Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے رکھ دیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس میں   سے ایک کھجور اٹھائی اور فرمایا:   ’’ یَاعَلِیُّ تَاْخُذُ ھٰذِهِ الرَّطَبَۃَ؟ یعنی اے علی! کیا یہ کھجور کھاؤ گے؟ ‘‘  میں   نے عرض کی:   ’’ جی ہاں   یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔ ‘‘  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے وہ کھجور میرے منہ میں   ڈال دی۔ پھر دوسری کھجور اٹھائی اور اسی طرح مجھ سے پوچھا ،  میں   نے اقرار کیا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ کھجور بھی میرے منہ میں   ڈال دی۔ جب میں   بیدار ہوا تو مجھ پر اب تک وہی کیفیت طاری تھی اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو کھجوریں   میرے منہ میں   ڈالی تھیں   ان کا ذائقہ بھی موجود تھا۔ میں   وضو کرکے مسجد میں   گیا اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پیچھے نماز ادا کی ،  نماز کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرح محراب سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ ابھی میں   نے ارادہ ہی کیا تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا خواب سناؤں   کہ اچانک ایک عورت کھجوروں   سے بھرا ہوا تھال لے کر مسجد کے دروازے پر آئی اور وہ تھال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے لا کر رکھ دیاگیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس میں   سے ایک کھجور اٹھائی اور مجھ سے ارشاد فرمایا:   ’’ تَاْكُلُ مِنْ ھٰذَا یَا عَلِیُّ؟ یعنی اے علی! کیا یہ کھجور کھاؤ گے؟ ‘‘   میں   نے عرض کیا:   ’’ جی ہاں   حضور! کیوں   نہیں   کھاؤں   گا۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ کھجور میرے منہ میں   ڈال دی۔پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک اور کھجور اٹھائی اور دوبارہ مجھ سے پوچھا  ،  میں   نے اقرار کیا تو آپ نے وہ کھجور بھی میرے منہ میں   ڈال دی۔ پھر اسی طرح کھجوریں   اٹھا کر دیگر اصحاب میں   تقسیم فرمانا شروع کردیں  ۔ میرے دل میں   مزید کھجوریں   کھانے کا شوق ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا:   ’’ یَا اَخِیْ لَوْ زَادَكَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَتَكَ لَزِدْنَاكَ یعنی اے میرے بھائی! اگر رات رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تمہیں   خواب میں   دو سے زیادہ کھجوریں   دی ہوتیں   تو ہم بھی ضرور دیتے۔ ‘‘ 

مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  فرماتے ہیں  :   ’’ فَعَجَبْتُ وَقُلْتُ قَدْ اَطْلَعَہُ اللہُ عَلٰى مَا رَاَیْتُ الْبَارِحَۃَ یعنی یہ سن کر میں   بڑا متعجب ہوا اور کہا کہ جو کچھ میں   نے خواب میں   دیکھا تھا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس کی اطلاع دے دی۔ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا:   ’’ یَا عَلِیُّ! اَلْمُؤْمِنُ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللہِ یعنی اے علی! مؤمناللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نور سے دیکھتا ہے۔ ‘‘  میں   نے عرض کیا:   ’’ صَدَقْتَ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ھٰكَذَا رَاَیْتُ وَكَذَا رَاَیْتُ طُعْمَۃً وَلَذَّتَہُ مِنْ یَدِكَ كَمَا وَجَدْتُّ طَعْمَهُ وَلَذَّتَہُ مِنْ یَدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یعنی آپ نے سچ فرمایا اے امیر المؤمنین! میں   نے خواب میں   ایسا ہی دیکھا تھا اور جیسا ذائقہ ولذت میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ میں   دیکھی ہے ویسی ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مبارک ہاتھوں   میں   بھی تھی۔ ‘‘  ([1])

 پاک دامن قاتلہ تک رسائی:

ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو راستے میں   پڑے بے ریش مقتول کی لاش کے پاس لایا گیا ۔ آپ نے لاش کا معائنہ کرنے کے بعد مقتول کے متعلق لوگوں   سے پوچھ گچھ کی لیکن کوئی خاطر خواہ بات سامنے نہ آئی اور نہ ہی قاتل کا کوئی سراغ ملا۔بہرحال آپ نے بارگاہِ الٰہی میں   یوں   دعا کی:   ’’ اَللّٰھُمَّ اظْفُرْنِیْ بِقَاتِلِہٖ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اس کے قاتل کی تلاش میں   کامیابی عطا فرما۔ ‘‘  تقریباً ایک سال بعد دوبارہ آپ کو معلوم ہوا کہ جس جگہ اس شخص کی لاش پڑی تھی وہیں   پر اب ایک زندہ بچہ موجود ہے۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا:   ’’ ظَفَرْتُ بِدَمِ الْقَتِیْلِ اِنْ شَاءَ اللہُ یعنی اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو اب میں   اس شخص کے قاتل تک پہنچ جاؤں   گا۔ ‘‘   پھر آپ نے وہ بچہ ایک عورت کی پرورش میں   دے دیا اور اسے تاکید فرمادی کہ :   ’’ اگر کوئی بھی عورت تمہارے پاس اس بچے سے متعلق آئے اسے پیار کرے یا اس کے ساتھ محبت کا اظہار کرے تو اسے کرنے دینا اور اس کی اطلاع ہم تک فوراً پہنچانا۔ ‘‘ 

کچھ عرصے بعد اس عورت کے پاس ایک لونڈی آئی اور کہنے لگی کہ :   ’’ کیا تم یہ بچہ کچھ دیر کے لیے مجھے دے سکتی ہو تاکہ میری مالکن اس بچے کو دیکھے ،  پھر میں   تمہیں   یہ بچہ واپس لوٹا دوں   گی۔ ‘‘   اس عورت نے کہا:   ’’ کیوں   نہیں   بلکہ میں   بھی تمہارے ساتھ ہی چلتی ہوں  ۔ ‘‘   پھر وہ لونڈی اور عورت دونوں   مالکن کے پاس پہنچ گئیں   ،  مالکن نے بچے کو لے کر اسے چوما پیارکیا اور اپنے سینے سے چمٹا لیا۔ وہ مالکن دراصل ایک انصاری صحابی رسول کی بیٹی تھیں  ۔بہرحال اس عورت نے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو ان کے متعلق بتادیا۔ آپ نے تلوار نکالی اور اس صحابی کے گھر پہنچ گئے ،  دیکھا تو وہ باہر ہی تشریف فرماتھے۔ آپ نے ان سے فرمایا:   ’’  آپ کی فلاں   بیٹی نے کیا کیا؟ ‘‘   انہوں   نے عرض کی:   ’’ اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جزائے خیر عطا فرمائے ،  وہ تو حقوق اللہ ،  حقوق والدین ،  صوم وصلاۃ ودینی معاملات کی ادائیگی کے حوالے سے لوگوں   میں   مشہور ہے۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ کیا آپ اس بات کو پسند کریں   گے کہ میں   اس سے کچھ پوچھ گچھ کروں   تاکہ خیر میں   اس کی رغبت مزید بڑھ جائے؟ ‘‘   عرض کی:   ’’ اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ،  آپ یہیں   تشریف رکھیے میں   ابھی تھوڑی دیر میں   آتا ہوں  ۔ ‘‘  پھر ان انصاری صحابی نے (پردے وغیرہ کے اہتمام کے بعد) اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت دے دی تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ان کے پاس گئے اور باقی تمام اَفراد کو باہر نکال دیا۔ پھر آپ نے تلوار نکال کر اُن سے فرمایا:   ’’ لَتَصْدُقِیْنِیْ وَاِلَّا قَتَلْتُکِ وَکَانَ عُمَرُ لَایَکْذِبُ یعنی تم مجھے سچ سچ بتاؤ گی کہ بچے کا کیا معاملہ ہے ؟ورنہ میں   تمہیں   قتل کردوں   گا اور یاد رکھو عمر کبھی جھوٹ نہیں   بولتا۔ ‘‘ 

انہوں   نے اپنے ساتھ پیش آنے والے معاملے کی روداد سناتے ہوئے عرض کی کہ حضور! میرے پاس ایک بڑھیا آیا کرتی تھی ،  اس کا اور میرا معاملہ ایسا تھا جیسے ماں   اوربیٹی کا ،  وہ ایک عرصے تک میرے پاس آتی رہی ،  پھر ایک دن اس نے مجھ سے کہا:   ’’ بیٹا میں   ایک لمبے سفر پر جارہی ہوں   ،  میری ایک بیٹی ہےجسے میں   اکیلا نہیں   چھوڑ سکتی اس لیے اسے تمہارے ہاں   چھوڑ کرجارہی ہوں  ۔ ‘‘  اس کی بیٹی کا ایک بیٹا بھی تھا جوبالکل لڑکیوں   کے مشابہ تھا ،  میں   اسے لڑکی ہی سمجھتی رہی ،  مجھے کبھی اس پر شک بھی نہ ہوا کہ وہ لڑکی نہیں   بلکہ لڑکا ہے ،  ایک دن میں   سو رہی تھی کہ اس نے مجھ پر قابو پالیا اور میرے ساتھ زنا کیا ،  اسی دوران میرے ہاتھ میں   چھری آگئی اور میں   نے اسے قتل کردیا ،  پھر اس کی لاش اسی راستے پر ڈال دی جہاں   آپ نے



[1]     ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۳۳۱۔



Total Pages: 349

Go To