Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبیمار ہوگئے اور تقریباً ایک ماہ بعد ہی وصال فرما گئے۔([1])

(10)دسویں   بیٹے ،  سیِّدُنا عبد الرحمن اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مکمل نام عبد الرحمن اصغر بن عمر بن خطاب قرشی عدوی ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو  ’’ اَبُو الْمُجَبَّر ‘‘   بھی کہا جاتاہے۔ ’’ مُجَبَّر ‘‘  اس شخص کو کہتے ہیں   جس شخص کی ٹوٹی ہوئی ہڈی درست ہوجائے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے بچپن میں   نیچے گر گئے جس کے سبب اُن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی  ،  لوگ اُنہیں   اٹھا کر اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی خدمت میں   لے آئے اور عرض کیا:   ’’ اپنے مکسر بیٹے (یعنی بھتیجے)کی طرف دیکھیے یعنی جس کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ ‘‘  تو آپ نے فرمایا :  ’’ مُکَسَّرنہیں   مُجَبَّر یعنی وہ نہیں   جس کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے بلکہ وہ جس کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑ گئی ہے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی بیٹیوں   کا تعارف

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیٹیوں   کی کل تعداد پانچ ہے۔ جن کے اسماء گرامی یہ ہیں  : (۱)حضرت سیدتنا رقیہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا (۲)حضرت سیدتنا فاطمہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا (۳) حضرت سیدتنا زینب بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا (۴) حضرت سیدتنا حفصہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ۔ (۵) حضرت سیدتنا جمیلہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ۔

پہلی بیٹی سیدتنا رقیہ بنت عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا :

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی والدہ ماجدہ کا نام سیدتنا اُمّ کلثوم بنت علی بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نکاح حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن نعیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوا اور آپ ان کی حیات میں   ہی انتقال فرماگئیں   اور جنت البقیع میں   مدفون ہوئیں   ، ان سےصرف ایک بیٹی پیدا ہوئی لیکن وہ بھی فوت ہوگئی بعد ازاں   کوئی اولاد نہیں   ہوئی۔([3])

دوسری بیٹی سیدتنا فاطمہ بنت عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا :

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی والدہ کا نام اُمّ حکیم بنت حارث بن ہشام بن مغیرہ ہے۔ آپ کا نکاح آپ کے چچا کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن زید بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوا اور ان سے ایک بیٹے عبد اللہ پیدا ہوئے۔ بعض احادیث مبارکہ میں   بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   کا تذکرہ ملتا ہے۔([4])

تیسری بیٹی سیدتنا زینب بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا :

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اولاد میں   سے سب سے چھوٹی تھیں  ۔ آپ کی والدہ کا نام حضرت سیدتنا فکیہہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے جو کہ اُمّ وَلد تھیں  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا نکاح حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن عبد اللہ بن سراقہ عدوی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنی بہن اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے احادیث بھی روایت کی ہیں  ۔([5])

چوتھی بیٹی سیدتنا حفصہ بنت عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا :

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی لاڈلی اور بلند اقبال شہزادی ہیں   ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی والدہ کا نام حضرت سیِّدُنا زینب بنت مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مقدس زوجہ ہونے کی وجہ سے اُمّ المؤمنین یعنی تمام مسلمانوں   کی ماں   بھی ہیں  ۔رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے شعبان المعظم تین ہجری میں   نکاح فرمایا۔ اس سے پہلے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سیِّدُنا خنیس بن حذافہ سہمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نکاح میں   تھیں   جنہوں   نے جنگ بدر میں   شرکت کی اور بعد ازاں   جنگ بدر میں   لگنے والے زخموں   کے سبب مدینہ منورہ میں   شہادت پائی۔ان کی شہادت کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے نکاح کی بات کی لیکن انہوں   نے سکوت اختیار فرمایا۔ پھر انہوں   نے حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے نکاح کی بات کی تو انہوں   نے عرض کیاکہ فی الحال میرا نکاح کا ارادہ نہیں   ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شکایت بارگاہِ رسالت میں   لے کر گئے تو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ یَتَزَوَّجَ حَفْصَۃَ مَنْ ھُوَ خَيْرٌ مِنْ عُثْمَانَ ویَتَزَوَّجَ عُثْمَانَ مَنْ  ھُوَ خَيْرٌ مِنْ حَفْصَۃَ یعنی اے عمر! تمہاری بیٹی حفصہ کا نکاح اس سے ہوگا جو عثمان سے افضل ہے اور عثمان کا نکاح اس سے ہوگا جو حفصہ سے افضل ہے۔ ‘‘  پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا جسے آپ نے قبول کرکے اپنی بیٹی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نکاح میں   دے دی اور چار سو درہم حق مہر مقرر ہوا۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ملاقات حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوئی تو انہوں   نے وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ لَا تَجِدْ عَلَیَّ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ حَفْصَۃَ فَلَمْ اَكُنْ لَاَفْشِیْ سِرَّ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ وَلَوْ تَرَكَھَا لَتَزَوَّجْتُھَا یعنی اے عمر آپ مجھ سے خفا نہ ہوں  کیونکہ میٹھے میٹھے آقا ،  مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ



[1]     اسد الغابۃ ،  عبد الرحمن الاکبر بن عمر ،  ج۳ ،  ص۴۹۳۔

[2]     اسد الغابۃ ،  عبد الرحمن الاکبر بن عمر ،  ج۳ ،  ص۴۹۳ ،   الاستیعاب  ، عبد الرحمن الاکبر ،  ج۲ ،  ص۳۸۵۔

[3]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۱۹ ،  ص۴۸۲ ،  کتاب الثقات ،  ذکر وفاۃ رسول اللہ ،  ج۱ ،  س۱۶۱۔

[4]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۷۰ ،  ص۲۲۵۔

[5]     الاصابۃ ،  کتاب النساء ،  القسم الثانی ،  ج۸ ،  ص۱۶۷ ،  الرقم: ۱۱۲۶۸ ۔

                                                ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۴۲۶ ،  طبقات کبری ،  بقیۃ الطبقۃ الثانیۃ۔۔۔الخ ،  ج۵ ،

Total Pages: 349

Go To