Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اس باب میں ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عاجزی  و انکساری  ، حلم و بُردْ باری وسخاوت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اِنْفَاقْ فِیْ سَبِیْل اللہ( راہِ خُدا میں خرچ کرنا)

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی با کمال فراست ومُعاملہ فہمی اطاعت باری تعالٰی تقویٰ و پرہیز گاری

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی نماز ،  نماز میں   قراءت ذکر اللہ اور روزے

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اور اعتکاف  ، جنتی اعمال  ، تلاوت اور  گریہ وزَاری

ہیبتِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا خوفِ خدا ،  دنیا سے بے رغبتی ،  فکر آخرت ،  فاروقِ اعظم اور جذبہ ایثار

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حق وصداقت کے شہنشاہ  ،  آپ کا غصہ اور جلال

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اور اتباع سنت  ،  اطاعت  گزار رَعایا ،  آ پ کی جرأت وبہادری

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور نیکی کی دعوت ،  قبر کے احوال ،  نکرین کے سوال

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیر مسلموں   سے کنارہ کشی ،  شرعی احکام کی پاسداری ،

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مریضوں   کی عیادت اور لواحقین سے تعزیت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور مختلف علوم ،   منقول تفسیر  قرآن و مروی اَحادیثِ مُبارکہ
                                                ٭…٭…٭…٭…٭…٭

یعنی مدینہ کے دونوں   کناروں   کے درمیان عمر سے بہتر کوئی شخص نہیں  ۔ ‘‘  ([1])  

فاروقِ اعظم کی تین خصلتیں  :

حضرت سیِّدُنا عوف بن مالک اشجعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خواب دیکھا کہ ایک جگہ بہت سے لوگ جمع ہیں  جن میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے بلند ہیں  ۔عام لوگوں   سے تقریباًتین ہاتھ تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سر اونچا تھا۔ ‘‘  میں   نے کہا:  ’’  یہ کون ہیں  ؟ ‘‘  لوگوں   نے بتایا:  ’’  یہ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں  ۔ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ یہ اتنے اونچے کیوں   ہیں  ؟ ‘‘  لوگ کہنے لگے:  ’’ ان میں   تین خصلتیں   ہیں  :  (۱) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں   کسی شخص کی ملامت کی پرواہ نہیں   کرتے۔ (۲)انہیں   خلیفہ بنایا گیا۔ (۳)اور شہید کیا گیا ہے۔ ‘‘ 

مزید فرماتے ہیں   کہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیا اور انہیں   اپنا خواب سنایا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بلا بھیجا۔ ‘‘   ان کے آنے کے بعد حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے دوبارہ خواب سنانے کا ارشاد فرمایا تو میں   نے پھر خواب سنانا شروع کیا اور جب میں   نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تین خصلتیں   بیان کرتے ہوئے کہا:   ’’ انہیں   خلیفہ بنایا گیا۔ تو حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے میری طرف دیکھا اور مجھے جھڑکا کہ یہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہزندہ ہیں   اوریہی خلیفہ ہیں   اور تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟ ‘‘ 

بعد میں   حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال ظاہری کے بعد حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب خلیفہ بنے اور منبر پر بیٹھے تو مجھے بلایا اور وہی خواب سنانے کا حکم دیا۔ چنانچہ میں   نے خواب سنانا شروع کیا اور جب میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تین خصلتیں   بیان کرتے ہوئے یہ کہا:   ’’ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں   کسی کی پرواہ نہیں   کرتے۔ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ مجھے امید ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے انہی لوگوں   میں   شامل فرمادے گا۔ ‘‘   میں   نے دوسری صفت بیان کرتے ہوئے کہا:   ’’  انہیں   خلیفہ بنایا گیا ۔ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے یہ منصب عطا فرمایاہے اورآپ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کریں   کہ وہ مجھے اسے صحیح طور پر سنبھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ‘‘   پھر میں   نے تیسری صفت بیان کرتے ہوئے کہا:  ’’  انہیں   شہید کیا گیا۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نہایت ہی عاجزی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ میرے لیے شہادت کہاں  ؟ یہ تو تمہارے سامنے ہے کہ جنگوں   میں   تم لوگ جاتے ہو ،  میں   نہیں  ۔ ‘‘  پھر فرمایا:   ’’ ہاں   کیوں   نہیں  ؟ اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّچاہے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے ،  اور جب وہ چاہے گا ایسا ہوجائے گا۔ ‘‘  ([2])

عذاب الٰہی سے بچانے والی تین خصلتیں  :

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کوابو لولو نےجب زخمی کردیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے بلا کر ارشاد فرمایا:  ’’ میری ان تین باتوں   سے حفاظت کیجئے ، :  ’’ میری ان تین باتوں   سے حفاظت کیجئے ، اگر کو ئی شخص یہ تین باتیں   میری جانب منسو ب کرے تو آپ سمجھ لیں   کہ وہ جھوٹا ہے۔ ‘‘  پھریہ تین باتیں   ارشاد فرمائی: (۱)  ’’ میں   نے کوئی مملوک (غلام)چھوڑا ہے۔ ‘‘  (۲) ’’ میں   نے کَلَالَہ([3]) کے بارے میں   کسی چیز کا کو ئی فیصلہ کیاہے۔ ‘‘  (۳) ’’



[1]     فضائل الصحابۃ للامام احمد ،  ومن فضائل عمر بن الخطاب ،  ص۴۳۰ ،  الرقم:  ۶۸۰۔

[2]     الاستیعاب ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۴۲۔

[3]      ’’ کَلَالَہ ‘‘   اس مرد یا عورت کو کہتے ہیں   جو اپنے بعد نہ تو ماں   باپ چھوڑے اور نہ ہی اولاد۔ (پ۴ ،  النساء: ۱۲)



Total Pages: 349

Go To