Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہان کے دادا ہیں   لہٰذاآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پردادا ہوئے۔([1])

فیضانِ فاروقِ اعظم پاک وہند میں 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاولاد کا سلسلہ تقریباً پوری دنیا میں   پھیلتا چلا گیا یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فیضان سے ہند بھی فیضیاب ہوا ۔ ہند میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اولاد میں   سے ایسے جلیل القدر ائمہ پیدا ہوئے جنہوں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فیضان کی دھوم مچادی۔ چند ائمہ کرام کا تعارف پیش خدمت ہے:

بابا فرید الدین گنج شکر فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شمار پاک وہند کے مشہور ومعروف اولیائے کرام میں   ہوتا ہے ،  سلسلۂ چشتیہ کے مشایخ میں   سے ہیں   ،  ۵۷۵ہجری میں   ملتان کے ایک قصبے کہوتی وال میں   پیدا ہوئے ،  حضرت سیِّدُنا خواجہ بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مرید اور سیِّدُنا خواجہ نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پیرومرشد ہیں  ۔ آپ کے اساتذہ میں   آپ کے دادا پیر حضرت سیِّدُنا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری المعروف خواجہ غریب نواز ،  شیخ شہاب الدین سہروردی ،  خواجہ فریدالدین عطار ،  حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمکے اسماء سرفہرست ہیں  ۔اسی یا نوے سال کی عمر میں   وصال ہوا اور پاکستان کے شہر پاک پتن شریف میں   آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔([2])

مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

امام ربانی حضرت شيخ احمد بن عبدالاحد فاروقى نقشبندى سرهندى المعروف مجد الف ثانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا اصل نام ’’ احمد ‘‘   ،  کنیت  ’’ ابو البرکات ‘‘  اور لقب ’’ بدرالدین ‘‘  ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی ذات رشد وہدایت کاوہ سرچشمہ ہے کہ جس سے اپنے اور غیر دونوں   سیراب ہورہے ہیں  ۔جہالت وگمراہی کے اندھیروں   میں   آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے فرامین و مکتوبات روشنی کی کرن ہیں  ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا وصال ۲۹صفر۱۰۳۴ہجری میں   ہوا ،  آپ کا مزار شریف مشرقی پنجاب ہند میں   ہے۔([3])

سراج الاولیاء حضرت آغاعبد الرحمن خان سرہندی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت مجدد الف ثانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی اولاد سے ہیں   ،  والد گرامی کا نام خواجہ عبد القیوم سرہندی تھا ،  آپ کا سلسلہ نسب نو واسطوں   سے حضرت امام ربانی اور اکتالیس واسطوں   سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے جا ملتاہے۔۱۲۴۴ھ کو قندھار میں   پیداہوئے اور ۱۳۱۵ھ میں   وصال فرمایا۔ آپ کا مزار شریف (ضلع ٹنڈو محمد خان) باب الاسلام سندھ میں   ہے ،  تاج الاولیاء حضرت مولانا آغا محمد حسن جان سرہندی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  آپ کے فرزند اور حضرت مولانا آغا محمد ابراہیم جان سرہندی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  پوتے ہیں  ۔([4])

برصغیر کے دومعروف فاروقی ،  علمی خاندان:

امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اولادمیں   سےدوسگے بھائی ’’ بہاءالدین اور شمس الدین  ‘‘  ایران سے  ’’ ہند ‘‘  تشریف لائے۔ حضرت شمس الدین فاروقی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی اولادمیں   شاہ عبد الرحیم محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  پیدا ہوئے ۔حضرت بہاء الدین کی اولا د میں   سے  ’’ شیخ ارشد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ‘‘  خیر آباد تشریف لائےاور ان ہی کی اولا د میں  علامہ فضل امام خیر آبادی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پیدا ہوئے۔خانوادئہ خیرآباد (یعنی علامہ فضل امام خیر آبادی کاخاندان)اور خانوادئہ دہلی(یعنی حضرت عبدالرحیم محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کاخاندان) ان ہی دو بھائیوں   کی اولاد میں   سے ہیں  ۔خانوادئہ خیر آباد معقولات میں   اپنا ثانی نہیں   رکھتا تو خانوادئہ دہلی منقولات میں   اپنی مثال آپ ہےاس وجہ سے سفینہ علم وفضل کو چلانے والےانہی دوقطب نما سے رہنمائی لیتے نظر آتے ہیں  ۔([5])

امام المنطق علامہ فضل اما م خیر آبادی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا سلسلۂ نسب ۳۳واسطوں   سےامیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن الخطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جاملتا ہے۔آ پ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے نامور شاگردوں   میں   حضرت صدر الدین آزردہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اور آپ کے فرزند علامہ فضل حق خیر آبادی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   ‘‘  ہیں  ۔([6])

امام المنطق علامہ فضل حق خیر آبادی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :

  علامہ محمد فضل حق خیر آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی حضرت علامہ مولانا فضل امام خیر آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِیکے فرزندارجمند تھے۔چار ماہ کے قلیل عرصے میں   قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد صرف ۱۳سال کی چھوٹی سی عمر میں   فارغ التحصیل ہو کر کئی علوم میں   تبحر حاصل کرلیا ۔منطق وفلسفہ ودیگر علوم عقلیہ میں   کمال ادراک رکھنے کے ساتھ ساتھ نہایت فصیح وبلیغ اورنظم ونثر دونوں   میں   کلام کرنے کے ماہر تھے۔([7])

 



[1]     تھذیب الاسماء  ،  جعفر بن محمد ، ج۱ ،  ص۱۵۵۔

[2]     اُردو دائرہ معارف اسلامیہ  ،  ج۱۵ ،  ص۳۴۰ ملخصا۔

[3]     اردو دائر ہ معارف اسلامیہ ، ج۲ ،  ص۱۲۶۔

[4]     انوار علمائے اہلسنت سندھ ،  ص۵۲۱۔

[5]     المسوی شرح موطا ، ج۱ ،  ص۵  ، اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج۱۸ ،  ص۳۷۲۔

[6]     اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج۱۸ ،  ص۳۷۲۔

[7]     نصاب المنطق ، ص۱۱۔



Total Pages: 349

Go To