Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے صوبوں   کے گورنروں   کے پاس فرمان بھیجا کہ:  ’’  تمھارے سب کاموں   سے اہم میرے نزدیک نماز ہے۔ جس نے اس کا حفظ کیا اور اس پر محافظت کی اس نے اپنا دین محفوظ رکھا اور جس نے اُسے ضائع کیا وہ اوروں   کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کر ے گا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کی نماز میں   قراءت

فاروقِ اعظم کی نماز میں   طویل قراءت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بعض اوقاتنمازِ فجر میں   سورہ حج یا سورہ یوسف یا سورہ نحل جیسی طویل سورتوں   کی قراءت فرمایا کرتے تھے۔ تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ نماز میں   شریک ہوجائیں  ۔([2])

فاروقِ اعظم اور ذکر اللہ

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کثرت سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کیا کرتے تھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زبان ہر وقت ذکر اللہ سے تر رہا کرتی تھی۔ چنانچہ ،

کثرت سے ذکراللہ کرنے والے :

حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   :  ’’ كَانَ اَكْثَرُ كَلَامِ عُمَرَ اَللہُ اَكْبَرُ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فار وق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زبان پر اکثر اللہ اکبرجاری رہتا تھا۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کے روزے

وفات سے قبل مسلسل روزے رکھنا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت کم کھانے والے تھے اور یہی وجہ تھی کہ آپ دبلے پتلے جسم کے مالک تھے۔ آخری عمر میں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  مسلسل روزے رکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ’’  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وفات سے قبل مسلسل روزے رکھنے شروع کردیے تھے۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم اور اعتکاف

اعتکاف کی منت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میرے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   نے زمانۂ جاہلیت میں   نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد حرام میں   اعتکاف کروں  گا ،  کیا میں   اپنی نذر پوری کروں  ؟ ‘‘   خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:  ’’ ہاں  ! اپنی نذر پوری کرو۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم اورجنتی اعمال

آپ کے لیے جنت واجب ہوگئی :

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ ایک بار حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے ارشاد فرمایا:  

٭…  ’’ مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً یعنی آج کس نے جنازے میں   شرکت کی ہے؟ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! میں   نے شرکت کی ہے ۔ ‘‘ 

٭… آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے پھر ارشاد فرمایا:  ’’ مَنْ عَادَ مِنْكُمْ مَرِيضًایعنی آج مریض کی عیادت کس نے کی ہے؟ ‘‘   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دوبارہ عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! میں   نے ۔ ‘‘ 

٭…پھر فرمایا:   ’’ مَنْ تَصَدَّقَ یعنی آج صدقہ کس نے دیا ہے؟ ‘‘  تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دوبارہ عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! میں   نے ۔ ‘‘ 

٭…فرمایا:  ’’  مَنْ اَصْبَحَ صَائِمًایعنی آج کس نے روزہ رکھا ہے؟ ‘‘  تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! میں   نے روزہ رکھا ہے۔ ‘‘ 

 



[1]     موطاامام مالک ،  کتاب وقوت الصلاۃ ، باب وقوت الصلاۃ ،   ج۱ ،  ص۳۵ ،  ٰحدیث: ۶۔

[2]     بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی  ، باب قصۃ البیعۃ والاتفاق علی عثمان ، ج۲ ،  ص۵۳۲ ،  حدیث: ۳۷۰۰ ملتقطا۔

                                                کنز العمال  ، کتاب الصلاۃ  ، فصل فی اذکار التحریمۃ ومایتعلق بھا ، الجزء: ۸ ،  ج۴ ،  ص۵۲ ،  حدیث: ۲۲۱۰۵۔

[3]     ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۶۴۔

[4]     ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۶۳۔

[5]     بخاری  ، کتاب ا لاعتکاف  ، باب الاعتکاف لیلا ، ج۱ ،  ص۶۶۶ ،  حدیث: ۲۰۳۲۔



Total Pages: 349

Go To