Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وقت تھا کہ اگر کفار مکہ کے اس فاسد خیال کو ٹھیس نہ پہنچائی جاتی تو وہ مکہ مکرمہ میں   بقیہ مسلمانوں   کومدینہ منورہ ہجرت سے روکنے کے ساتھ ساتھ شدید ظلم وستم کا نشانہ بناتے۔ایسے نازک وقت میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی باکمال فراست سے جان لیا کہ کفار مکہ کے اس فاسد خیال کو چکنا چور کرنا بہت ضروری ہے لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے تمام مسلمانوں   کے برعکس بالکل اعلانیہ اس طرح ہجرت کی کہ تلوار زیب تن کرکے کمان کاندھے پر لٹکائی ،  تیروں   کا ترکش ہاتھ میں   لیا اور پہلو میں   نیزہ لٹکا کر حرم روانہ ہوئے۔ کعبۃ اللہ شریف کے صحن میں   قریش کا ایک گروہ موجود تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پورے اطمینان سے سات چکر لگا کر طواف مکمل کیا۔پھر سکون سے نمازادا کی۔ کفار کے ایک ایک حلقے کے سر پر جا کر کھڑے ہوئے اور ببانگ دھل فرمانے لگے:   ’’ تمہارے چہرے ذلیل ہوگئے ہیں   ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان چہروں   کو خاک میں   ملا دے گا ،  جس نے اپنی ماں   کو نوحہ کرنے والی ،  بیوی کوبیوہ اور بچوں  کو یتیم کرنا ہو وہ حرم سے باہر آکر مجھ سے دو دو ہاتھ کر سکتا ہے۔ ‘‘  (یہ فرما کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ باہر تشریف لے آئےاور کوئی بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے آنے کی جراءت نہ کرسکا۔) ([1])

فاروقِ اعظم مزاج شناس رسول :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کے بے شمار ایسے واقعات ملتے ہیں   کہ سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی بات پر جلال میں   آگئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی معاملہ فہمی سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلال کو جمال میں   تبدیل کردیا۔ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں   روزے کے متعلق سوال کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جلال میں   آگئے ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی وہاں   موجود تھے اور آپ کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کاغضب   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غضب کو دعوت دیتاہے اور اگر حالت جلا ل میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کچھ ارشاد فرمادیا تو یقیناً دنیا وآخرت کی تباہی مقدر ہوگی لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوراً بارگاہِ رسالت میں   مؤدِّبانہ التجا کرتے ہوئے عرض کی:   ’’ رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَ بِمُحَمَّدٍ نَّبِیًّا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُوْلِہٖ یعنی عَزَّ وَجَلَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے ،  اسلام کے دین ہونے ،  محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہیں   ،  ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غضب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں  ۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مزاج شناس رسول تھے ،  بعد میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہی سوال رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس میٹھے انداز میں   کیے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا جلال جمال میں   تبدیل ہوگیا۔([2])

حدیث قرطاس اور فاروقِ اعظم کی معاملہ فہمی :

شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مرضِ وفات کا مشہور واقعہ قرطاس ہے جس میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنے وصال ظاہری سے تین روز قبل ارشاد فرمایا کہ میں   تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں   کہ تم آئندہ بہک نہ سکو۔ایسے نازک وقت میں   جب کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مرض الموت میں   ہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس وقت موجود صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایاکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    درد کی شدت میں   ہیں   لہٰذا قلم دوات لانے کی حاجت نہیں    ، ہمارے لیے قرآن کافی ہے۔([3])

رسول اللہ کے وصال ظاہری پر آپ کا فرمان:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلمانوں   کے لیے سب سے بڑے رنج و غم کا وقت وہ تھا جب تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس دنیا سے وصال ظاہری فرمایا۔جہاں   مسلمانوں   کے لیے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وجود ’’  نعمت کبریٰ ‘‘   تھا وہیں   منافقین وکفار آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وجودمسعود کو اپنے لیے آڑ محسوس کرتے تھے ،  اگر مسلمانوں   کے قلوب میں   اس بات کی خواہش تھی کہ تا قیامت ہمیں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قرابت نصیب ہوتو وہیں   منافقین وکفار اس بات کے خواہاں   تھے کہ مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس دنیا سے فی الفورپردہ فرماجائیں   ،  بلکہ منافقین کی فتنۂ انکارِ زکوۃ وارتداد جیسی کئی سازشیں   بھی تیار تھیں   جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال پر موقوف تھیں  ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منافقین کی انہی ناپاک سازشوں   کو کمزور کرنے کے لیے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کی خبر کو پھیلنے سے روکا اور بعدِ وصال مسجد نبوی میں   تشریف لائے اور فرمایاکہ  ’’ اگر کسی نے یہ کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصال فرماگئے ہیں   تو میں   اس کی گردن اڑادوں   گا۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ فرمان بھی منافقین کی سازشوں   کو کمزور کرنے کے سلسلے میں   بہترین معاملہ فہمی کی عکاسی کرتاہے۔

تمام مسلمان ایک جگہ جمع ہوگئے:

خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنی حیات طیبہ میں   تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو زندگی کے ہر ہر گوشے میں   بہترین رہنمائی عطا فرمائی  ،  کوئی بھی معاملہ ہوتا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   فورا ًبارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوجاتے اور اس کا حل انہیں   مل جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری ہوا مسلمانوں   پر ایک بہت بڑی آزمائش آگئی کہ اب وہ کس سے رہنمائی حاصل کریں   گے؟ لہٰذا فوراً اس بات کو پیش نظر رکھا گیا کہ کوئی خلیفہ مقرر کیا جائے جس کی اتباع کی جاسکے۔ اس معاملے میں   مہاجرین وانصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی رائے مختلف ہوگئی۔ ایک طرف رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری کا صدمہ تو دوسری طرف رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلیفہ کے انتخاب میں   مسلمانوں   کا اختلافِ رائے اس بات کا تقاضا کرتا تھا کہ فوراً اس اختلاف کو ختم کیا جائے ۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی



[1]     اسد الغابۃ ، عمر بن الخطاب ، ھجرتہ ،  ج۴ ،  ص۱۶۴ ملخصا۔

[2]     اس نوعیت کے واقعات کے لیے اسی کتاب کا موضوع ،  فاروقِ اعظم اور عشق رسول ص۔۔کا مطالعہ کیجئے۔

[3]     اس واقعے کی تفصیل کے لیے اسی کتاب کا موضوع  ’’ فاروقِ اعظم عہدِ رسالت میں   ‘‘  ص ۔۔ کا مطالعہ کیجئے۔



Total Pages: 349

Go To