Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:  ’’ وَجَبَتْ وَجَبَتْ یعنی اے عمر! تمہارے لیے جنت واجب ہوگئی۔ ‘‘  ([1])

تلاوت فاروقِ اعظم اور گریہ وزاری

فاروقِ اعظم کی رقت کے سبب سانس اُکھڑ گئی:

حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےان آیات کی تلاوت کی:  (اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ(۷) مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ(۸)) (پ۲۷ ،  الطور: ۷تا۸) ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ بیشک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہےاسے کوئی ٹالنے والا نہیں  ۔ ‘‘  آپ پر خوفِ خدا کے غلبے کے سبب ایسی رقت طاری ہوئی کہ آپ کی سانس ہی اکھڑ گئی اوریہ کیفیت کم وبیش بیس روز تک طاری رہی۔([2])

رخساروں   پر دوسیاہ لکیریں  :

امام بیہقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اپنی سند سے روایت کرتے ہیں   :   ’’ اِنَّہُ كَانَ فِیْ وَجْھِہٖ خَطَّانِ اَسْوَدَانِ مِنَ الْبُكَاءِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چہرے پر کثرت سے رونے کے سبب دو سیاہ لکیریں   بن گئی تھیں  ۔ ‘‘  ([3])     

فاروقِ اعظم وظیفہ پڑہتے ہوئے روتے :

حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنا وظیفہ پڑھنے کے دوران بسا اوقات اتنا روتے کہ غش کھا کر زمین پر تشریف لے آتے ،  ایک دو روز تک اپنے گھر سے بھی نہ نکل پاتےاور لوگ آپ کی تیمار داری کے لیے آتے۔ ‘‘  ([4])

آیات مبارکہ نے فاروقِ اعظم کو رلادیا:

حضرت سیِّدُنا جعفر بن سلیمان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک عیسائی راہب کے گرجے کے قریب سے گزرے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے یوں   بلایا:

 ’’ اے راہب! اے راہب! ‘‘  اتنے میں   راہب باہر آگیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسے دیکھ کر زاروقطار رونے لگے۔ پوچھا گیا:   ’’ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ مَا یُبْكِيْكَ مَنْ ھٰذَا ؟ یعنی حضور! آپ کو کس چیز نے رلایا اور یہ کون ہے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ ذَكَرْتُ قَوْلَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْ كِتَابِہٖ فَذَلِكَ الَّذِیْ اَبْكَانِیْ یعنی قرآن پاک میں   مجھے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان عالیشان یاد آگیااس لیے رونے لگ گیا:  (عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ(۳) تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ(۴) تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ(۵)) (پ۳۰ ،  الغاشیۃ: ۳ تا ۵)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ کام کریں   مشقت جھیلیں   ،  جائیں   بھڑکتی آگ میں   ،  نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں   ۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم اور خوفِ خدا عزوجل

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی خوف خدا رکھنے والے تھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ آپ کی حیات کا ہر ہر گوشہ خوف خدا سے بھرپور تھا ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نصیحت آموز گفتگو خوف خدا کے بے شمار مدنی پھولوں   پر مشتمل ہوتی ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا کوئی ایسا فعل نہ تھا جس سے خوفِ خدا نہ جھلکتا ہو۔خوفِ خدا آپ کی ذات مبارکہ پر ایسا غالب تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اکثر اوقات اس بات کی تمنا کرتے کہ:  کاش! میں   اس دنیا میں   پیدا نہ ہوا ہوتا اور اے کاش! میں   بشر ہی نہ ہوتا۔ اس طرح کے کئی اقوال کتب سیرت میں   ملتے ہیں  ۔ چنانچہ ،

اے کاش! میں   بشر نہ ہوتا:

حضرت سیِّدُنا ضحاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرمایا کرتے تھے:  ’’  اے کاش! میں   اپنے گھر والوں   کا دنبہ ہوتا جسے وہ خو ب کھلاتے پلاتے حتی کہ میں   خوب موٹا تازہ ہوجاتا۔ پھر ان کے پیارے دوست مہمان بنتے تو وہ مجھے ان کے لیے ذبح کرتے  ،  میرے کچھ گوشت کو بھونتے ،  کچھ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے کھا جاتے ،  پھر مجھے فضلہ بنا کر باہر نکال دیتے ، اے کاش! میں   بشر نہ ہوتا۔ ‘‘  ([6])

کاش! عمر یہ مٹی کا ڈھیلا ہوتا:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ آپ نے زمین سے ایک مٹی کا ڈھیلا اٹھایا اور فرمایا:  ’’  اے کاش عمر یہ مٹی کا ڈھیلا ہوتا! اے کاش میں   پیدا نہ ہو اہوتا! اے کاش میری ماں   نے مجھے نہ جنا ہوتا! اے کاش میں   کچھ بھی نہ ہوتا! کوئی بھولی بسری



[1]     مسند امام احمد  ، مسند انس بن مالک  ، ج۴ ،  ص۲۳۷ ،  حدیث: ۱۲۱۸۲۔

واضح رہے کہ بعینہ اس طرح کی روایت امیر المؤمنین خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا  ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   بھی مروی ہے ،  علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے  ’’ تلقیح فھوم اھل الاثر ‘‘  صفحہ۶۸۲ میں   اس روایت کی نسبت کو سیِّدُنا  ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف زیادہ صحیح قرار دیا ہے ،  جو اس بات پر دلالت کرتاہے کہ اس روایت کی نسبت دونوں   کی طرف صحیح ہے  ،  غالباً تقدیم وتاخیر کا فرق ہے۔                                                                                            وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

[2]     فضائل القرآن لابی عبید ، باب ما یستحب ۔۔۔الخ ، ص۱۳۷۔

[3]     شعب الایمان للبیھقی   ، باب فی الخوف۔۔۔الخ  ،  ج۱ ،  ص۴۹۳ ،  حدیث: ۸۰۶۔

[4]     شعب الایمان للبیھقی  ،  فصل فی البکاءعند قراءۃ القرآن ،  ج۲ ،  ص۳۶۴ ،  حدیث: ۲۰۵۶۔

[5]     مستدرک حاکم  ،  کتاب التفسیر ،  تفسیر سورۃ الغاشیۃ ،  ج۳ ،  ص۳۶۸ ،  حدیث: ۳۹۸۰۔

[6]     شعب الایمان للبیھقی  ، باب فی الخوف من اللہ تعالی  ، ج۱ ، ص۴۸۵ ، حدیث: ۷۸۷۔



Total Pages: 349

Go To