Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اوقات آپ دیگر مسلمانوں   کو اپنے سے بہتر ارشاد فرماتے۔ چنانچہ ، حضرت سیِّدُنا ابو رافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے قریب سے گزرے تو میں   قرآن پاک کی خوبصورت لہجے میں   تلاوت کررہا تھا ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سن کر ارشاد فرمایا:   ’’ یَا اَبَا رَافِعْ! لَاَنْتَ خَیْرٌ مِّنْ عُمَرَ تُؤَدِّیْ حَقَّ اللہِ وَحَقَّ مَوَالِیْكَ یعنی اے ابو رافع! یقیناً تم عمر سے بہتر ہو کہ تم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حقوق اور اپنے آقا کے حقوق اچھی طرح ادا کرتے ہو۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کا حلم وبردباری

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب کسی کو کوئی عہد ہ مل جائے تو عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اس کے حلم یعنی قوت برداشت میں   بہت زیادہ کمی آجاتی ہے ،  خصوصا جب اس کے مقام ومرتبہ کے خلاف کوئی بات ہوجائے ،  لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عالم اسلام کے وہ عظیم الشان آئیڈیل حکمران تھے جن کے حلم اور بردباری میں   کبھی کمی نہ آئی  ،  اگر کسی سے کبھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے منصب کے خلاف کوئی کوتاہی ہوبھی گئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کبھی اس سے انتقام نہ لیا اور اور نہ ہی اس پر کسی قسم کی کوئی سرزنش کی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حلم وبردباری کا ایک عظیم الشان واقعہ ملاحظہ کیجئے۔

جنگی قاصد آپ کو نہ پہچان سکا:

حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ملک عراق میں   کفار کے خلاف برسر پیکار تھے۔انہوں   نے جنگی حالات کے متعلق امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خط لکھ کر بذریعہ قاصد روانہ کیا۔ اِدھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو لشکر اسلام کی بہت فکر دامن گیر تھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روزانہ صبح قادسیہ کی طرف جانے والے راستے پر اکیلے نکل جاتے اور دوپہر تک قاصد کا انتظار کرتے رہتے ،  اس راستے سے آنے والے ہر شخص سے جنگ کی تازہ ترین صورتِ حال جاننے کی کوشش کرتے۔ ایک روز حسب معمول آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسی راستے پر نکلے ہوئے تھے کہ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قاصد آپہنچا۔آپ نے اس سے پوچھا:   ’’ کہاں   سے آئے ہو؟ ‘‘   اس نے جواب دیا:   ’’ میں   قاصد ہوں  ۔ ‘‘  ارشاد فرمایا:   ’’ حَدِّثْنِیْ یعنی جنگ کی کیا خبر ہے؟ مجھے بتاؤ۔ ‘‘   اس نے کہا:  ’’ ھَزَمَ اللہُ الْعَدُوَّ یعنی  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دشمنوں   کو شکست دے دی ہے اور اہل اسلام کو فتح عطا فرمائی ہے۔ ‘‘  یہ کہہ کر قاصد اپنی اونٹنی سمیت آگے بڑھ گیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ ساتھ پیدل دوڑنے لگے اور ساتھ ہی ساتھ اس سے فتح کے متعلق دیگر سوالات کرتے رہے یہاں   تک کہ دونوں   مدینہ منورہ میں   داخل ہوگئے۔ لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو امیر المومنین کہہ کر سلام کرنے لگے۔یہ دیکھ کر وہ قاصد نہایت ہی شرمندہ ہوا اور عاجزی کے ساتھ عرض کرنے لگا:  ’’  یاامیر المومنین! آپ نے مجھے بتایاہی نہیں  ۔ ‘‘  فرمایا:   ’’ تم پر کوئی اعتراض نہیں  ۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی طرف اصلاحی مکتوب:

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حلم کا یہ عالم تھا کہ امیر المؤمنین ہونے کے باوجود اگر کوئی ما تحت آپ کو نصیحت آمیز بات کہتا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ برامنانے کے بجائے اس کی بات کو خوشی سے قبول فرماتے۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وحضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نصیحتوں   سے بھرپور مکتوب لکھا ۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِس مکتوب کو پڑھ کر جواباً ارشاد فرمایا:   ’’  كَتَبْتُمَا تَعَوَّذَانِیْ بِاللّٰہِ اَنْ اَنْزِلَ كِتَابَكُمَا سِوَى الْمَنْزِلِ الَّذِیْ نَزَلَ مِنْ قُلُوْبِكُمَاوَاَنَّكُمَا كَتَبْتُمَا بِہٖ نَصِیْحَۃً لِیْ وَقَدْ صَدَقْتُمَا فَلَا تَدْعَا الْكِتَابَ اِلَیَّ فَاِنَّہُ لَا غِنَی  بِیْ عَنْكُمَا وَالسَّلَامُ عَلَیْكُمَا یعنی آپ دونوں   نے مجھے نصیحتوں   سے بھرپور مکتوب لکھا کہ آپ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں   اس بات سے کہ میں   یہ خط پڑھ کر وہ مفہوم لوں   جو آپ کے دلوں   میں   نہیں   ہے جبکہ آپ نے تو خیر خواہی کے لیے لکھا ہے۔ آپ دونوں   نے سچ کہا ہے ،  مجھےآئندہ بھی آپ کے خط کا انتظار رہے گا ،  میں   آپ حضرات (کی خیر خواہی )سے بے نیاز نہیں   ہوں  ۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کی سخاوت

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بے شمار اوصاف کے حامل ہونے کےساتھ ساتھ نہایت ہی سخی بھی تھے ،  آپ کی سخاوت کے خود آپ کے دوستوں   کے مابین بھی چرچے ہوتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد حضرت سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شہزادے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعض اوصاف کے متعلق گفتگو کی تو میں   نے ان کے سامنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اوصاف  بیان کیے تو انہوں   نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَا رَاَیْتُ اَحَدًا قَطُّ بَعْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ حِینَ قُبِضَ كَانَ اَجَدَّ وَاَجْوَدَ حَتّٰی اِنْتَھٰی  مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے بعد میں   نے کسی بھی شخص کو زیادہ کوشش کرنے والا اور سخاوت کرنے والا نہیں   دیکھا حتی کہ یہ اوصاف سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر ختم ہوگئے۔ ‘‘   ([4])

ایک ہزار دینار بطور انعام عطا فرمادیے:

حضرت سیِّدُناعامر بن حرم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ :  ’’ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَجَازَ رَجُلًا بِاَلْفِ دِیْنَارٍ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو ایک ہزار دینار بطور اِنعام عطا فرمادیے۔ ‘‘  ([5])

 



[1]     شعب الایمان للبیھقی ،  باب فی حق السادۃ علی الممالید ،  ج۶ ،  ص۳۸۶ ،  حدیث: ۸۶۱۳۔

[2]     فتوح الشام ،  ذکر فتوح الخورنق۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۱۷۹ ،  مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب السابع والاربعون ،  ص۱۴۱۔

[3]     مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب الزھد ، کلام عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۱۴۸ ،  حدیث:  ۱۰ملتقطا۔

[4]     بخاری ،  کتاب المناقب ،  مناقب عمر بن الخطاب ، ج۲ ،  ص۵۲۷ ،  حدیث: ۳۶۸۷۔

[5]     مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب البیوع والاقضیۃ ، من رخص فی جوائز الامراء ۔۔۔ الخ ،  ج۵ ،  ص۴۳ ،  حدیث:  ۱۹۔



Total Pages: 349

Go To