنا سالم بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کر تے تھے:   ’’ وَاللہِ مَا نَعْبَاُ بِلَذَّاتِ الْعَیْشِ وَلٰكِنَّا نَسْتَبْقِیْ طَیِّبَاتِنَا لِاٰخِرَتِنَا یعنی خدا کی قسم! ہمیں   دنیا کی لذتوں   کی کوئی پرواہ نہیں   ،  ہم اپنی پاکیزہ نعمتیں   آخرت کے لیے بچارہے ہیں  ۔ ‘‘  یہی وجہ ہے کہ آپ جو کی روٹی زیتون کے ساتھ تناول فرماتے ،  پیوند لگے کپڑے پہنتے اورخود اپنا کام خود کرتے۔([4])

 دنیا سے بالکل بے رغبت خلیفہ :

حضرت سیِّدُنا اَحنف بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ہمیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک جنگ لڑنے عراق بھیجا۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں   عراق اور فارس پر فتح عطا فرمائی۔ مال غنیمت میں   فارس کاسفید کپڑا کثرت سے ہمیں   حاصل ہوا ،  کچھ ہم نے استعمال کرلیا یعنی پہن لیا اور باقی ساتھ رکھ لیا۔ جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   حاضری دی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہم سے منہ پھیر لیا اور کلام تک نہ کیا اور ایسی بے رخی ظاہر کی گویا انہوں   نے ہمیں   دیکھا تک نہیں  ۔ہم بڑے پریشان ہوئے ،  بہرحال ہم نے اس بات کا تذکرہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کیا۔ انہوں   نے فرمایا:   ’’ میرے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دنیا سے بالکل بے رغبت ہیں   ،  انہوں   نے آپ لوگوں   کو اس قیمتی لباس میں   دیکھا ہے جو نہ تو حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہنا اورنہ ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلیفہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہنا آپ لوگوں   کے ساتھ اس روکھے رویے کی صرف یہی وجہ ہے۔ ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا احنف بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ جیسے ہی ہم نے یہ سناتو اپنے گھروں   میں   آئے ،  وہ کپڑے اتار ے اور پرانے کپڑے پہن کر واپس آپ کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بڑے ہی پرتپاک طریقے سے ملاقات فرمائی ،  ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ سلام کیا اور ایک ایک کو گلے لگایا ،  گویا اس سے قبل آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہم سے ملاقات ہی نہیں   ہوئی تھی۔ مال غنیمت میں   حلوے کی قسم سے زر د اور سرخ ر نگ کی کوئی میٹھی چیز آپ کے سامنے آئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے چکھا۔ وہ بہت ہی خو ش ذائقہ اور خوش بو دارتھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:  ’’ اے مہاجرین و انصار!یہ شے اتنی لذیذ ہے کہ اسے پانے کے لیے باپ بیٹے کو اور بھائی بھائی کو قتل کرسکتا ہے۔ ‘‘   اس کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دور میں   شہید ہونے والے مہاجرین انصار کی اولاد میں   اسے تقسیم کردیا۔ بعد ازاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گھر تشریف لے گئے اپنے لیے اس لذیذ شے میں   سے کچھ نہ رکھا۔([5])

سونے ،  جواہرات کے خزانوں  کی تقسیم:

جب عراق فتح ہوا اور شاہِ کسریٰ کے خزانے مدینہ طیبہ لائے گئے تو بیت المال کے خزانچی نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   عرض کیا:   ’’ کیا یہ خزانے بیت المال میں   نہ داخل کردیں   ؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’  ہر گز نہیں  ! اس چھت کے نیچے جو کچھ ہے سب تقسیم کردیا جائے۔ ‘‘   چنانچہ مسجد میں   چٹائیاں   بچھائیں   گئیں   اور اُن پر سارا مال رکھ کر ڈھانپ دیا گیا۔جب لوگوں   کے سامنے پردہ اُٹھایا گیا تو سونے اور جواہرات کی چمک سے ایک عجیب سا سماں   پیدا ہوگیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ جو لوگ یہ خزانہ یہاں   تک لائے ہیں   بڑے ہی امانت دار ہیں  ۔ ‘‘  (یعنی ایسی چمک دمک والے مال کو دیکھ کر بھی انہوں   نے کسی قسم کی خیانت نہ کی) لوگوں   نے عرض کیا:   ’’ حضور! آپ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے امین ہیں   اور لوگ آپ کے امین ۔ جب تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خدا کے امین رہیں   گے تب تک لوگ آپ کے امین رہیں   گے اور جب آپ میں   کوئی تبدیلی



[1]     اسدالغابۃ ، عمر بن خطاب  ، ج۴ ،  ص۱۶۷۔

[2]     اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۶۷۔

[3]     طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۲۰۔

[4]     تاریخ ابن عساکر ، ج۴۴ ، ص۳۰۰۔

[5]     تاریخ ابن عساکر  ، ج۴۴ ،  ص۲۹۳ ملتقطا ،  کنز العمال  ، فضائل الفاروق  ، زھدہ  ، الجزء: ۱۲ ،  ج۶ ،  ص۲۸۴ ،  حدیث: ۳۵۹۵۴ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To