Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…کئی مقامات پر تحقیقی ووضاحتی ،  مفید اور ضروری حواشی بھی لگائے گئے ہیں  ۔

٭…راویوں   کے اسماء اور دیگر کئی مشکل اَلفاظ پر اِعراب کا بھی التزام کیا گیا ہے نیز بعض پیچیدہ الفاظ کا تلفظ بھی بیان کردیا گیا ہے۔

٭…روایات بیان کرنے میں   احادیث کو ترجیح دی گئی ہے بصورت دیگر مستند کتب تاریخ کو اختیار کیا گیا ہے۔

٭…مختلف ابواب کے شروع میں   تمہیدی کلمات بھی ذکر کیے گئے ہیں   تاکہ اُس باب کے تحت آنے والے اُمور کی اہمیت وافادیت قاری پر واضح ہوسکے۔

٭…عوام میں   مشہور ایسے واقعات یا اَقوال جو ہمیں   کسی مستند کتاب میں   نہیں   ملے انہیں   شامل نہیں   کیا گیا۔

٭…بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مخاطب کو کوئی بات زبانی کلامی سمجھ میں   نہیں   آتی لیکن اسی بات کو نقشہ بنا کر سمجھایا جائے تو فوراً سمجھ میں   آجاتی ہے ،  نقشہ بنا کر بات کو سمجھانا خود حدیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیضانِ فاروق اعظم میں   بعض مقامات پر اہم اُمور کی وضاحت کے لیے مختلف نقشے اور چند مقامات کی تصاویر بھی دی گئی ہیں  ۔

٭… سیِّدُنافاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حیات طیبہ کے ہر ہر گوشے سے متعلق کئی کئی روایات اورواقعات ملتے ہیں   لیکن ضخامت کے پیش نظر چیدہ چیدہ اہم روایات وواقعات کو ہی لیا گیا ہے۔

(3)…عربی عبارات کا ترجمہ:

عربی یا فارسی وغیرہ کتب سے مواد لے کر اُسے بعینہ اُسی مفہوم پر اردو زبان میں   ڈھالناایک بہت بڑا فن اور نہایت ہی مشکل امر ہے ،  مترجمین کے لیے اِس میں   بہت احتیاط کی حاجت ہے کہ بسا اوقات ترجمہ کرتے ہوئے نفس مفہوم ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔  ’’ فیضانِ فاروقِ اعظم  ‘‘  میں   عربی وفارسی عبارات کے ترجمے کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیا:

٭…عربی وفارسی عبارات میں   لفظی ترجمے کے بجائے مفہومی ترجمہ کیا گیا ہے۔

٭…ترجمہ کرتے وقت اِس بات کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے کہ نفس مسئلہ میں   کوئی تغیر واقع نہ ہو۔

٭… روایات واحادیث کا ترجمہ کرتے ہوئے علمائے اہلسنت کے تراجم کو بھی سامنے رکھا گیا ہے۔

٭…ترجمہ کرتے وقت شروح ولغات کی طرف بھی رجوع کیا گیا ہے۔

٭…احادیث وروایات کے ترجمہ میں   طویل سند بیان کرنے کے بجائے فقط آخری راوی کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا ہےنیز بعض مقامات پر ایک ہی موضوع کی مختلف روایات کو بھی ضرورتاً بیان کیا گیا ہے۔

٭…دورانِ ترجمہ مشکل مقامات پر  ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘   کے شعبہ  ’’ تراجم کتب ‘‘  کے ماہر مترجمین مدنی علمائے کرام سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔

(4)…عربی عبارات کا تقابل:

عبارت کو غلطی سے محفوظ کرنے کے لیے اس کا تقابل کرنا (یعنی جس اصل کتاب سے وہ عبارت لی گئی ہے اس کے مطابق کرنا)بہت ضروری ہے ،  بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ نقل در نقل ایک غلطی آگے منتقل ہوتی رہتی ہےلیکن جب اُس کے اَصل ماخذ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے تو وہاں   وہ عبارت موجود ہی نہیں   ہوتی یا منقولہ عبارت کے مطابق نہیں   ہوتی۔ یہ غلطی عموماً تقابل نہ کرنے اور فقط  ’’ نقل ‘‘   پر اعتماد کرنے سے واقع ہوتی ہے۔ ’’ فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘   میں   عربی عبارات کے تقابل کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیاہے:

٭…عربی کتب سے جوترجمہ کیا گیا ہے اُس کا اصل کتاب سے انتہائی احتیاط کے ساتھ تقابل کیا گیا ہے۔

٭…اگر کسی عبارت کے ترجمے میں   اُردو کتاب سے معاونت لی گئی ہے تو اُس کا اَصل عربی کتاب سے بھی بالاستیعاب تقابل کرلیا گیا ہے۔

٭…عبارت ذکر کرنے کے بعد جس کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے اُسی کتاب سے تقابل کیا گیا ہے۔

٭…قرآنی آیات اور اُن کے ترجمے کابھی اصل نسخے سے تقابل کرلیا گیا ہے۔

(5)…عربی عبارات کی تفتیش:

کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے جہاں   پوری دنیا میں   ایک حیرت انگیز انقلاب آیاہے وہیں   کتب کی طباعت میں   بھی اُس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمپیوٹر سے پہلے کتابیں   ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں   جن میں   وقت بہت لگتا تھا لیکن جیسے ہی کمپیوٹر آیا اس سے مصنفین وناشرین کو سب سے بڑا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ قلیل وقت میں   کثیر کتب کی طباعت ہونے لگی۔ لیکن واضح رہے کہ اِس کا ایک نقصان یہ بھی ظاہر ہوا کہ پروف ریڈنگ کی اَغلاط پہلے کی بہ نسبت اب زیادہ ہونے لگیں  ہیں  ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات مختلف کمپیوٹرائزڈ کتب کے جدید اور قدیم نسخوں   کی عبارتوں   میں   بھی کافی فرق آجاتا ہے۔ اِس فرق کو واضح یا دور کرنے کے لیے قدیم نسخوں   کی مدد سے عربی عبارات کی تفتیش کی جاتی ہے۔  ’’ فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘   میں بھی مواد کو ترتیب دیتے وقت کئی ایسی عبارتیں   سامنے آئیں   جن میں   مختلف نسخوں   کی وجہ سے اختلاف پایا گیا لہٰذا اُن عبارتوں   کی روایت و درایت دونوں   اعتبار سے قدیم نسخوں  (مخطوطات) کی مدد سے تفتیش کی گئی اور پھر مشاورت سے درست عبارت کو لے لیا گیا نیز اُس عبارت کا حوالہ دیتے ہوئے اُس نسخے کی وضاحت بھی کردی گئی ہے۔

 



Total Pages: 349

Go To