Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فرمائے ہیں  ۔والدہ کی طرف سے آپ کا نسب شیخ احمد کبیر رفاعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے ملتا ہے۔([1])

مولانا حکیم غلام قادر بیگ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یکم محرم الحرام ۱۲۴۳ ہجری کو لکھنؤ ہندمیں   پیدا ہوئے ،  آپ کے والد ماجد نے لکھنؤ سے سکونت ترک کرے بریلی شریف میں   سکونت اختیار کرلی ،  آپ نسلا ایرانی یا ترکستانی مغل نہیں   ہیں   بلکہ شاہانِ مغلیہ نے آپ کے اجداد کو مرزا اور بیگ کے خطابات سے نوازا تھا ،  آپ کا سلسلۂ نسب خواجہ عبید اللہ احرار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ملتا ہے اور ان کے وسیلے سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملتا ہے۔ اپنے وقت کے مشہور عالم دین ،  عابد وزاہد اور متقی شخص تھے ،  انتہائی منکسر المزاج اور خوش اخلاق تھے ،  انہی اوصاف کی بنا پر اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد ماجد رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سے آپ کے بہت قریبی روابط تھے ،  اگرچہ آپ کا شمار اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اساتذہ میں   ہوتا ہے لیکن فتاویٰ رضویہ میں   آپ ہی کے پوچھے گئے سوالات کی تعداد کم وبیش انیس ۱۹ہے۔([2])

مولانا اِرشاد حسین رامپوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  تیرہویں   صدی ہجری کے بزرگ ترین عالم اور محدث کامل تھے ،  آپ کا سلسلۂ نسب نو ۹واسطوں   سے سیِّدُنا مجدد الف ثانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تک جا تا ہے اور ان کے وسیلے سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتک پہنچتا ہے۔آپ کی ولادت ۱۴صفر المظفر ۱۲۴۸ہجری کو ہوئی اور ۱۵ جمادی الآخر ۱۳۱۱ہجری کو تقریباً ۶۳ سال کی عمر میں   وصال فرمایا۔([3])

خواجہ غلام فرید فاروقی مٹھن کوٹ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۱۲۶۱ ہجری بمطابق ۱۸۴۳ عیسوی کو دریائے سندھ کے مشرقی علاقے چاچڑاں   میں   پیدا ہوئے ،  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  صاحب بصیرت عالم دین اور پاکیزہ سیرت صوفی تھے۔ آپ نے روھی (چولستان) کے صحراء میں   کم وبیش اٹھارہ سال عبادت وریاضت میں   گزارے ،  آپ کا وصال ۱۳۱۹ہجری میں   ہوا۔([4])

مولانا غلام مجدد سرہندی مجددی رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا مکمل نام غلام مجدد بن عبد الحلیم بن عبد الرحیم مجددی سرہندی ہے۔ ۱۳۰۱ہجری بمطابق ۱۸۸۳عیسوی میں   پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب ۱۰ واسطوں   سے امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہتک پہنچتا ہے اورپھران کے وسیلے سے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تک پہنچتا ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ زبردست عالم دین ،  شعلہ بیان خطیب اور سرورِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سچے محب اور عاشق رسول تھے۔ حق گوئی ،  بے باکی ،  مہمان نوازی اور خود داری آپ کے نمایاں   اوصاف تھے۔ غیر مسلم بھی آپ کا دلی طور پر بہت احترام کیا کرتے تھے۔ آپ کا وصال ۱۳۷۶ہجری بمطابق ۱۹۵۷عیسوی میں   ہوا۔([5])

یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ان تمام بزرگوں   کے مزارات پر اپنی رحمت کی بارش برسا اور ہمیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سلسلے کے تمام بزرگوں   کے فیض سے مالا مال فرما ،  ان کے صدقے ہماری مغفرت فرما۔    آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]     عقیدۂختم نبوت ،  ج۵ ،  ص۱۸۔

[2]     مولانا نقی علی خان ،  حیات اور علمی وادبی کارنامے ،  ص۸۸۔

[3]     تذکرہ محدث سورتی ،  ص۲۷۶۔

[4]     اردو دائرہ معارف اسلامیہ  ،  ج۱۵ ،  ص۳۳۵ملخصاً۔

[5]     تذکرہ اکابر اہلسنت ،  ص۳۳۳  ملخصا۔



Total Pages: 349

Go To