Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے اور اپنے قلب میں   خوف خدا کو اجاگر کیجئے۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دونوں   جہاں   میں   بیڑا پار ہوگا۔ لاکھوں   لوگ اس مدنی تحریک سے وابستہ ہوکر اپنے دلوں   میں   خوف خدا کی شمع اجاگر کرکے اپنے قلوب کو رب عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سے منور کر چکے ہیں   ۔ترغیب کے لیے ایک بہار پیش خدمت ہے:

جب میں   نے رسالہ  ’’ قبر کا امتحان  ‘‘   پڑھا۔۔۔:

  سینٹرل جیل حیدر آباد(باب الاسلام سندھ) میں   ضلع سانگھڑ کے رہائشی ایک قیدی کی تحریر کا لب لباب کچھ یوں   ہے کہ میں   زندگی کے قیمتی ایام اپنے خالق ومالک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانیوں   میں   بسر کر رہا تھا۔ اس کے احکامات کی بجا آوری میں   سستی میری عادت بن چکی تھی۔لذتِ گناہ میں   مخمور  ،  گندی فلمیں   اور ڈرامے دیکھتے دیکھتے میں   جرائم کی دنیا میں   داخل ہو گیا۔شب و روز دشتِ جرم میں   بھٹکتا رہتا۔ آخر کار ایک دن مجھے کسی جرم کی پاداش میں   25سال قید کی سزا سنا دی گئی ۔ جیل میں   آنے کے بعد بھی میں   نہ سدھر سکا یہاں   تک کہ زندگی کے11سال مزید گزر گئے۔

پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے میرے سُدھرنے کا سامان ہوہی گیا  ، اس کی ترکیب کچھ یوں   بنی کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ چند باعمامہ اسلامی بھائی ہماری بیرک میں   نیکی کی دعوت دینے کیلئے تشریف لاتے اور شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے مَدَنی رسائل بھی تحفۃً تقسیم کیا کرتے۔ایک مبلغ دعوت اسلامی نے مجھے ایک رسالہ ’’ قبر کا امتحان ‘‘   پڑھنے کے لئے دیا۔ جب میں   نے اس میں   منکر نکیر کے سوالات کے وقت کی کیفیات  ، قبر کا اپنے اندر آنے والوں   سے سلوک اور قبرکے دیگر معاملات کے بارے میں   پڑھاتو خوف خداوندی سے لرزاُٹھا ،  اپنے گناہوں   کو یاد کر کے بہت نادم ہوا اور عزم مصمم کر لیا کہ اب اپنا دامن گناہوں   کی کانٹے دار شاخوں   سے حتی المقدور بچاؤں   گا اور نیکی کے راستے پر چلوں   گا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں   نے توبہ کر لی اور پنج وقتہ نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ نماز تہجد کی عادت بھی بنا لی ، چہرے پر داڑھی شریف سجا لی اور دعوت اسلامی کے مدرسہ فیضان قرآن میں   علم دین حاصل کرنا شروع کر دیا۔میری توبہ کی برکتیں   ظاہر ہونا شروع ہو گئیں    ، کیس کی مشکلات خود بخود ختم ہوتی چلی گئیں   اور اب اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں   آزاد ہونے والا ہوں  ۔میری نیت ہے کہ جیل سے رہائی کے بعد اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسنتیں   سیکھنے کے لئے راہ ِخدامیں   سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں   کا مسافر بنوں   گا۔ ‘‘ 

کھڑے ہیں   منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور

بتا دو آکر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں   ہے

خدائے  قہار ہے غضب پر کھلے ہیں   بدکاریوں   کے دفتر

بچا لو آ کر شفیع محشر تمہارا بندہ عذاب میں   ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فاروقِ اعظم کی دنیا سے بے رغبتی

آخرت کے معاملے میں   جلدی ہونی چاہیے:

 دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۲صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ دنیا سے بے رغبتی اور امیدوں   کی کمی ‘‘   ص۷۳ پر ہے: امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  آخرت کے معاملے میں   سستی کوبالکل پسند نہ کرتے تھے ۔اورآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرمایا کرتے تھے:  ’’ ہر کام میں   آہستگی ہونی چاہے سوائے آخرت کے معاملے میں   ۔ ‘‘ 

رسول اللہ اور صدیق اکبر کی طرح زندگی :

ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی صاحبزادی اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ انے آپ سے عرض کی:   ’’ اگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اپنے ان کپڑوں   کے بجائے نرم وملائم کپڑے پہنیں   اور اپنے اس کھانے سے زیادہ عمدہ کھاناکھائیں   توکیاحرج ہے؟ کیونکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا رزق وسیع کردیا ہے اور آپ کو بہت زیادہ خیر عطا فرمائی ہے۔ ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفارق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشادفرمایا:  ’’ میں   تجھے سرزنِش کروں   گا ،  کیاتمہیں   یاد نہیں   کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب  ،  دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زندگی کی ٹھاٹھ باٹھ پسند نہیں   فرماتے تھے ؟ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اپنی صاحبزادی کوباربار یہی فرماتے رہے حتی کہ انہیں   رُلا دیا پھر ارشاد فرمایا:   ’’ میں   تمہیں   پہلے بھی بتاچکاہوں   کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !اگر مجھے توفیق ملی تو میں   ان دونوں   یعنی حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورآپ کے خلیفہ حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی طرح کٹھن زندگی اختیار کروں   گاہو سکتا ہے میں   ان کی پسندیدہ زندگی پا لوں  ۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کی دُنیا سے بے رغبتی اور لاتعلقی :

حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے  ،  فرماتے ہیں  :  ’’ مَا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِاَوَّلِنَا اِسْلَاماً وَلَا اَقْدَمِنَا ھِجْرَةً وَلٰكِنَّہُ كَانَ اَزْھَدَنَا فِی الدُّنْیَا  وَاَرْغَبَنَا فِی  الْآخِرَۃِ  یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ تو ہم سے پہلے ایمان لائے اورنہ ہی ہم سے پہلے ہجرت کی ،  مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم سے



[1]     الزھد وقصر الامل ،  ص۵۷۔



Total Pages: 349

Go To