Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ترجمانِ نبی ہم زبانِ نبی

جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں   سلام

شرح:  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم زبان ہیں   کہ کئی دفعہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ

 

 تَعَالٰی عَنْہنے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنے بغیر کوئی بات کہی اور وہ بعینہ ویسی ہی نکلی جیسا رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا تھا۔اسی طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ترجمان ہیں   کہ کوئی مسئلہ بیان فرمایا اور بعد میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے جب اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بعینہ وہی حدیث مبارکہ ملی جیسا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسئلہ بیان فرمایا تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے عدل وانصاف کی روح کو شان وشوکت حاصل ہوئی  ،  بلکہ اپنے دورِ خلافت میں   ایسا عدل وانصاف قائم فرمایا جو قیامت تک آنے والے حکمرانوں   کے لیے مشعل راہ ہے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر لاکھوں   سلام ہوں  ۔([1])

شان فاروقِ اعظم بزبان برادر اعلی حضرت

اعلی حضرت  ،  عظیم البرکت  ،  مجدددین وملت  ،  پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ اِمام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے چھوٹے بھائی استاذ زمن مولا حسن رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدح سرائی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :

نہیں   خوش بخت محتاجان عالم میں   کوئی ہم سا

ملا تقدیر سے حاجت روا فاروقِ اعظم سا

ترا رشتہ بنا شیرازہ جمعیت خاطر

پڑا تھا دفتر دین کتاب اللہ برہم سا

مراد آئی مرادیں   ملنے کی پیاری گھڑی آئی

ملا حاجت روا ہم کو در سلطان عالم سا

ترے جودو کرم کا کوئی اندازہ کرے کیوں   کر

ترا اک گدا فیض وسخاوت میں   ہے حاتم سا

خدارا مہر کر اے ذرہ پرور مہر نورانی

 

سیہ بختی سے ہے روز سیہ شب غم سا

تمہارے در سے جھولی بھر مرادیں   لے کر اٹھیں   گے

نہ کوئی بادشاہ تم سا نہ کوئی بے نوا ہم سا

فدا اے اُمّ کلثوم آپ کی تقدیر یاور کے

علی بابا ہوا دولہا ہوا فاروقِ اکرم سا

غضب میں   دشمنوں   کی جان ہے تیغ سرا افگن سے

خروج ورفض کے گھر میں   نہ کیوں   برپا ہو ماتم سا

شیاطین مضمحل ہیں   تیرے نام پاک کے ڈر سے

نکل جائے نہ کیوں   رفاض بد اطوار کا دم سا

منائیں   عید جو ذی الحجہ میں   تیری شہادت کا

الہی روز وماہ وسن انہیں   گزرے محرم سا

حسن در عالم پستی سر رفعت اگر داری

بیا فرق ارادت بر در فاروقِ اعظم سا ([2])

شان فاروقِ اعظم بزبان مفتی احمد یار خان نعیمی

مفسر شہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی مدح سرائی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :

 



[1]   سخن رضا  ،  ص۳۶۸۔

[2]   ذوق نعت ،  ص۵۵۔



Total Pages: 349

Go To