Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حجام کی دل جوئی کے لیے چالیس درہم :

حضرت سیِّدُنا عکرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شخصیت میں   بہت ہی ہیبت تھی ،  ایک بار حجام آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بال بنا رہا تھا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے گلا صاف کرنے کے لیے کھنکارا تو اس بےچارے حجام کا خوف کے مارے وضو ٹوٹ گیا۔ بعد ازاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس حجام کی دلجوئی کے لیے چالیس درہم دینے کاحکم فرمایا۔([1])

فاروقِ اعظم اور اِنفاق فی سبیل اللہ

محبوب شے کو راہ خدا میں   خرچ کردیا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایسے سخی تھے کہ راہِ خدا میں   اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں   بھی خرچ کردیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ میرے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حصے میں   خیبر کی کچھ زمین آئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   عرض کیا :  ’’ اَصَبْتُ اَرْضًا لَمْ اُصِبْ مَالًا قَطُّ اَنْفَسَ مِنْہُ فَكَیْفَ تَاْمُرُنِیْ بِہٖ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !یہ خیبر کی زمین میرے حصے میں   آئی ہے اور اس سے نفیس مال مجھے کبھی نہیں   ملا ،  آپ ارشاد فرمائیں   کہ میں   اس زمین کا کیا کروں  ؟ ‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ اَصْلًا وَتَصَدَّقْتَ بِھَایعنی اے عمر! اگر تم چاہو تو اسے اپنی ملکیت ہی میں   رکھو اور اس کے منافع راہ خدا میں   صدقہ کردو۔ ‘‘  چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس زمین کو ایسے صدقہ کیا کہ نہ تو اس کو بیچا جائے گا ،  نہ ہی ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس میں   وراثت جاری ہوگی بلکہ اس کی آمدنی کو فقراء ،  غریب رشتہ داروں   ،  مسافروں   ،  مہمانوں  اور راہ خدا میں   خرچ کیا جائےگا ،  اور اس کے متولی کو اجازت ہے کہ اس میں   سے اپنی ذات یا دوستوں   پر جائز طریقے سے خرچ کرے۔([2])

اپنی باندی کو راہِ خدا میں   آزاد کردیا:

حضرت سیِّدُنا مجاہد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کو کسری کے شہر مدائن کی فتح کے دن پیغام بھیجا کہ جلولاء کے قیدیوں   سے ایک باندی خرید کر میرے لیے روانہ کردو۔انہوں   نے ایک لونڈی کو آپ کی خدمت میں   بھیج دیا۔ جب وہ لونڈی آپ کی خدمت میں   حاضر ہوئی تو اس نے آپ کو تعجب میں   ڈال دیا۔ (یعنی وہ بہت خوبصورت تھی) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:  (لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ ) (پ۴ ،  آل عمران: ۹۲) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں   اپنی پیاری چیز نہ خرچ نہ کرو ۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس باندی کواُسی وقت راہِ خدا میں   آزاد کردیا۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کی با کمال فراست

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی مایہ ناز مشہورِ زمانہ تصنیف  ’’ فیضانِ سنت ‘‘   جلددوم کے باب ’’ نیکی کی دعوت ‘‘   حصہ اول صفحہ ۳۷۰ پر فراست کی تعریف کچھ یوں   بیان فرمائی ہے:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اولیاء کے دلوں   میں   وہ چیز ڈالتاہے جس سے انہیں   بعض لوگوں   کے حالات کا علم ہوجاتاہے۔ ‘‘  واقعی مؤمن کے لیےیہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے عطاکردہ نور ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مؤمن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نور سے دیکھتاہے ۔ ‘‘  ([4])

 امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس نور سے بدرجہ اتم معمو ر تھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کے بے شمار ایسے پہلو ہیں   جو آپ کی فراست سے معمور ہیں   ، خصوصاً آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقات آپ کی اعلی فراست کی روشن دلیل ہیں  ۔([5])بہرحال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی نوری فراست سے مختلف لوگوں   کے مختلف اقوال وافعال دونوں   کو جان لیا کرتے تھے۔ چنانچہ ،

فاروقِ اعظم سچ اور جھوٹ کی پہچان کرلیتے:

٭…حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے کوئی بات بیان کرتا اور اس میں   جھوٹ ملا تا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کو روک دیتے  ،  وہ پھر بیان کرتا تو پھر روک دیتے۔ جب وہ بیان کرلیتا تو کہتا کہ  ’’ میں   نے جو کچھ بیان کیا وہ حق ہے مگر جتنے حصے کے بارے میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ اس کو روک دوں   وہ حق نہیں   تھا۔ ‘‘  ([6])

 



[1]     طبقات کبری ، ذکر استخلاف عمر ، ج۳ ، ص۲۱۷۔

[2]     بخاری ،  کتاب الوصایا ،  الوقف کیف یکتب ،  ج۲ ،  ص۲۴۴ ،  حدیث: ۲۷۷۲۔

[3]     تفسیر قرطبی ،  پ۴ ،  آل عمران ،  تحت الآیۃ: ۹۲ ،  ج۲ ، الجزء: ۴ ،   ص۱۰۱۔

                                                 کنز العمال ،  کتاب الزکوۃ ،  فصل فی آداب الصدقۃ ،  الجزء: ۶ ،  ج۳ ،  ص۲۵۱ ،  حدیث: ۱۷۰۱۸۔

[4]     ترمذی ، کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الحجر ، ج۵ ،  ص۸۸ ،  حدیث: ۳۱۳۸۔

[5]     امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقات کے لیے اسی کتاب کا موضوع  ’’ موافقات فاروقِ اعظم ‘‘  ص۔۔۔کا مطالعہ کیجئے

[6]     تاریخ ابن عساکر ، ج۴۴ ، ص۲۸۲۔



Total Pages: 349

Go To