Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تقویٰ مؤمن کی عزت ہے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’ كَرَمُ الْمُؤْمِنِ تَقْوَاہُ یعنی مومن کی عزت اس کا تقویٰ وپرہیزگاری ہے۔ ‘‘  ([1])

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس فرمان کا اشارہ قرآن پاک میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان عالیشان کی طرف ہے:  (اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-) (پ۲۶ ،  الحجرات: ۱۳) ترجمۂ کنز الایمان:   ’’  بیشک اللہ کے یہاں   تم میں   زیادہ عزت والا وہ جو تم میں   زیادہ پرہیزگار ہے۔ ‘‘ 

دل اور بدن کی راحت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَلزُّھْدُ فِی الدُّنْیَا رَاحَۃُ الْقَلْبِ وَالْبَدَنِ یعنی دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے میں   دل اور بدن کی راحت ہے۔ ‘‘  ([2])

تقوے کے لیے فاروقِ اعظم کی صحبت:

حضرت سیِّدُنا مسور بن مخرمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ كُنَّا نَلْزَمُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَتَعَلَّمُ مِنْہُ الْوَرَعَ یعنی ہم لوگ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ لگے رہتے تھے تاکہ تقویٰ وپرہیزگاری سیکھیں۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم اور نماز

نماز فجر میں   زاروقطار رونے لگے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن شداد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے  ،  فرمایا:  ایک بار ہمیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز فجرپڑھائی اور قراءت میں   سورہ یوسف کی تلاوت شروع کی ،  قراءت فرماتے رہے یہاں   تک کہ جب اس آیت مبارکہ پر پہنچے :  (وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ(۸۴)) (پ۱۳ ،  یوسف:  ۸۴)  ترجمۂ کنزالایمان:  ’’  اور اس کی آنکھیں   غم سے سفید ہو گئیں   تو وہ غصہ کھاتا رہا ۔ ‘‘  تو زارو قطار رونے لگے  ،  جب آپ کا رونا منقطع ہوا تو رکوع فرمایا۔([4])

عشاء کی جماعت کا انتظار:

مسجد نبوی میں   جب لوگ جلدی حاضر ہوجاتے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نماز جلدی پڑھ لیتے اور لوگوں   کی حاضری میں   دیر ملاحظہ فرماتے تو تاخیر فرماتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ سب لوگ حاضر ہوجاتے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تاخیر فرماتے ۔ چنانچہ ایک بار نماز عشا میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپ کی تشریف آوری کا بہت طویل انتظار کیا ۔بہت دیر کے بعد مجبور ہوکر امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے درِ اقدس پر حاضر ہو کر عرض کی کہ:   ’’   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !عورتیں   اور بچّے سوگئے۔ ‘‘   اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم برآمد ہوئے اور فرمایا:   ’’ رُوئے زمین پر تمہارے سوا کوئی نہیں   جو اس نماز کا انتظار کرتا ہو اور تم نماز ہی میں   ہو جب تک نماز کے انتظار میں   رہو۔ ‘‘   ([5])

رات کے درمیانی حصے میں  رغبت کے ساتھ نماز:

حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رو ایت ہے کہ  ’’ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یُحِبُّ الصَّلَاۃَ فِیْ كَبِدِ اللَّیْلِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رات کے درمیانی حصے میں   نمازپڑھنا پسند فرماتے تھے۔ ‘‘  ([6])

فاروقِ اعظم صفیں   درست کرواتے:

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ صفحات ۴۱۷پر مشتمل کتاب  ’’ اِحیاء العلوم کا خلاصہ ‘‘   صفحہ ۳۹۶  پر ہے:   ’’ حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  صفوں   کے درمیان خلا دیکھتے تو فرماتے : اپنی صفیں   درست کرلو۔جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیکھتے کہ صفیں   بالکل سیدھی ہوچکی ہیں   ،  نمازیوں   کے درمیان بالکل خلا نہیں   رہا اور سب کے کندھے ملے ہوئے ہیں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  آگے بڑھے ا ور تکبیرتحریمہ کہتے۔ ‘‘ 

فاروقِ اعظم نماز فجر میں   طویل قراءت فرماتے:

  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی عادتِ کریمہ تھی کہ صبح کی نماز میں   اکثر سورۂ یوسف اور سورۂ نحل میں   سے قراء َت فرماتے ،  آپ پہلی رکعت میں   کچھ زیادہ تلاوت فرماتے تاکہ بعدمیں   آنے وا لے بھی جماعت میں   شامل ہو سکیں  ۔ ‘‘  ([7])

فاروقِ اعظم کے نزدیک سب سے اہم کام نماز:

`           امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیک سب سے اہم کام نماز تھا ۔ چنانچہ امام بخاری وامام مسلم وامام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمنے حضرت سیِّدُنا نافع



[1]     جامع الاصول ،  الفصل الاول ،  فی احادیث مشترکۃ تبین آداب النفس ،  نوع سادس ،  ج۱۱ ،  ص۶۵۴ ،  الرقم:  ۹۳۳۸۔

[2]     مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب السابع والخمسون ،  ص۱۷۶۔

[3]     طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۲۰۔

[4]     تھذیب الاثار للطبری ، ذکر من قال۔۔۔الخ ، ج۶ ، ص۱۴۱ ، حدیث: ۲۶۴۹ملتقطا۔

[5]     بخاری  ، کتاب مواقیت الصلوۃ  ، باب فضل  العشاء ،  ج۱ ،  ص۲۰۸ ،  حدیث: ۵۶۶۔

[6]     طبقات کبری ، ذکر استخلاف عمر ، ج۳ ، ص۲۱۷۔

[7]     لباب الاحیاء ،  ص۳۹۶۔



Total Pages: 349

Go To