Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

دیکھی تھی۔ میں   اس زنا سے حاملہ ہوگئی اور اس بچے کو جنا تو میں   نےاس بچے کوبھی اسی جگہ ڈال دیا جہاں   اس کے باپ کی لاش ڈالی تھی۔ (باقی کے تمام معاملات سے آپ باخبر ہیں  )   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس بچے اور اس کے باپ کے متعلق جوکچھ میں   نے آپ کو بتایا وہ بالکل صحیح ہے۔ ‘‘ 

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس پاک دامن ،  صحابی رسول کی بیٹی کو دعائیں   دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ صَدَقْتِ بَارَکَ اللہُ فِیْکِ یعنی تم نے سچ کہا  ،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں   برکتیں   عطا فرمائے۔ ‘‘  پھر آپ نے انہیں   وعظ و نصیحت کی ،  ان کے لیے مزید دعا کی اور باہر تشریف لے آئے ،  پھر ان کے والد سے ارشاد فرمایا:   ’’ بَارَکَ اللہُ فِیْ اِبْنَتِکَ فَنِعْمَ الْاِبْنَۃُ اِبْنَتُکَ وَقَدْ وَعَظْتُھَا وَاَمَرْتُھَا یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری بیٹی کو برکتیں   عطا فرمائے ،  کتنی نیک وپرہیزگار بیٹی ہے ،  میں   نے اس سے جوپوچھ گچھ و نصیحت وغیرہ کرنی تھی کردی ہے۔ ‘‘   ان صحابی نے بھی آپ کو دعا دیتے ہوئے عرض کی:   ’’ وَصَلَکَ اللہُ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! وَجَزَاکَ اللہُ خَیْراً عَنْ رَّعِیَّتِکَ یعنی اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو بے شمار بھلائیاں   عطا فرمائے اور آپ کو رعایا کے معاملے میں   جزائے خیر عطا فرمائے۔ ‘‘  ([1])

جیسا آپ چاہتے ویسا ہی ہوتا:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب بھی یہ کہتے ہوئے دیکھا کہ  ’’ میرے خیال میں   یہ کام یوں   ہونا چاہیے۔ ‘‘   تووہ کام ویسا ہی ہوتا۔چنانچہ ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں   سے ایک خوبرو نوجوان گزرا  ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اگر میرا گمان غلط نہیں   تو یہ شخص جاہلیت میں   اپنی قوم کا نجومی تھا۔اُسے بلائو۔ ‘‘   لوگ اُسے بلا کر لائے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اس سے گفتگو فرمائی تو واقعی وہ اپنی قوم کا نجومی نکلا۔([2])

فاروقِ اعظم کی معاملہ فہمی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہاں   فراست جیسی بے شمار باکمال خوبیاں   عطا فرمائی تھیں   وہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ معاملہ فہمی جیسے وصف سے بھی بدرجہ اتم متصف تھے ،  یوں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زندگی کے جس پہلو کو بھی دیکھا جائے وہ اسی صفت کی عکاسی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ معاملہ فہمی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عطاکردہ ایک ایسا وصف ہے جو صرف مخصوص افراد ہی کے حصے میں   آتاہے۔کیونکہ معاملہ فہمی اور فراست دونوں   کا گہرا تعلق ہے ،  جو شخص فراست سے محروم ہوتاہے وہ کبھی بھی معاملہ فہم نہیں   ہوسکتا ،  کیونکہ جہاں   نرمی سے کام لینا ہے وہاں   غصے سے کام لینا یا اس کے برعکس کرنا یقیناً معاملہ فہمی نہیں   بلکہ معاملے کو مزید خراب کرنے والی بات ہے ۔ فراست ومعاملہ فہمی سے متعلق ایک مشہور مقولہ ہے کہ  ’’ جسے یہ فن آگیا کہ کہاں   کیا بولنا ہے یا کس وقت کیا کرنا ہے یقیناً وہ دنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یقیناً   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا اور اس کے فضل وکرم سے اپنی انہی صفات کے سبب دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کے معاملہ فہمی سے متعلق چند گوشے ملاحظہ کیجئے:

قبول اسلام کے فوراً بعد اسلام کو ظاہر کرنا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اسلام قبول کیا اس وقت صرف انتالیس لوگوں   نے اسلام قبول کیا تھایعنی مسلمان بہت ہی قلیل تعداد میں   تھے۔کفار قریش میں   صرف دو ہی ایسے لوگ تھے جو اپنے رعب ودبدبہ میں   مشہور تھے  ،  جن کے نام سے لوگ کانپ جاتے تھے ،  ایک تو حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دوسرے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔آپ سے پہلے حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اسلام قبول کرچکے تھے ،  اب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا ،  کفار جن دو قوتوں   کے بل بوتے پر مسلمانوں   کو تنگ کرتے تھے ،  اب وہ دونوں   ہی مسلمانوں   کے پاس تھیں   لہٰذا اِن دو۲ قوتوں   کے ہونے کے باوجود اگر مسلمان اب بھی کھل کر کفار کے مقابلے میں   نہ آتے تو کفار کا غلبہ یقینی تھا ،  لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جیسے ہی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غلامی کا پٹا اپنے گلے میں   ڈالا تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کی فراست ومعاملہ فہمی دونوں   صفات میں   برکت عطا فرمادی اور آپ نے ان دونوں   کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے وقت کے تقاضے کے مطابق بارگاہِ رسالت میں   یہ مدنی مشورہ پیش کردیا کہ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   اسلام قبول کرچکا ہوں   لہٰذا مسلمان اب چھپ کر نماز ادا نہیں   کریں   گے بلکہ اعلانیہ خانہ کعبہ میں   نماز ادا کریں   گے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس مدنی مشورے کی موافقت فرما کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فراست اور معاملہ فہمی دونوں   صفات پر مہر نبوی ثبت فرمادی۔

اعلانیہ ہجرت کرنا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اعلانیہ ہجرت بھی آپ کی معاملہ فہمی کا شاہکار ہے کیونکہ جب کفار مکہ کے ظلم وستم میں   بہت تیزی آگئی اور مسلمانوں   کا مکہ مکرمہ میں   جینا دوبھر ہوگیا تو سرکارِ والا تبار ،  ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مسلمانوں   کو حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دے دیا اور مسلمانوں   کی ایک تعداد حبشہ ہجرت کرگئی۔ مسلمانوں   کے حبشہ ہجرت کرنے سے کفار مزید بپھر گئے اور انہوں   نے بقیہ مسلمانوں   کو مزید اپنے ظلم وتشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیاجس کے نتیجے میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے تمام مسلمانوں   کو مدینہ منورہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیا۔جب مسلمانوں   نے حبشہ ہجرت کی تو کفار مکہ کے دلوں   میں   فطرتا ایک خیال پیدا ہوا کہ مسلمان اب ہم سے ڈر گئے ہیں   جبھی تو مکہ سے حبشہ ہجرت کررہے ہیں   ،  لیکن جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کا حکم دیا تو یہ خیال ان کے دل میں   مزید تقویت پاگیا کہ واقعی مسلمان تو اب بہت کمزور ہوچکے ہیں   کہ پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور اب شاید سب مدینہ منورہ ہجرت کرجائیں   گے۔ یہ ایک ایسا



[1]     مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب الثالث والثلاثون ،  ص۷۹۔

[2]     بخاری  ، کتاب المناقب  ، اسلام عمر بن خطاب  ، ج۲ ،  ص۵۷۸ ،  حدیث: ۳۸۶۶ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To