Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

پاک وصاف ہو کر جب ان ہی قرآنی صحائف کی تلاوت کی تو دل کی دنیا زیروزبر ہوگئی اور بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوکر اسلام قبول فرمالیا۔([1])

دوسری بہن ،  سیدتنا صفیہ بنت خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی دوسری بہن حضرت سیدتنا صفیہ بنت خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں  ۔آپ حضرت سیِّدُنا قدامہ بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نکاح میں   تھیں  ۔ حضرت سیِّدُنا قدامہ بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہی ہیں   جن کی بہن حضرت سیدتنا زینب بنت مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجیت میں   تھیں  ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سیِّدُنا قدامہ بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بحرین کا عامل مقرر فرمایا تھا۔([2])

فاروقِ اعظم کے غلاموں   کا تعارف

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ دورِ جاہلیت میں   لوگ اپنے غلاموں   اور خادموں   کے ساتھ بہت ناروا سلوک رکھتے تھے ،  انہیں   طرح طرح کی تکلیفیں   دینا ان کا محبوب ترین مشغلہ تھا ،  خصوصاً جبکہ وہ غلام یا خادم مسلمان ہوتا تو اس کا آقا اس پر ظلم وستم کی انتہا کردیتا۔صحابی رسول حضرت سیِّدُنا بلال حبشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مشہور واقعہ اس رویے کی عکاسی کرتاہے۔لیکن جیسے ہی دنیا میں   اسلام کی روشنی پھیلی ،  عوام وخواص ،  آقا و غلام کے امتیاز کے بغیر تمام لوگوں   کے حقوق یکساں   ہو گئے۔ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بعد آپ کے جانثار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   نے اپنے غلاموں   کے ساتھ حسنِ اخلاق کی اعلی مثالیں   قائم کیں  ۔خصوصا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتو ایسے حاکم تھے جن کے اپنے غلاموں   کے ساتھ بہترین رویے اور حسن اخلاق کی پوری تاریخ میں   مثال نہیں   ملتی ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے تقوی وپرہیزگاری دیکھ کر آپ کے غلام بھی اپنی غلامی پر رشک کرتے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے کئی خدام وغلاموں   کا کتب میں   تذکرہ ملتاہے البتہ بعض خدام ایسے ہیں   جو سفر وحضر میں   ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے ،  یہی وجہ ہے کہ ان کے کچھ نہ کچھ حالات سیرت وتاریخ کی کتابوں   میں   مل جاتے ہیں   لیکن بعض غلام وہ ہیں   جن کے نام بطور راوی کے احادیث وروایات میں   ملتے ہیں   تفصیلی تذکرہ کتب میں   مذکور نہیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے تقریباً ۳۲غلام تھے ،  مختصر تعارف پیش خدمت ہے:

(1)…حضرت سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی کنیت ابو خالد ہے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو  ’’ ابو زید  ‘‘  بھی کہاجاتا ہے۔عین التمر کی جنگ میں   حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھوں  قیدی بن کر آئے اور گیارہ ہجری میں  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی غلامی میں   آگئے۔سفر وحضر میں   آپ کے ساتھ رہے ،  آپ کی پسند ونا پسند کا انہیں   بہت تجربہ تھا۔ مختلف امور زندگی میں   سیرتِ فاروقی کے مظہر تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  تابعی ہیں   اور کثیر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   سے احادیث بھی روایت کی ہیں   جن میں   چاروں   خلفاء راشدین کے علاوہ سیِّدُنا ابو عبید ہ بن جراح سیِّدُنامعاذ بن جبل ،  سیِّدُناابو ہریرہ ،  سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم  قابل ذکر ہیں  ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی مرویات صحاح ستہ میں   بھی موجود ہیں  ۔آپ کا وصال ۱۱۴سال کی عمر میں   سن ۸۰ ہجری میں   ہوا۔([3])

(2)…حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   :

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کےبیٹے ہیں   ۔اوراپنے والد سے کئی احادیث روایت کی ہیں  ۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکےغسل کے لیے قمقمے (صراحی نما برتن)میں   پانی گرم کیا کرتے تھے۔([4])

(3) …حضرت سیِّدُنامھجع بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا تعلق قبیلہ  ’’ عک ‘‘  سے تھا اسی لیے  ’’ عکی ‘‘   کہلاتے تھے۔امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے یہ وہ غلام ہیں   جنہوں   نے جنگ بدر میں   سب سے پہلے جامِ شہادت نو ش کیا ۔حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ مھجع میر ی امت کے شہداء کے سردار ہیں۔ ‘‘  ([5])

(4) …حضرت سیِّدُنا یسار بن نمیرمدنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاں   آٹاصاف کرنے پر معمور  تھے۔امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ میں   حضر ت یسار بن نمیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  گودام کے محافظ و منتظم بھی تھے اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو  ’’ خازنِ عمر  ‘‘  بھی کہاجاتاہے۔([6])

(5) …حضرت سیِّدُنا عمرو بن رافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:

 



[1]     الاصابۃ  ، فاطمۃ بنت الخطاب ،  ج۸ ،  ص۲۷۱ ، الرقم: ۱۱۵۹۴  ،  طبقات کبری ،  فاطمۃ بنت الخطاب ۔۔۔ الخ ،  ج۸ ،  ص۲۰۹  ،  فتح الباری ،  کتاب الاکراہ ،  باب من اختار۔۔۔الخ ،  ج۱۳ ،  ص۲۷۱ ،  تحت الحدیث:  ۶۹۴۲۔

[2]     الاستیعاب ، باب قدامۃ ، ج۳ ،  ص۳۴۰  ، الاصابۃ  ، قدامۃ بن مظعون ،  ج۵ ،  ص۳۲۳ ،  الرقم:  ۷۱۰۳۔

[3]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۸ ،  ص۳۳۶ ،  تھذیب الاسماء ،  حرف الالف ،  ج۱ ،  ص۱۶۱۔

الوافی بالوفیات ،  ج۳ ،  ص۱۸۹ ،  الکامل فی التاریخ ،  ثم دخلت سنۃ خمسین ،  ج۴ ،  ص۱۹۴۔

[4]     دار قطنی ،  کتاب الطھارۃ ،  باب الماء المسخن ،  ج۱ ،  ص۵۲ ،  حدیث:  ۸۲۔

[5]     تھذیب الاسماء  ،  مھجع ،  ج۲ ،  ص۴۱۸ ،  الاصابۃ ،  مھجع العکی ،  ج۶ ،  ص۱۸۲ ،  الرقم: ۸۲۷۸۔

[6]     الاصابۃ ،  یسار بن نمیر ،  ج۶ ،  ص۵۵۵ ،  الرقم: ۹۴۴۳۔

مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب الفضائل ،  ماذکر فی۔۔۔الخ ،   ج۸ ،  ص۱۴۸ ،  حدیث: ۱۲۔



Total Pages: 349

Go To