Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وَسَلَّم)کی جناب میں   صریح گستاخیاں   کرنے والوں   کی نسبت کس قدر سخت حکم چاہیے۔ ‘‘ 

اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :

وہ عمر جس کے اَعداء پہ شیدا سقر

اُس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں   سلام

شرح :  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دشمنوں   کا جہنم عاشق ہے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبارگاہِ خداوندی کے مقرب اور رب عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ دوستی رکھنے والے ہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر لاکھوں   سلام ہوں  ۔حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَنْ اَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ وَمَنْ اَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ اَحَبَّنِیْیعنی جس نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ ‘‘  ([1])

اور حضرت سیِّدُنا سلیمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ مَنْ اَحَبَّنِیْ اَحَبَّہُ اللہُ وَ مَنْ اَحَبَّہُ اللہُ اَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ وَ مَنْ اَبْغَضَنِیْ اَبْغَضَهُ اللہُ وَ مَنْ اَبْغَضَہُ اللہُ اَدْخَلَہُ النَّارَ یعنی جس نے مجھ سے محبت کی   اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے محبت فرمائے گا اور جس سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے محبت کی   اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جنت میں   داخل فرمائے گا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّبغض رکھے گا اور جس سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بغض رکھا   اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جہنم میں   داخل فرمائے گا۔ ‘‘  ([2])

معلوم ہوا کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی محبت خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے بغض رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بغض ہےاور جس نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے محبت کی یقیناً وہ جنتی ہے اور جس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے بغض رکھا یقیناً وہ جہنمی ہے۔ اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے شعر میں   اِن ہی دونوں   اَحادیث مبارکہ کی طرف اِشارہ فرمایا ہے۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّتمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  ،  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ،  اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کی شان اقدس میں   گستاخی سے محفوظ ومامون فرمائے ،  اور اِن نفوس قدسیہ کی محبت تا قیامت ہمارے دلوں   میں   بسائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ کے ہم زلف:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ہم زلف ہیں   کہ دوعالم کے تاجدار  ، ہم بیکسوں   کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی زوجہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ بنت ابو امیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ قریبہ بنت ابو امیہ دونوں   سگی بہنیں   تھیں  ۔یوں   سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور حضر ت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہم زلف ہوئے۔

(1)…سیدتنا اُمّ سلمہ بنت ابو امیہ۔زوجۂ رسول اللہ

(2)…سیدتنا قریبہ بنت ابو اُمیہ۔زوجہ فاروقِ اعظم ۔([3])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ کے بھتیجے:

اُمّ المومنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ بنت ابو اُمیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ  ’’ حنتمہ بنت ہاشم   ‘‘  چچا زاد بہنیں   تھیں  ۔اس طر ح حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُمّ المومنین حضرت سیِّدُنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے دور کے بھتیجے ہوئے ۔چونکہ حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی زوجہ ہیں   لہٰذاحضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہرسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بھی بھتیجے ہوئے۔

(1)…سیدتنا اُمّ سلمہ بنت ابو امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔زوجہ رسول اللہ

(2)… حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔والدئہ فاروقِ اعظم۔([4])

فاروقِ اعظم کی اہل بیت سے رشتہ داری

فاروقِ اعظم مولاعلی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے داماد:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنی لاڈلی شہزادی  ’’ حضرت سیدتنا اُمّ کلثو م ‘‘     رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نکاح امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا اس طرح سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے داماد ہوئے۔([5])

 



[1]     مجمع الزوائد ،  کتاب المناقب ،  باب منزلۃ عمر عند اللہ۔۔۔الخ ،  ج۹ ،  ص۶۹ ،  حدیث: ۱۴۴۳۹۔

[2]     مستدرک حاکم  ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  حدیث تسمیۃ۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۱۵۵ ،  حدیث: ۴۸۲۹ملتقطا۔

[3]     الکامل فی التاریخ ، ثم دخلت سنۃ ثلاث وعشرین ، ذکر اسماء ولدہ ونسائہ ،  ج۲ ،  ص۴۵۰۔

[4]     مدارج النبوۃ ،  ج۲ ، ص۴۷۵ ،  الاستیعاب ،  کتاب کنی النساء ،  ج۴ ،  ص۴۹۳۔

[5]     اسد الغابہ ،  ام کلثوم بنت علی۔۔۔الخ ،  ج۷ ،  ص۴۲۴۔



Total Pages: 349

Go To