Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اے اسلم(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ )! اس گھر کی طرف جاؤ اور تمام معلومات لے کرآؤ کہ وہ گھر کس کا ہے اور وہاں   کون کون رہتاہے؟ ‘‘  حضرت سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں  :   ’’ میں   اس گھر کی طر ف گیا اور ان کے بارے میں   معلومات حاصل کیں   تو پتہ چلا کہ اس گھر میں   ایک بیوہ عورت اور اس کی غیر شادی شدہ بیٹی رہتی ہے۔میں   امیر المؤمنین کی خدمت میں   حاضر ہوا اور ساری تفصیل آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے گوش گزار کردی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا:   ’’ میرے تمام بیٹوں   کو میرے پاس بلا کر لاؤ ۔ ‘‘   میں   گیا اور سب کو بلا لایا توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے فرمایا :  ’’ کیا تم میں   سے کوئی شادی کرنا چاہتا ہے؟ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:  ’’ ہم تو شادی شدہ ہیں  ۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عاصم بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:  ’’ ابا جان! میں   غیر شادی شدہ ہوں  ۔  ‘‘  چنا نچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس لڑکی کے گھر شادی کا پیغام بھجوایا جو بخوشی قبول کرلیا گیا۔اس طرح حضرت سیِّدُنا عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شادی اس نیک پرہیزگار لڑکی سے ہوگئی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے ان کے ہاں   ایک بیٹی اُمّ عاصم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا پیدا ہوئیں   جس سے  ’’ عمر ثانی ‘‘  حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ولادت ہوئی۔([1])

سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز سیرتِ فاروقی کے مظہر:

حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پرپوتے اور مسلمانوں   کے خلیفہ بھی تھے۔بچپن میں   گھوڑے کی کاری ضرب لگانے کے سبب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی پیشانی پر زخم کا نشان تھا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی حیات طیبہ ہی میں   آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے اسی زخم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ کی پیدائش کا ذکر ان الفاظ میں   فرما دیاتھاکہ  ’’ مِنْ وُلْدِیْ رَجُلٌ بِوَجْهِہٖ شَجَّۃٌ یَمْلَاُالْاَرْضَ عَدْلًا یعنی میری اولاد میں   سے ایک ایسا شخص ہوگا جس کے چہرے پر زخم کا نشان ہوگا اور وہ روئے زمین کو عدل وانصاف سے معمور کردے گا۔ ‘‘  ایک روایت میں   یوں   ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ لَیْتَ شَعْرِیْ! مَنْ ذَوِ الشِّینَ مِنْ وُلْدِہٖ الَّذِیْ یَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً یعنی کاش! میں   اپنی اولاد میں   سے چہرے پر زخم رکھنے والے بیٹے کا زمانہ پاتا جو اپنے زمانے میں   زمین کو ایسے ہی عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے زمین ظلم وستم سے لبریز ہوگی۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  :   ’’ اِنَّا كُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ لَا یَنْقَضِیْ حَتّٰی یَلِیَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃَ  رَجُلٌ مِنْ وُلْدِ عُمَرَ یَسِیْرُ فِیْھَا بِسِیْرَۃِ عُمَرَ یعنی ہم آپس میں   گفتگو کیا کرتے تھے کہ دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک آل عمر میں   ایک ایسا شخص تشریف نہ لے آئے جو اپنے جد امجد سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سیرت وکردار کے مطابق اعمال سرانجام دے ۔ ‘‘  ([2])

(6)چھٹے بیٹے ،  سیِّدُنا زید اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مکمل نام زيد بن عمر بن خطاب قرشي عدوي ہے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ ماجدہ کا نام حضرت سیدتنا اُمّ کلثوم بنت علی بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجلیل القدر تابعی ہیں  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حیات طیبہ کے آخری ایام میں   پیدا ہوئے۔ حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبالکل جوان تھے اس وقت مدینہ منورہ کے والی حضرت سیِّدُنا سعید بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور آپ کی والدہ دونوں  کا ایک ہی دن انتقال ہوا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اولاد کے خادم حضرت سیِّدُنا خالد بن اسلم سے قتل خطا کے سبب آپ شہید ہوئے آپ کی والدہ آپ کی شہادت کا صدمہ نہ سہہ سکیں   اور وہ بھی انتقال فرماگئیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی نماز جنازہ آپ کے علاتی (باپ شریک ) بھائی جلیل القدر صحابی حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ادا کی اور آپ کے جنازے میں   آپ کے ماموں   سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی شریک تھے۔([3])

(7)ساتویں   بیٹے ،  سیِّدُنا عیاض بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:                  

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مکمل نام عیاض بن عمر بن خطاب قرشی عدوی ہے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ ماجدہ کا نام حضرت سیدتنا عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاہے جو کہ حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بہن ہیں   ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے تفصیلی حالات کتب میں   مذکور نہیں   ہیں  ۔

(8)…آٹھویں   بیٹے ،  سیِّدُنا عبد اللہ اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مکمل نام عبد اللہ اصغر بن عمر بن خطاب قرشی عدوی ہے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوالدہ ماجدہ کا نام حضرت سیدتنا سعیدہ بنت رافع بن عبید اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے جو قبیلہ بنی عمرو بن عوف سے تعلق رکھتی تھیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے تفصیلی حالات بھی کتب میں   مذکور نہیں   ہیں  ۔

(9)نویں   بیٹے ،  سیِّدُنا عبد الرحمن اوسط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مکمل نام عبد الرحمن اوسط بن عمر بن خطاب قرشی عدوی ہے۔ آپ کی کنیت ابو شحمہ ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر مصر کے والی حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حد خمر جاری فرمائی بعد ازاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی آپ پر تعزیر فرمائی جس کے سبب آپ



[1]     عمر بن عبد العزیز  ،  ص۱۰۔

[2]     طبقات کبری ،  عمر بن عبد العزیز ،  ج۵ ،  ص۲۵۴ ،  تاریخ الخلفاء ،  ص۱۸۳۔

                حضرت سیِّدُنا  عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی سیرتِ طیبہ کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۵۹۰ صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز کی ۴۲۵ حکایات ‘‘  کا مطالعہ کیجئے۔

[3]     الایثار  ،  حرف الزاء ،  الرقم: ۷۵ ،  ج۱ ،  ص۷۹ ،  تاریخ ابن عساکر ،  ج۱۹ ،  ص۴۸۲۔



Total Pages: 349

Go To