Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی انسان کی حیات میں   اس کے رشتہ داروں   کی اہمیت سے کون واقف نہیں  ؟ بیسیوں   معاملات ایسے ہوتے ہیں   جن میں   اپنے رشتہ داروں   سے رجوع کرنا پڑتا ہے ،  خصوصاً جب کوئی مشکل وقت پیش آئے تو اَوّلاً انسان اپنے قریبی رشتہ داروں  ہی کی طرف رجوع کرتااور استعانت (مدد)چاہتاہے۔ رشتہ داروں   سے حسن اخلاق کی متعدد احادیث مبارکہ بھی وارد ہوئی ہیں  ۔ بعض اوقات یہی رشتہ دار کسی شخص کی عزت وذلت کا باعث بھی بنتے ہیں  ۔ جن رشتہ داروں   کا کردار معاشرے میں   اچھا نہیں   ہوتا عموماً لوگ اپنی طرف ان کی نسبت کرنا پسند نہیں   کرتے اور جن رشتہ داروں   کاکردار معاشرے میں   بہت اچھا ہوتاہے ، انہیں   عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو لوگ بھی اپنی طرف ان کی نسبت کرنے میں   فخر محسوس کرتے ہیں  ۔یہی وجہ ہے کہ کفارومشرکین ومنافقین اورایسے تمام فاسق لوگ جو دینی ودنیوی معاشرےکی بدنامی کا باعث بنتے ہیں   نہ تو انہیں   اچھے الفاظ میں   یاد کیا جاتاہے اور نہ ہی ان کی تعظیم وتوقیر کا کوئی اہتمام کیا جاتاہے ،  جبکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  ،  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   ،  اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  ودیگر ایسے لوگ جو دینی ودنیوی معاشرے کی نیک نامی کا باعث بنے ،  جنہوں   نے معاشرے کو عزت بخشی بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی آج ان کی سیرتِ طیبہ کو سنہری حروف سے نہ صرف لکھا جاتا ہے بلکہ نہایت ہی ذوق وشوق سے پڑھا بھی جاتاہے ،  نیز ان کے مزارات مرجع خلائق ہیں  ۔

دنیا کی تمام رشتہ داریوں   میں   سب سے عظیم رشتہ داری دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  وصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   کی رشتہ داری ہے۔جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رشتہ داری نصیب ہوجائے اس کی سعادت مندی کے کیا کہنے! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعد وہ سعادت مند ہیں   جنہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رشتہ داری نصیب ہوئی۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ،  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   ،  تابعین ودیگر مشاہیر اعلام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  سے رشتہ داری ملاحظہ کیجئے:

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی کا رسول اللہ سے عقد مبارک:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا نکاح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے شعبان المعظم تین ہجری (ایک قول کے مطابق دو ہجری)میں   فرمایا یوں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اُمّ المؤمنین یعنی تمام مسلمانوں   کی ماں   بن گئیں  ۔ حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری گیارہ سن ہجری میں   ہوا۔ یوں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کم وبیش سات سال آٹھ ماہ رفاقت نصیب ہوئی۔([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیٹی چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ ہیں   لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے سسرالی رشتہ دار ہوئے اور سسرالی رشتے کا دوزخ میں   داخل نہ ہونا ،  قیامت میں   اس کا باقی رہنا نیز اس سسرالی رشتے کے مخالفین کی مخالفت(Boycott)کا خود سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم ارشاد فرمایا۔ چنانچہ ،

سسرالی رشتہ دار کبھی دوزخ میں   داخل نہ ہوگا:

تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ سَاَلْتُ رَبِّیْ اَنْ لَّا یَدْخُلَ النَّارَ مَنْ صَاھَرْتُہُ اَوْ صَاھَرَنِیْ یعنی میں   نے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّسے سوال کیا کہ وہ اس شخص کو دوزخ میں   نہ ڈالے جس سے میں   نے سسرالی رشتہ جوڑا یا جس نے مجھ سے یہ رشتہ قائم کیا۔ ‘‘  ([2])

سسرالی رشتہ قیامت میں   بھی باقی رہے گا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ میں   نے شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو فرماتے سنا:   ’’ ہر نسبی اور سسرالی رشتہ روزِ قیامت ختم ہو جائے گا ،  مگر میرے یہ دونوں   رشتے باقی رہیں   گے۔ ‘‘  ([3])

سسرالی رشتے کے مخالفین کی مخالفت کا حکم:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ محبوب ربِّ داور ،  شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ اللہَ اِخْتَارَنِیْ وَاخْتَارَلِیْ اَصْحَابِی وَاَصْھَارِیْ وَسَیَاْتِیْ قَوْمٌ یَسُبُّوْنَھُمْ وَ یَنْتَقِصُوْنَھُمْ فَلَاتُجَالِسُوْھُمْ وَلَاتُشَارِبُوْھُمْ وَلَاتُوَاکِلُوْھُمْ وَلَاتُنَاکِحُوْھُمْ یعنی بےشک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے پسندفرمایا اور میرے لئے صحابہ اور سسرالی رشتہ دار پسند کئے اور عنقریب ایک قوم آئے گی جوانہیں   براکہے گی اور ان کی شان گھٹائے گی ،  تم اُن کے پاس مت بیٹھنا ،  نہ ان کے ساتھ پانی پینا ،  نہ کھاناکھانا ،  نہ شادی بیاہ کرنا۔ ‘‘  ([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث مبارکہ میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   خصوصاً اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سسرالی رشتہ دار شیخین کریمین یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی شان میں   گستاخی کرنے ،  ان کی شان کو گھٹانے والوں   سے قطع تعلق (Boycott)کا صراحۃً حکم دیا گیا ہے۔جب حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رشتہ داروں   کے گستاخ کا یہ حکم ہے تو خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی گستاخی کرنے والوں   کا کیا حکم ہوگا۔اعلی حضرت ،  عظیم البرکت ،  مجدددین وملت ،  پروانۂ شمع رسالت ،  مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ ،  ج۲۴ ،  ص ۳۱۴پراسی حدیث مبارکہ کو نقل کرنے کے بعد اِرشاد فرماتے ہیں  :   ’’ جب اہل بیت اور صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے برا کہنے والوں   کے لیے یہ حکم ہیں   تو اہل کفر اور عَیَاذاً بِاللہِ خدا ورسول (عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ



[1]     المنتظم  ،  ج۳ ،  ص۱۶۰ ،  تھذیب التھذیب ،  کتاب النساء ،  حرف الحاء ،  ج۱۰ ،  ص۴۶۴ ،  الرقم: ۸۸۶۱۔

[2]     سیرۃ حلبیہ ،   باب ذکر مغازیہ ،  غزوۃ تبوک ،  ج۳ ،  ص۱۸۴ ،  الاستیعاب ، عثمان بن عفان ،  ج۳ ،  ص۱۵۶۔

[3]     مستدرک حاکم ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  نکاح عمر بام کلثوم۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۱۱۹ ،  حدیث: ۴۷۳۸۔

[4]     ضعفاءکبیر   ، احمدبن عمران الاخنسی ،  ج۱ ،  ص۱۴۴ ،  الرقم: ۱۵۴۔



Total Pages: 349

Go To