Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے آپ کی بیٹی حفصہ کے بارے میں   بات کی تھی اور مجھے یہ گوارا نہیں   کہ میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا راز کسی دوسرے کے سامنے افشاں   کروں   ،  اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نکاح نہ فرماتے تومیں   ان سے ضرور نکاح کرلیتا۔ ‘‘ 

سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   بہت ہی بلند ہمت اور سخی عورت تھیں   ۔ فہم وفراست اور حق گوئی و حاضر جوابی میں   اپنے والد ہی کا مزاج پایا تھا اکثر روزہ دار رہا کرتیں   اور تلاوت قرآن مجید اور دیگر قسم کی عبادتوں   میں   مصروف رہا کرتی تھیں   عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث کے علوم میں   بھی بہت معلومات رکھتی تھیں   ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے کئی احادیث مبارکہ روایت کی ہیں   اور آپ سے آپ کے بھائی حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور دیگر کئی اصحاب نے احادیث روایت کی ہیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا وصال حضرت سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِخلافت کے آخری ایام میں   شعبان ۴۵ھ یا باختلاف روایت جمادی الاولی سن اکتالیس ہجری مدینہ منورہ میں   ہوا۔ حاکم مدینہ مروان بن حکم نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے بھتیجوں   نے قبر میں   اتارا اور جنت البقیع میں   دفن ہوئیں   بوقت وفات ان کی عمر ساٹھ ۶۰یا تریسٹھ ۶۳برس تھی۔([1])

پانچویں  بیٹی سیدتنا جمیلہبنت عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا :

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   کا نام  ’’ عاصیہ ‘‘   تھا ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے تبدیل فرما کر  ’’ جمیلہ ‘‘   رکھ دیا۔ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ایک بیٹی کا نام  ’’ عاصیہ  ‘‘   تھا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تبدیل فرما کر  ’’ جمیلہ ‘‘   رکھ دیا۔([2])

فاروقِ اعظم کے پوتے ،  پوتیاں   وغیرہ

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹوں   میں   سے صرف تین بیٹے ایسے ہیں   جن سے آپ کی اولاد کا سلسلہ آگے چلا اُن میں   سب سے زیادہ جن کی اولاد ہوئی وہ آپ کے لاڈلے اور تربیت یافتہ بیٹے صحابی رسول حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔کتب میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی جتنی اولاد کا صراحۃ تذکرہ ملتا ہے اس کی تفصیل کچھ یوں   ہے:

فاروقِ اعظم کے ۲۲ بائیس پوتوں   کے نام:

 (1) …بلال بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب                     (2) …مجبربن عبد اللہ بن عمر بن خطاب

(3) …عاصم بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب                      (4) …عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب

 (5) …زید بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب                      (6) …سالم بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب

 (7) عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب   (8) …حمزہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب

(9) …واقد بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب                       (10) …ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب

(11)عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب   (12) …عثمان بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب

 (13) …عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب          (14) عمر بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب

(15) …ابو عبید بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب                 (16) …ابوبکر بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب

(17) …عمر بن عاصم بن عمر بن خطاب             (18)عبید اللہ بن عاصم بن عمر بن خطاب

(19) …حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب                     (20) …ابوبکر بن عاصم بن عمر بن خطاب

(21) …سلیمان بن عاصم بن عمر بن خطاب                   (22) …حر بن عبید اللہبن عمر بن خطاب۔

فاروقِ اعظم  کی ۵ پانچ پوتیوں   کے نام:

 (1) …اُمّ سلمہ بنت  عبد اللہ بن عمر بن خطاب              (2)  …عائشہ بنت  عبد اللہ بن عمر بن خطاب

 (3)  …سودہ بنت  عبد اللہ بن عمر بن خطاب                (4)  …حفصہ بنت  عبد اللہ بن عمر بن خطاب

 (5) …اُمّ عاصم بنت عاصم بن عمر بن خطاب

فاروقِ اعظم کے۸ آٹھ پرپوتوں   کے نام:

 (1) …محمد بن زید بن عبد

Total Pages: 349

Go To