Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ :   ’’ اِنْ كَانَ اَحَدٌ یَعْرِفُ الْكِذْبَ اِذَا حَدَّثَ بِہٖ اِنَّہُ كِذْبٌ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یعنی اگر کسی شخص کو گفتگو میں   جھوٹ کی پہچان ہوجایا کرتی تھی تو وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات مبارکہ تھی۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم اور اجنبی شخص کی پہچان :

ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسجد میں   تشریف فرما تھے ساتھ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اصحاب بھی تھے کہ ایک شخص کا وہاں   سے گزر ہوا۔ لوگوں   نے عرض کیا:  ’’  حضور! کیا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس شخص کو جانتے ہیں  ؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:   ’’ ایک شخص کواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے رحمتِ عالم ،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری کے متعلق غیب سے اطلاع دی تھی جس کا نام (حضرت سیِّدُنا) سواد بن قارب (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )ہے ،  میں   نے اسے دیکھا تو نہیں   لیکن اگر وہ زندہ ہے تو پھر وہ یہی شخص ہے اور اُسے اپنی قوم میں   ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُسے بلالیااور اس سے گفتگو فرمائی تو ویسا ہی ہوا جیسا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا تھا۔([2])

شراب کی بوتل سرکہ بن گئی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ايک بار مدينہ منورہ کی ايک گلی سے گزر رہے تھے  ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دیکھا کہ سامنے سے ایک نوجوان آرہا ہےاوراس نے کپڑوں   کے نیچے ايک بوتل بھی چھپا رکھی تھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی فراست سے پہچان لیا کہ یہ شراب ہی کی بوتل ہوگی  ،  چنانچہ جیسے ہی وہ قریب پہنچا تو آپ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اس سے پوچھا :  ’’ اے نوجوان!يہ کپڑوں   کے نیچے کيا اٹھا رکھا ہے ؟ ‘‘  یقیناً اس بوتل ميں   شراب تھی نوجوان نے اسے شراب کہنے ميں   شرمندگی محسوس کی۔اس نے فوراً دل ہی دل ميں   دعا کی :  ’’ يا اللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے سامنے شرمندہ اور رسوا نہ فرما ،  ان کے ہاں   ميری پردہ پوشی فرما  ، میں   تیری بارگاہ میں   سچی توبہ کرتاہوں   کہ آئندہ کبھی شراب نہيں   پيوں   گا ۔ ‘‘  اس کے بعد نوجوان نے عرض کيا :   ’’ امير المؤمنين ! یہ تو سرکے کی بوتل ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے فرمايا:  ’’ مجھے دکھاؤ۔ ‘‘  جب اس نے وہ بوتل آپ کے سامنے کی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اسے ديکھا تو وہ واقعی سرکے کی بوتل تھی ۔([3])

بیٹے کے حقیقی رشتے کو پہچان لیا:

حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  لوگوں   کے پاس سے گزر رہے تھے کہ آپ نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا:   ’’ وَيْحَكَ حَدِّثْنِيْ مَارَاَيْتُ غُرَاباً بِغُرَابٍ اَشْبَهَ بِهٰذَا مِنْكَ یعنی بہت خوب!کیا معاملہ ہے کہ آج تک میں   نے کوؤں   میں   بھی اتنی مشابہت نہیں   دیکھی جتنی تم باپ بیٹے میں   ہے؟ ‘‘   اس شخص نے (ایک حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے) عرض کی:   ’’ اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس بچے کو اس کی ماں   نے مرنے کے بعد جنا ہے۔ ‘‘   آپ نے فرمایا:   ’’ مجھے اس کی تفصیل بتاؤ۔ ‘‘   

اس نے تفصیل بتاتے ہوئے عرض کی کہ ایک دفعہ میں   جنگ کے لیے اپنے گھر سے نکلا تو اس وقت اِس کی ماں   اِس سے حاملہ تھی ،  اُس نے مجھے کہا :   ’’  میں   حاملہ ہوں   اور تم مجھے اس حال میں   چھوڑ کر جنگ پر جارہے ہو؟  ‘‘  میں   نے اس سے کہا:   ’’ تمہارے پیٹ میں   جو بچہ ہے وہ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بطور امانت دے کر جارہا ہوں  ۔ ‘‘   پھر میں   چلا گیا۔ جب میں   جنگ سے لوٹ کر واپس آیا تو دیکھا کہ گھر کا دروازہ بند ہے ،  میں   نے اپنی زوجہ کے بارے میں   لوگوں   سے پوچھا تو انہوں   نے بتایا کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے ،  میں   اس کی قبر پر گیا اورفرط غم سے روتا رہا۔ پھر رات کے وقت میں   اپنے چچا کے بیٹوں   کے ساتھ بیٹھا باتیں   کررہا تھا کہ میں   نے جنت البقیع میں   قبروں   کے درمیان آگ دیکھی۔ میں   نے ان سے پوچھا کہ یہ آگ کیسی ہے؟ تو وہ لوگ میرے پاس سے اٹھ کر چلے گئے اور کچھ نہ بتایا۔ میں   ان کے پاس گیااور دوبارہ پوچھا تو انہوں   نے میری زوجہ کی قبر کے بارے میں   بتایا کہ ہم روزانہ اس کی قبر پر آگ دیکھتے ہیں  ۔یہ سن کر میں   نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ(بے شک ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لیے ہیں   اور ہمیں   اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) پڑھا۔ کیونکہ خدا کی قسم! وہ یعنی میری زوجہ تو کثرت سے روزے رکھنے والی ،  نوافل ادا کرنے والی اور نہایت ہی پاک دامن مسلمان تھی۔ میں   نے (قبر کی کھدائی کے لیے )ایک پھاؤڑا لیا اور اپنے چچا کے بیٹوں   کو لے کر قبر پر آیا ۔ دیکھا تو قبر پہلے ہی کھلی ہوئی تھی ،  میری زوجہ اس میں   بیٹھی ہوئی تھی اور یہ بچہ اس کے گرد کھیل رہا تھا۔ اسی وقت آسمان سے ندا کرنے والے ایک منادی نے یوں   ندا کی:   ’’ اَيُّهَا الْمُسْتَوْدِعُ رَبَّهُ وَدِيْعَتَهُ خُذْ وَدِيْعَتَكَ اَمَّا لَوِ اسْتَوْدَعْتَ اُمَّهُ لَوَجَدْتَّهَا یعنی اے اپنے رب کے پاس امانت رکھوانے والے! اپنی امانت (بچہ)لے لے اگر تو اس کی ماں   کو بھی بطور امانت اپنے رب کے سپرد کر جاتاتو اسے بھی ضرور (زندہ)پاتا۔ ‘‘  میں   نے اس بچے کو اٹھا لیا اور قبر خود ہی بند ہوگئی۔ اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ وہی بچہ ہے۔ ‘‘  ([4])

مولاعلی کے خواب کوعملاً بیان فرمادیا:

 ایک بارمولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے رات کو خواب دیکھا کہ گویا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز فجر رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے ادا فرمائی۔ نماز کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممحراب سے ٹیک لگا کر تشریف فرما ہوگئے۔ اچانک ایک لونڈی کھجوروں   سے بھرا ہوا تھال لے کر حاضر ہوئی اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ



[1]     تاریخ ابن عساکر ، ۴۴ ، ص۲۸۱۔

[2]     مستدرک حاکم  ، کتاب معرفۃ الصحابہ  ، ذکر سواد بن قارب الازدی ، ج۴ ،  ص۷۹۸ ،  حدیث: ۶۶۱۷۔

                                                معجم کبیر   ، سواد بن  قارب  ، ج۷ ،  ص۹۲ ،  حدیث: ۶۴۷۵۔

[3]     مکاشفۃ القلوب  ، الباب الثامن فی التو بۃ  ،  ص ۲۷ ۔۲۸۔

[4]     نوادر الاصول ،  الاصل الحادی والثلاثون ،  ج۱ ،  ص۱۴۲ ،  حدیث:  ۲۰۷۔

                                                 مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب الثانی والثلاثون ،  ص۶۷۔



Total Pages: 349

Go To