Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

شے ہوتا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم اور خوف وامید کی اعلی مثال:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ ’’  تمام روئے زمین کے آدمی بخش دیئے گئے ہیں   سوائے ایک شخص کے۔ ‘‘  تو میں   خوف خدا کے سبب یہی سمجھوں   گا کہ وہ شخص میں   ہی ہوں  ۔اور اگر یہ ندا کی جائے کہ  ’’ روئے زمین کے تمام آدمی دوزخی ہیں   سوائے ایک شخص کے۔ ‘‘  تو میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے امید کے سبب یہی سمجھوں   گا کہ وہ ایک شخص بھی میں   ہی ہوں   ۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم خوف خدا کی باتیں   سنتے:

    امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطا ب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے ارشاد فرمایا:   ’’ اے کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! ہمیں   ڈر والی کچھ باتیں   سنائیں  ۔ ‘‘   تو حضرت سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی :  ’’ اے امیر المؤمنین! اگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  قیامت کے دن ستر انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے عمل لے کر بھی آئیں   تو قیامت کے احوال دیکھ کر انہیں   حقیر جاننے لگیں   گے۔ ‘‘   اس پرامیر المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے کچھ دیرکے لئے سرجھکا لیا پھر جب افاقہ ہوا توارشاد فرمایا:   ’’ اے کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! مزید سنائیں  ۔ ‘‘   تو انہوں   نے عرض کی:   ’’ اے امیرالمؤمنین! اگر جہنم میں   سے بیل کے ناک جتنا حصہ مشرق میں   کھول دیا جائے تو مغرب میں   موجود شخص کا دماغ اس کی گرمی کی وجہ سے اُبل کر بہہ جائے۔ ‘‘   اس پرامیر المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے کچھ دیرکے لئے سرجھکا لیا پھر جب افاقہ ہوا تو ارشاد فرمایا:   ’’ اے کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! اورسنائیں  ۔ ‘‘   تو انہوں   نے پھر عرض کی:   ’’ اے امیر المؤمنین! قیامت کے دن جہنم اس طرح بھڑکے گا کہ کوئی مقرَّب فرشتہ یانبی ٔ مرسَل ایسا نہ ہو گا جو گھٹنوں   کے بل گر کر یہ نہ کہے:  رَبِّ! نَفْسِیْ! نَفْسِیْ! (يعنی اے رب عَزَّ وَجَلَّ! آج میں   تجھ سے اپنی بخشش کے علاوہ کچھ نہیں   مانگتا)۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے مزید بتایا:  ’’ جب قیامت کا دن آئے گا تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اولین وآخرین کو ایک ٹیلے پر جمع فرمائے گا ،  پھر فرشتے نازل ہو کر صفیں   بنائیں   گے۔ ‘‘   اس کے بعد   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:   ’’ اے جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام)! جہنم کو لے آؤ۔ ‘‘  تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام جہنم کو اس طرح لے کر آئیں   گے کہ اس کی ستر ہزار لگاموں   کو کھینچا جا رہا ہو گا ،  پھر جب جہنم مخلوق سے سو برس کی راہ پر پہنچے گی تو اس میں   اتنی شدید بھڑک پیدا ہو گی کہ جس سے مخلوق کے دل دہل جائیں   گے ،  پھر جب دوبارہ بھڑک پیدا ہوگی تو ہر مقرب فرشتہ اور نبی مرسل گھٹنوں   کے بل گر جائے گا ،  پھر جب تیسری مرتبہ بھڑکے گی تو لوگوں   کے دل گلے تک پہنچ جائیں   گے اورعقلیں   گھبرا جائیں   گی ،  یہاں   تک کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عرض کریں   گے :  ’’  میں   تیرے خلیل ہونے کے صدقے سے صرف اپنے لئے سوال کرتاہوں  ۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عرض گزار ہوں   گے:   ’’ یا الٰہی عَزَّ وَجَلَّ ! میں   اپنی مناجات کے صدقے صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں  ۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عرض کریں   گے:   ’’ یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ! تُو نے مجھے جو عزت دی ہے اس کے صدقے میں   صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں   اس مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  کے لیے سوال نہیں   کرتا جس نے مجھے جناہے۔ ‘‘  ([3])

کاش ہمیں   بھی خوف خدا نصیب ہوجائے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیارے صحابی ہیں   جن کے جتنی ہونے میں   کسی شک وشبہے کی قطعاً گنجائش نہیں   اس کے باوجود خوف خدا کا یہ حال ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے قبر وآخرت کے مراحل وواقعات سن کر خوب گریہ وزاری فرماتے اور بروز قیامت فرد واحد کے جہنمی ہونے کی صدا پر اپنے آپ کو تصور کرتے کہ وہ جہنمی میں   ہی ہوں  ۔مگر آہ!آج ہم صبح  وشام گناہوں   میں   گزارنے کے باوجود اپنے آپ کو زمانے کا نیک اور پارسا شخص تصور کرتے ہیں   ، اوّلاً ہم سے کوئی نیکی ہوتی نہیں   اور اگر بالفرض کوئی نیکی کربھی لیں   تو ریاکاری کی تباہ کاری اس نیکی کو ہلکی سی چنگاری لگا کر تہس نہس کرڈالتی ہے۔کاش! ہمیں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسا حقیقی خوف خدا عَزَّ وَجَلَّ نصیب ہوجائے جو ریاکاری کی تباہ کاری سے پاک وصاف ہو۔    آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

موت کا جھٹکا تلوار سے سخت ہے:

فرمانِ امیر المؤمنین سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:  ’’ اگر روزِ قیامت یہ اعلان ہو کہ تمام روئے زمین کے آدمی بخش دیئے گئے ہیں   سوائے ایک شخص کےتو خوف خدا کے سبب یہی سمجھوں   گا کہ وہ شخص میں   ہی ہوں  ۔ ‘‘  اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اس فرمان کو بیان کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ خیر یہ تو حصہ عمر ( رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )کا تھا لیکن کم سے کم ہر مسلمان کو اتنا تو ہونا ہی چاہیے کہ صحت و تند رستی کے وقت  ’’ خوف ‘‘  (یعنی خوفِ خدا) غالب ہو اور مرتے وقت  ’’ رِجا ‘‘  ۔(یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مغفرت کی امید)حدیث میں   ہے:   ’’ ہر جھٹکا موت کا ہزار ضرب تلوار سے سخت ترہے۔ ‘‘    (مردہ آدمی کو)ملائکہ دبوچے بیٹھے رہتے ہیں   ورنہ آدمی تڑپ کر نہ معلوم کہاں   جائے ،  اُس وقت اگر مَعَاذَ اللّٰہ

عَزَّ وَجَلَّ کچھ اس طرف سے ناگواری آئی تو سلبِ ایمان ہوگیا۔ اس لیے اس وقت بتایا جائے کہ کس کے پاس جارہا ہے۔([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ہم یہ چاہتے ہیں   کہ ہمارے دل میں   بھی رب عَزَّ وَجَلَّ  کا حقیقی خوف پیدا ہوجائے تو اس کا ایک ذریعہ دعوت اسلامی کا مدنی ماحول بھی ہے ،  آپ دعوت



[1]     مصنف ابن ابی شیبۃ  ، کتاب الزھد  ، کلام عمر بن خطاب  ، ج۸ ،  ص۱۵۲ ،  حدیث: ۳۹۔

[2]     احیاء العلوم ، کتاب الخوف ، بیان ان الافضل ھو غلبۃ الخوف۔۔۔الخ ، ج۴ ، ص۲۰۲۔

[3]     الزواجر ، مقدمۃ فی تعریف الکبیرۃ  ، ج۱  ، ص۴۹۔

[4]     ملفوظات اعلی حضرت ،  ص۴۹۵۔



Total Pages: 349

Go To