Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عَنْہ نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر تمام مسلمانوں   میں   سب سے بہتر شخصیت یعنی امیر المؤمنین  ،  خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیعت کرلی ،  آپ کو دیکھ کر تمام لوگوں   نے بیعت کرلی اور مسلمان ایک ہی خلیفہ پر جمع ہوگئے۔([1])

انتقال سے قبل شوری کا قیام بھی آپ کی معاملہ فہمی ہے:

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنے وصال ظاہری سے قبل امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت پر کنایۃً تمام مسلمانوں   کو مطلع فرمادیا تھا ،  یہی وجہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت پر تمام مسلمان متفق ہوگئے۔ پھر حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے وصال ظاہری سے قبل امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بطور وصیت خلیفہ مقرر فرمادیا۔یہی وجہ تھی کہ اس پر بھی کسی کو اختلاف نہ ہوا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جب وصال ظاہری کا وقت آیا تو وقت کا تقاضا یہ تھا کہ کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ مسلمانوں   میں   انتشار بھی پیدا نہ ہو اور خلیفہ کا تقرر بھی ہوجائے ۔لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی فراست سے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  پر مشتمل ایک شوریٰ ترتیب دی جس نے خلیفہ کا تقرر کیا اور مسلمانوں   میں   کسی قسم کا اختلاف نہ ہوا۔ یقیناً یہ بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بہترین معاملہ فہمی کا شاہکار ہے۔

فاروقِ اعظم اور اطاعت باری تعالی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اطاعت باری تعالی اور اطاعت رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سختی کے ساتھ کاربند تھے ،  یہی وجہ ہے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمام صحابہ سے اپنی رضا کا وعدہ فرما لیا۔ چنانچہ پارہ ۵ ،  سورۃالنساء ،  آیت ۹۵ میں   ارشاد ہوتاہے:

(لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ-فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةًؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ(۹۵)) (پ۵ ،  النساء: ۹۵) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ برابر نہیں   وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں   اور وہ کہ راہِ خدا میں   اپنے مالوں   اور جانوں   سے جہاد کرتے ہیں   اللہ نے اپنے مالوں   اور جانوں   کے ساتھ جہاد والوں   کا درجہ بیٹھنے والوں   سے بڑا کیا اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور اللہ نے جہاد والوں   کو بیٹھنے والوں   پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے ۔ ‘‘ 

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتاہے: ( وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰))  (پ۲۷ ،  الحدید: ۱۰)  ترجمۂ کنزالایمان:   ’’  اور تمہیں   کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں   خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں   اور زمین سب کا وارث اللہ ہی ہے تم میں   برابر نہیں   وہ جنہوں   نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبہ میں   ان سے بڑے ہیں   جنہوں   نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنّت کا وعدہ فرما چکا اور اللہ کو تمہارے کاموں   کی خبر ہے ۔ ‘‘ 

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں   سب سے زیادہ پختہ تھے اور خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس بات کی گواہی دی۔چنانچہ ،

فاروقِ اعظم رب تعالی کے حکم کے معاملے میں   سب سے زیادہ سخت:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَشَدُّ اُمَّتِیْ فِیْ اَمْرِ اللہِ تَعَالٰی عُمَرُ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کے معاملے میں   میرا سب سے سخت امتی عمر ہے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کا تقویٰ و پرہیز گاری

فاروقِ اعظم تمام صحابہ سے بڑھ کر تارک الدنیا تھے :

حضرت سیِّدُناطلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  :  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ تو ہم سے پہلے ایمان لائے اور نہ ہی پہلے ہجرت کی ،  مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہم سب سے بڑھ کر تارک الدنیا اور فکر آخرت رکھنے والے تھے۔ ‘‘   ([3])

فاروقِ اعظم تقوے کی وصیت فرماتے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ صرف خود متقی پرہیزگار تھے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو مختلف صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو بھی تقوے کی نصیحت فرماتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن جعدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا یسار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے پاس سے گزرے تو انہیں   سلام کیا اور ارشاد فرمایا:   ’’ وَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّاھُوَ مَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللہُ وَاُوْصِیْكُمْ بِتَقْوَى اللہِ یعنی اس رب عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں  !  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اور میں   تمہیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ ‘‘  ([4])

 



[1]     اس واقعے کی تفصیل پڑھنے کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۷۲۲صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ فیضان صدیق اکبر ‘‘   صفحہ ۳۲۱ کا مطالعہ کیجئے۔

[2]     صفۃ الصفوۃ ،  ذکر جملۃ من مناقبہ وفضائلہ ،  الجزء: ۱ ،  ج۱ ،  ص۱۴۴۔

[3]     تاریخ ابن عساکر  ، ج۴۴ ، ص۲۸۷ ،  اسد الغابۃ  ، عمر بن خطاب   ،  ج۴ ،  ص۱۶۷۔

[4]    مصنف عبد الرزاق ، کتاب الصلاۃ ، باب النوم قبلھا ۔۔۔ الخ ،  ج۱ ،  ص۴۱۴ ،  حدیث:  ۲۱۳۷۔



Total Pages: 349

Go To